جنگ بندی کے معاہدے پردستخط نہ ہوسکے ، امریکی حمایت یافتہ یہودیوں کے حملوں میں مزید چھ فلسطینی شہید، صحافیوں کو غزہ چھوڑنے کی دھمکی

جنگ بندی کے معاہدے پردستخط نہ ہوسکے ، امریکی حمایت یافتہ یہودیوں کے حملوں ...
جنگ بندی کے معاہدے پردستخط نہ ہوسکے ، امریکی حمایت یافتہ یہودیوں کے حملوں میں مزید چھ فلسطینی شہید، صحافیوں کو غزہ چھوڑنے کی دھمکی

  

غزہ،قاہرہ،مقبوضہ بیت المقدس(مانیٹرنگ ڈیسک) غزہ پر اسرائیل کے جاری حملوں میں مزید چھ فلسطینی شہید ہوگئے ہیں جس کے بعد 31سے زائد بچوں سمیت شہادتوں کی مجموعی تعداد 142ہوگئی ہے جبکہ اب تک پانچ یہودی فوجی بھی مارے جاچکے ہیں ۔ حماس نے کہاہے کہ مصر کی طرف سے کی گئی جنگ بندی کی کوششوں کا تاحال اسرائیل نے کوئی جواب نہیں دیاجبکہ اسرائیل نے غزہ میں ہونیوالی تباہی کی رپورٹنگ کرنے پرغیر ملکی صحافیوں کو غزہ چھوڑنے کی دھمکی دیدی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق غزہ سٹی میں اسرائیل کے تازہ فضائی حملے میں دو بھائیوں سمیت مزید چھ فلسطینی شہید ہوگئے ہیں ۔رفاہ پر حملے کے دوران ایک موٹرسائیکل کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں دو بھائی احمد عابد اور خالد عابد جاں بحق ہو گئے۔ اسی علاقے میں دو الگ الگ حملوں میں مزید چار افراد جان سے گئے۔دیرالبلاہ اور نصیر سٹریٹ میں دو کاروں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں مقامی ٹی وی کے دو کیمرہ مین اور مقامی ریڈیو کے منیجر سمیت چار افراد جاں بحق ہو ئے۔قبل ازیں بھی تین میڈیا دفاترکو نشانہ بنایاگیا۔ مصر کے دار الحکومت قاہرہ سے جاری بیان میں حماس کے رہنما عزت الرشق نے کہا اسرائیل کی طرف سے ابھی تک جنگ بندی کی کوئی اطلاع نہیں ،اس لیے ہماری طرف سے ابھی پریس کانفرنس نہیں کی جائے گی، اسرائیل کے جواب کا انتظار کریں گے اور اِسی جواب کے نہ آنے کی وجہ سے ہی معاہدے پر دستخط نہیں ہوسکے۔دوسری طرف غزہ میں ہونیوالی تباہی کی کوریج پراسرائیل نے ملکی و غیر ملکی صحافیوں کو غزہ چھوڑنے کی دھمکی دیدی ہے اور حکام نے کہاہے کہ غزہ میں غیر ملکی خبر ایجنسی کے دفتر کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا ہے ۔ ملکی اور غیر ملکی صحافی علاقے سے نکل جائیںکیو نکہ غزہ اور حماس کو مزید نشانہ بنایا جائے گا ۔ادھر مصر کے صدر محمد مرسی نے کہا ہے کہ ان کو امید ہے کہ اسرائیل غزہ پر منگل کی رات تک فضائی کارروائی بند کردے گا۔ مصری صدر کا یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب غزہ کے تنازع کے حل اور علاقے میں جنگ بندی کے لیے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں جاری سفارتی کوششیں اہم مرحلے میں داخل ہوگئی ہیں۔ اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیاہے کہ غزہ پر زمینی کارروائی کو فی الحال معطل کردیا گیا ہے تاکہ سفارتی کوششوں کو جنگ بندی کرانے کا موقع دیا جائے۔ ادھر امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کے ہمراہ تل ابیب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ اسرائیل کو دفاع کے لیے ہر قدم اٹھانے کا حق ہے اور اس کے لیے ہمیں امریکہ سمیت کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ دفاع کے دوران فلسطینیوں کی ہلاکت پر افسوس ہے۔ ہیلری کلنٹن نے یہ اشارہ بھی دیا کہ جنگ بندی اس وقت تک نہیں ہوگی جب تک وہ مغربی کنارے میں فلسطینی صدر اور قاہرہ میں مصری صدر سے ملاقات نہیں کرلیتیں۔امریکی وزیر خارجہ کے برعکس ترک وزیر اعظم رجب طیب اردگان کا کہنا ہے کہ فضائی حملوں کو دفاع نہیں کہا جاسکتا۔

مزید : بین الاقوامی