کراچی.... غلطی کی گنجائش نہیں!

کراچی.... غلطی کی گنجائش نہیں!
کراچی.... غلطی کی گنجائش نہیں!

  

کراچی کے حالات اگر کسی بڑے آپریشن کا تقاضا کر رہے ہیں تو کیا ہمیں لیت و لعل سے کام لینا چاہیے؟ آخر کیا وجہ ہے کہ حد درجہ بدامنی کے باجود ہمارے سیاسی رہنما اس مسئلے پر یک زبان نہیں ہو رہے اور ایسی کمزور تاویلیں تلاش کی جا رہی ہیں جو وقت کے تقاضوں سے لگاہی نہیں کھاتیں۔ کراچی میں ابنارمل صورت حال کو 20 سال ہو گئے ہیں۔ دو دہائی پہلے شہر کے امن کو برقرار رکھنے کے لئے رینجرز کو طلب کیا گیا تھا، لیکن پھر رینجرز کو بلانے والے بھول گئے کہ اسے وہاں بھیجنے کا مقصد کیا تھا؟ اب کراچی میں رینجرز کا اس لئے کوئی فائدہ نہیں کہ وہ بھی انہی حالات کا شکار ہو چکی ہے، جن کا شکار پولیس ہے، یہی وجہ ہے کہ کراچی کے حالات میں بہتری کی کوئی صورت پیدا نہیں ہو رہی۔ کبھی طالبان، کبھی فرقہ واریت، کبھی دہشت گردی اور کبھی سیاسی گروہی چپقلش کا نام دے کر ہم زمینی حقائق سے جان چھڑا لیتے ہیں۔ وفاقی وزیر مذہبی امور سید خورشید شاہ نے بڑی جرا¿ت مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ کہہ دیا ہے کہ ذمہ داری سے پہلوتہی کرتے ہوئے بدامنی میں غیر ملکی ہاتھ کا شوشہ چھوڑا جاتا ہے۔ چلیں! مان لیتے ہیں کہ کوئی غیر ملکی ہاتھ بھی ہو سکتا ہے، کیا اس ہاتھ کو روکنا یا کاٹنا بھی ملک کی ذمہ داری نہیں ۔ یہ ذمہ داری اگر ادا نہیں کی جا ری تو پھر اس کا فیصلہ کون کرے گا؟ کیا اسی طرح تماشہ دیکھنے کی روش جاری رہے گی۔

سینیٹ نے کراچی کو اسلحہ سے پاک کرنے کی قرارداد منظور کر لی ہے، تاہم کراچی کی ایک بڑی سیاسی جماعت ایم کیو ایم نے اس کی حمایت نہیں کی ۔ ظاہر ہے جب اس قسم کی تقسیم ہوتی ہے تو بات صرف قرارداد کی منظوری تک ہی محدود رہ جاتی ہے اور اس پر عمل درآمد کی نوبت نہیں آتی۔ معاملہ اب سنجیدہ ہے، ساری توجہ اس پر مرکوز کی جانی چاہیے، لیکن بوجوہ ایسا ہو نہیں رہا۔ ایک تو ہر بڑی سیاسی جماعت اس نکتے پر یکسو نظر آتی ہے کہ کراچی میں امن کے لئے ایک بڑا آپریشن ناگزیر ہے، حالات اب جوں کے توں نہیں چل سکتے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے کراچی میں بالکل ناکام ہو چکے ہیں۔ صرف ہاتھ پر ہاتھ دھر کے بیٹھ جانے سے اس مسئلے کا تدارک ممکن نہیں ، جو کراچی جیسے بڑے شہر کو اندر ہی اندر دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ پہلے تو اپوزیشن ہی کراچی میں آپریشن کے مطالبے کرتی تھی، اب خود پیپلز پارٹی کے اندر سے اس کے لئے آوازیں اُٹھ رہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر کراچی کے حالات پر آہنی گرفت نہ کی گئی تو وہاں الیکشن کا ہونا ناممکن ہو جائے گا اور اگر ہوں گے بھی تو ان کی شفافیت سوالیہ نشان بنی رہے گی، اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ کراچی میں مستقل امن کے لئے قانون شکنوں کے ان ٹھکانوں کو ختم کیا جائے، جہاں پولیس اور رینجرز کا جانا تک ناممکن ہو چکا ہے۔

سپریم کورٹ کراچی کے حوالے سے اپنے ازخود نوٹس کے دوران بہت سے مسائل کی نشاندہی کر چکی ہے۔ ان میں سب سے بڑا مسئلہ یہ رہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل طور پر غیر فعال ہو چکے ہیں، جبکہ وہ بڑی حد تک ان قوتوں کے مددگار بن گئے ہیں، جو کراچی کے امن کو تہہ و بالا کئے ہوئے ہیں۔ رینجرز کے بارے میں سپریم کورٹ کے ریمارکس بھی سامنے آچکے ہیں کہ پہلے بیس برسوں کے دوران رینجرز نے کراچی میں امن کے لئے کوئی کردار ادا نہیں کیا، بلکہ پولیس اور رینجرز کا دہرا نظام آ گیا، جو شہریوں کے لئے مسائل پیدا کر رہا ہے۔ مناسب رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے پولیس اور رینجرز بعض اوقات دو قوتوں کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ ایک سوال جو اب اکثر پوچھا جاتا ہے اور اس کا جواب نہیں ملتا کہ کراچی کو اصل میں چلا کون رہا ہے؟.... وزیر اعلیٰ یا گورنر، آئی جی یا رینجرز کے ڈی جی یا پھر وفاقی حکومت؟ دوسری طرف یہ سوال بھی اہمیت کا حامل ہے کہ کراچی میں ایم کیو ایم کی عملداری ہے یا اے این پی کی ، کیونکہ دونوں ہی حکومت کے علاوہ بھی اپنی بہت بڑی سیاسی طاقت رکھتی ہیں اور زندگی کے مختلف شعبوں میں ان کے گہرے اثرات موجود ہیں۔

تمام تر گنجلک صورت حال کے باوجود ایک چیز بالکل واضح ہے کہ کراچی بدامنی اور قتل و غارت گری کا شکار ہے۔ اس بات پر سب کا اتفاق ہے، مگر بدقسمتی سے اس کے تدارک پر اتفاق رائے پیدا نہیں ہو پا رہا۔ بہت سے مذاکرات ہوئے، بہت سی سیاسی چپقلش کام آتی رہیں، معاہدوں کی بارش بھی ہوئی اور ایک دوسرے کو راستہ اور کندھا دینے کا سلسلہ بھی دیکھنے میں آگیا، لیکن اس سب کچھ کے باوجود کراچی کے حالات بہتر نہیں ہو سکے۔ کوئی اگر یہ کہتا ہے کہ کراچی کا مسئلہ سیاسی ہے تو اب حالات کی سنگینی بتاتی ہے کہ اس میں کوئی سچائی نہیں ، کیونکہ اگر یہ مسئلہ سیاسی ہوتا تو کراچی کی تینوں بڑی سیاسی قوتیں تو اقتدار میں موجود ہیں۔ پیپلز پارٹی، اے این پی اور ایم کیو ایم کی کراچی کی سیاست پر تو پوری گرفت ہے، لیکن حالات پر گرفت نہیں ۔ یہ بڑی حیران کن بات ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے، جو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کراچی کا مسئلہ سیاسی انداز سے حل نہیں ہو سکتا، اس کی وجہ شاید یہ بھی ہے کہ کراچی میں سیاست کے علاوہ طاقت کے اور بھی بہت سے جزیرے قائم ہو چکے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ خود ان سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز اب ان کی دسترس میں نہ رہے ہوں۔ کراچی میں جگہ جگہ جو گینگ وار ہوتی ہے، وہ اس امر کا ثبوت ہے کہ وہاں بارود کے ڈھیر پر کھڑے ہوکر طاقت منوانے کا کلچر پروان چڑھ رہا ہے۔ جب یہ کلچر گلی کوچے تک پھیل جائے تو امن کیونکر قائم رہ سکتا ہے؟ ایک طرف قانون شکنوں کی یہ برتری ہے تو دوسری طرف سٹیٹ کے اداروں کی عدم فعالیت عوام کا منہ چڑا رہی ہے۔ ایسے میں کوئی اگر یہ خواب دیکھتا ہے کہ کراچی میں کسی غیبی امداد سے یا معجزاتی طور پر امن قائم ہو جائے گا، تو یہ اس کی معصومیت ہی نہیں ، بلکہ حماقت ہے۔ اس کے لئے اب کچھ اور چاہیے اور وہ ”کچھ اور“ ایک بڑے آپریشن کے سوا کچھ نہیں ۔

حیرت اس امر پر ہے کہ کراچی میں آپریشن کی مخالفت تو کی جاتی ہے، مگر رینجرز کی وہاں موجودگی پر اعتراض نہیں کیا جاتا، حالانکہ رینجرز بھی فوج ہی کا حصہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رینجرز کو وہاں صرف نظریہ¿ ضرورت کے تحت رکھا گیا ہے اور اسے قانون شکنوں کے خلاف کارروائی کے لئے جو فری ہینڈ ملنا چاہیے، وہ نہیں دیا گیا۔ کراچی میں طاقتور گروپوں نے اب مافیا کی شکل اختیار کر لی ہے، یہ وہ مافیاز ہیں، جو معاشرے کو یرغمال بنا لیتے ہیں۔ ایک یرغمالی معاشرے میں نہ جمہوریت پنپ سکتی ہے اور نہ قانون کی عملداری قائم ہو سکتی ہے۔ سید خورشید شاہ کی اس بات میں بہت وزن ہے کہ کراچی میں ایسا آپریشن کرنے کی ضرورت ہے کہ قانون شکن عناصر کی نسلیں بھی اسے یاد رکھیں۔ ایسا آپریشن صرف فوج ہی کر سکتی ہے۔ فوج کے نام سے نجانے ہمارے کچھ سیاسی حلقے کیوںگھبرا جاتے ہیں۔ اس کا تو کام ہی یہ ہے کہ جہاں سول حکومت کو اس کی ضرورت پڑے، وہ طلب کرے۔ فوج کو ایک واضح مینڈیٹ دے کر کراچی آپریشن کا ٹارگٹ سونپا جا سکتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور غیر جانبدار آپریشن سے کراچی کو وہ امن و امان مل سکتا ہے، جو کئی دہائیوں سے کہیں گم ہو گیا ہے۔ وقت بڑی تیزی سے گزر رہا ہے اور اس بارے میں فیصلہ جتنی تاخیر سے کیا جائے گا، اتنا ہی ہم نقصان سے دوچار ہو جائیں گے۔ ہمیں کراچی کا حل ”کل نہیں آج“ کے نظریے کی بنیاد پر ڈھونڈنا ہے، یہی آج کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔       ٭

مزید : کالم