گیس کی بھی لوڈشیڈنگ!

گیس کی بھی لوڈشیڈنگ!

حکومت بجلی کی لوڈشیڈنگ سے نبردآزما ہے کہ گیس کی قلت کے پیش نظر گیس شیڈنگ بھی شروع کردی گئی ہے۔ سوئی گیس حکام کے مطابق موسم تبدیل ہوتے ہی گیزر چلا لئے گئے یوں استعمال میں بھی اضافہ ہوا ہے جبکہ سی این جی سٹیشنوں کی بہتات اور ہر قسم کی گاڑیاں سی این جی پر منتقل ہونے سے بھی مسئلے کی شدت بڑھی ہے۔ مشیر پٹرولیم پہلے کئی بار خبر دار کر چکے تھے کہ اس سال سردیوں میں گیس کی بھی قلت ہوگی۔ ابھی سردی کی شدت میں اضافہ نہیں ہوا کہ گیس کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ اب لوگ اس پر بھی احتجاج کررہے ہیں اور اس میں مزید شدت گیس شیڈنگ بڑھنے سے بھی پیدا ہو گی۔

یہ تمام تر خرابی انتظامی ہے۔ گیس کی تقسیم کسی منصوبہ بندی کے بغیر کی گئی۔ حتیٰ کہ مری جیسے پہاڑی مقام پر بھی یہ سہولت مہیا کردی گئی ہے، جہاں سردیوں میں تو کجا گرمیوں میں بھی گیس کا استعمال زیادہ ہوتا ہے۔ اس لئے ضروری ہو گیا ہے کہ ڈاکٹر عاصم حسین کی بات غور سے سن لی جائے اور تحقیق کی جائے کہ پیداوار اور استعمال میں کتنا فرق ہے۔ پھر گیس شیڈنگ کرنا پڑتی ہے تو مساوی نظام کے تحت کی جائے ۔اس کے علاوہ گیس کی پیداوار بڑھانے کے لئے نئے ذخائر دریافت کرنے کا کام تیز کرنا چاہئے اور گیس کی درآمد کے حوالے سے بھی جلد فیصلہ ہونا چاہئے۔ گیس عام آدمی کی ضرورت ہے جسے اشرافیہ زیادہ استعمال کررہی ہے۔

بہترین حل تو یہ ہے کہ گیس کا فضول استعمال روکا جائے۔ ویگنوں ،ٹرکوں اور بسوں میں گیس کا استعمال بند کردیا جائے، نئے علاقوں میں گیس مہیا کرنا عارضی طور پر بند کر دیاجائے۔ لیکن اصل کام پھر بھی یہی ہے کہ گیس تلاش کی جائے اور ضرورت کے مطابق درآمد کی جائے۔ یہ آسان کام نہیں لیکن ناممکن نہیں ہے۔ ایران سے پائپ لائن میں تاخیرکا سلسلہ جاری ہے اسے بھی دور کیا جائے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔ اگر پھر بھی مجبوری ہو تو گیس شیڈنگ بلا امتیاز ہونا چاہئے۔          ٭

مزید : اداریہ