نئے انتخابات اور جمہوریت کی مضبوطی

نئے انتخابات اور جمہوریت کی مضبوطی

مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ وہ انتخابات کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں دیکھ رہے، انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ انتخابات منصفانہ ہوں گے اور آئینی دائرے سے باہر کوئی عبوری حکومت نہیں بنے گی، انہوں نے ان خیالات کا اظہار سینئر اخبار نویسوں کے ایک گروپ کے ساتھ اظہار خیال کرتے ہوئے کیا، دوسری جانب پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ پرامن انتخابات کے لئے سیاستدان مل بیٹھ کر ضابطہ اخلاق طے کریں، گزشتہ روز صوبہ خیبر پختونخوا کی اسمبلی کے خصوصی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ اسمبلی کا پانچ سال پورے کرنا سیاستدانوں کی سنجیدگی کا مظہر ہے ہم حقیقی جمہوریت چاہتے ہیں۔

تینوں رہنماﺅں کے ان خیالات کو ملا کر پڑھا جائے تو ان میں جمہوریت پر یقین اور منصفانہ انتخابات کے ذریعے نظام حکومت چلانے کی نہ صرف خواہشات کا اظہار ہوتا ہے بلکہ ان میں یہ عزم بھی جھلکتا ہے کہ انتخابی نظام مستحکم ہو اسی خواہش کے پیش نظرمیاں شہباز شریف نے پرامن انتخابات کے لئے جو راستہ تجویز کیا ہے وہ یہ ہے کہ مل بیٹھ کر انتخابی ضابطہ اخلاق طے کر لیا جائے۔

 موجودہ قومی اسمبلی کی مدت اٹھارہ مارچ کو پوری ہو رہی ہے اگر حکومت اپنی مدت کے آخری دن تک کام کرتی رہتی ہے اور مدت پوری ہونے پرقومی اسمبلی کو تحلیل کیا جاتا ہے تو آئین کی رو سے عام انتخابات ساٹھ دن میں کرانا ضروری ہیں۔ اور اگر وزیر اعظم اس سے پہلے قومی اسمبلی توڑ دینے کی ایڈوائس دے دیتے ہیں تو ایسی صورت میں نوے دن کے اندر انتخابات کرانا آئینی ضرورت ہے۔ دونوں ہی طریقے آئین کے مطابق ہیں۔ وزیراعظم کے پاس اسمبلی توڑنے کا اختیار ہر وقت موجود ہے۔ اس لئے یہ ا ن کی صوابدید ہے کہ وہ ایسا کرتے ہیں یا نہیں، لیکن جب اسمبلی کی مدت پوری ہو جائے تو اسے بہرحال تحلیل ہونا ہے۔

حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نواز شریف اگر انتخاب کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں دیکھتے تو یہ بڑی اچھی بات ہے دوہزار دو کے بعد یہ دوسرے انتخابات ہوں گے جو اسمبلی کی مدت پوری ہونے کے بعد انعقاد پذیر ہوں گے، ورنہ اس سے پہلے تو ہم نے انیس سو پچاسی سے لے کر انیس سو نرنوے تک پانچ اسمبلیوں کو قبل از وقت تحلیل ہوتے ہی دیکھا یہ سارا عرصہ ایک لحاظ سے جمہوریت کے لئے ابتلا کا دور تھا، پچاسی میں جو غیر جماعتی انتخابات ہوئے وہ جنرل ضیاءالحق کی اس سوچ کا نتیجہ تھے کہ ملک کے لئے غیر جماعتی انتخابات بہتر ہیں لیکن جونہی اسمبلی وجود میں آئی اس نے جماعتی رنگ روپ اختیار کرلیا۔ صدر کے نامزد وزیر اعظم محمد خان جونیجو نے اسمبلی کے اندر مسلم لیگ تشکیل دیدی اور یوں بالواسطہ طور پر جنرل ضیاءالحق کے نظام کو ہی چیلنج کر دیا اس لئے تین سال بعد اس اسمبلی کو گھر بھیج دیا گیا۔ پھر 88ءسے لے کر 97ءتک چار انتخابات ہوئے اور میاں نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو دو، دو بار وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئے لیکن ان میں سے کسی بھی اسمبلی کو مدت پوری کرنا نصیب نہ ہوا، نہ جمہوریت مستحکم ہو سکی، پس پردہ قوتیں اپنا کھیل کھیلتی رہیں کبھی ان کی ہمدردیاں ایک فریق کے ساتھ ہو جاتیں اور کبھی دوسرے کے ساتھ، غلام اسحاق خان اور میاں نواز شریف کے اختلافات اس حد تک بڑھے کہ وزیراعظم نواز شریف نے سرکاری ٹی وی پر آ کر ببانگ دہل صدر کے خلاف جوشیلی تقریر کر ڈالی جس سے اگلے ہی روز ان کی پہلی حکومت برطرف ہو گئی پھر بے نظیر بھٹو کو برسراقتدار لایاگیا، نواز شریف دوسری مرتبہ وزیراعظم بنے تو انہوں نے صدر کا اسمبلی توڑنے کا اختیار تو ختم کرا د یا لیکن اب کی بار آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے ان کی حکومت ختم کر ڈالی۔جنرل پرویزمشرف نے مارشل لاءتو نہ لگایا لیکن ان کے دور میں ایسے اقدامات ہوئے جو مارشل لاءہی کا روپ تھے اس کے بعد دوہزار دو کے الیکشن میں مسلم لیگ (ق) برسراقتدار آئی جس کے تین وزرائے اعظم نے یکے بعد دیگرے حکومت کی ، ان سارے برسوں میں حکومتیں تو آتی جاتی رہیں لیکن جمہوریت مستحکم نہ ہو سکی، اب اگر جمہوریت کا یہ ننھا پودا برگ و بار لا رہا ہے اور ایک منتخب اسمبلی دوسری مرتبہ مدت پوری کر رہی ہے تو صدر زرداری نے بجا طور پر اس کا کریڈٹ سیاستدانوں کو دیا ہے۔

اب نئے انتخابات کی آمد آمد ہے تو حالات سیاستدانوں سے زیادہ سنجیدگی کا تقاضا کرتے ہیں، اگرچہ انتخابی مہم تو جاری ہے لیکن بعض سیاستدان جن کی جماعتوں کی انتخابی کامیابی کا کوئی امکان نہیں یا جنہیں زیادہ سے زیادہ چند نشستیں ہی مل سکتی ہیں وہ انتخابات کے انعقاد کو ہی مشکوک بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور روزانہ ان کی طرف سے ایسا کوئی نہ کوئی بیان آ جاتا ہے جس میں وہ یہ گوہر افشانی کرتے ہیں کہ انتخابات ہوتے نظر نہیں آتے، یا پھر انہیں انتخابی منظر خونین نظر آتا ہے، بعض تجزیہ نگار بھی جن کے تجزیئے بالغ نظری سے عاری ہوتے ہیں۔ انتخابات میں خون خرابے کی ”پیشین گوئیاں“ کررہے ہیں، لیکن مقام مسرت ہے کہ میاں نواز شریف انتخابات کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں دیکھتے اور ایسے محسوس ہوتا ہے کہ ان کی نگاہ حالات کو درست سمت میں دیکھتی ہے اور انہوں نے آنے والے دنوں کی صحیح تصویر کشی کردی ہے صدر مملکت کی سوچ بھی مثبت ہے اور سیاستدانوں پر ان کا اعتماد یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں جمہوریت کو مضبوط دیکھ رہے ہیں۔ جمہوریت اسی طرح مضبوط ہو سکتی ہے کہ انتخابات اپنے وقت پر ہوں، منصفانہ اور شفاف ہوں، ایسے انتخابات ہی جن کی غیر جانبداری پر کوئی مخالف بھی انگلی نہ اٹھا سکے۔ جمہوریت کی مضبوطی کا باعث بن سکتے ہیں الیکشن کمیشن نے تو اپنا ضابط اخلاق بنا دیا ہے سیاستدان بھی مل بیٹھ کر اپنے لئے ضابطہ اخلاق بنا لیں تو یہ انتخابات اور بالآخر جمہوریت کے لئے ہی بہتر ہو گا،حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں۔ اگر جمہوریت مضبوط ہو گی اور سسٹم مستحکم ہو گا تو یہ ملک کے استحکام کا باعث بنے گا تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو خدشہ ہے کہ انتخابی مہم میں ان کے خلاف ذاتیات کا سہارا لیا جائیگا اور ان کی ذاتی زندگی پر حملے کئے جائیں گے، ان کا یہ خدشہ دور ہونا چاہئے اور جو ضابطہ اخلاق طے ہوا اس میں یہ واضح ہو جانا چاہئے کہ انتخابی مہم میں ذاتیات کو درمیان میں نہیں لایا جائیگا ہمارے خیال میں اس وقت بھی مختلف سیاستدانوں کے درمیان جو ذاتی نوک جھونک جاری ہے وہ بھی نا پسندیدہ ہے اورختم ہو نی چاہئے۔ تمام سیاستدانوں کو مل کر جمہوریت کی مضبوطی کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔

مزید : اداریہ