کراچی میں امام بارگاہ کے قریب دو دھماکے،4 افراد جاں بحق،صحافیوں اورامدادی و سیکیورٹی اہلکار وںسمیت 15 افراد زخمی، پشاور میں تباہی ٹل گئی، 15 من بارود اور نو ہزار ڈیٹونیٹر برآمد

کراچی میں امام بارگاہ کے قریب دو دھماکے،4 افراد جاں بحق،صحافیوں اورامدادی و ...
  • کراچی میں امام بارگاہ کے قریب دو دھماکے،4 افراد جاں بحق،صحافیوں اورامدادی و سیکیورٹی اہلکار وںسمیت 15 افراد زخمی، پشاور میں تباہی ٹل گئی، 15 من بارود اور نو ہزار ڈیٹونیٹر برآمد
  • کراچی میں امام بارگاہ کے قریب دو دھماکے،4 افراد جاں بحق،صحافیوں اورامدادی و سیکیورٹی اہلکار وںسمیت 15 افراد زخمی، پشاور میں تباہی ٹل گئی، 15 من بارود اور نو ہزار ڈیٹونیٹر برآمد

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) محرم الحرام کے دوران سخت حفاظتی انتظامات کے باوجود کراچی کے علاقے اورنگی ٹاﺅن نمبر پانچ میں امام بارگاہ کے قریب دو دھماکوں میں  دھماکے میں غیر سرکاری ذرائع کے مطابق 4 افراد جاں بحق اور  پندرہ زخم ہو گئے  جن میں میڈیا ،  ،مدادی اور سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ پشاور میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھاری مقدار میں بارودی مواد قبضہ میں لے کر شہر تباہی سے بچا لیا۔ اورنگی ٹاﺅن پانچ میں ایس ایس پی آفس اور تھانے سے ملحقہ امام بارگاہ حیدر کرار کی دیوار کے ساتھ زور دار دھماکہ ہوا جس کیلئے مدادی کارروائیاں جاری تھیں کہ دوسرا دھماکہ بھی ہوگیا  جس کے نتیجے میں غیر سرکاری اطلاعات کے مطابق4 افراد جاں بحق اور15 زخمی ہو گئے۔ تاہم ڈی آئی جی جاوید اوڈھو نے  پہلے دھماکے میں صرف ایک ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کی جگہ پر کھڑا ایک رکشہ اور موٹر سائیکل کے پرخچے اڑ گئے جبکہ متعدد دکانیں تباہ ہو گئیں اور امار بارگاہ کی دیوار کو بھی نقصان پہنچا۔ جائے وقوعہ سے ملحقہ پلاٹ سے انسانی جسم کے اعضاءاکٹھے کئے گئے ہیں اور خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ اعضاءمبینہ خودکش کے ہو سکتے ہیں۔ڈی آئی جی کے مطابق ممکنہ طور پر مبینہ خودکش کسی اور جگہ کو ٹارگٹ بنانا چاہتا تھا یا پھر محض خوف پھیلانا دہشت گردوں کا مقصد تھا کیونکہ اس امام بارگاہ میں مجلس رات گئے منعقد ہوتی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے بعد ہر طرف دھواں پھیل گیا اور آواز دور دور تک سنی گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک لاش جائے وقوعہ کے قریب واقع قطر ہسپتال اور ایک عباسی شہید ہسپتال منتقل کی گئی ہے۔ ایک عینی شاہد کے مطابق موٹر سائیکل سوار سپیڈ کے ساتھ امام بارگاہ کی جانب بڑھ رہا تھا کہ راستے میں رکشے سے ٹکرا گیا جس سے زور دار دھماکہ ہوا۔ ابھی اس دھماکے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری تھیں اور کئی افراد کچھ دیر بعد شروع ہونے والی مجلس میں شرکت کیلئے آ رہے تھے کہ ٹھیک چالیس منٹ بعد  ایک اور زور دار دھماکہ ہو گیا جس کے نتیجے میں ایکسپریس نیوز کے رپورٹر  ، دنیا نیوز کی  خاتون رپورٹ،ٹیکنیش اورجیو نیوز کے کیمرہ مین سمیت متعدد صحافی، رینجرز و پولیس اہلکار اور کئی دوسرے افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو ہسپتالوں میں منتقل کردیا گیاہے۔ڈی اائی جی کے مطابق دوسرا دھماکہ ریہورٹ کنٹرول تھا جو سینمٹ کت بلاک میں نصب بم سے کیا گیا ۔

دوسری جانب پشاور پولیس نے 15 من بارود سے بھری گاڑی قبضے میں لے کر ڈرائیور کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ گاڑی رنگ روڈ پر ڈاٹسن ہزار خوانی چوک کے قریب قبضے میں لی گئی ہے۔ گاڑی سے 16 بوریوں میں بند بارود اور 9,000 ڈیٹونیٹر برآمد کئے ہیں۔ پولیس نے ڈرائیور گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ پشاور کا ہی رہائشی ہے ۔

مزید : کراچی