محرم الحرام کیلئے حفاظتی انتظامات دھرے رہ گئے ، کراچی ، کوئٹہ اور راولپنڈی میں دھماکے ، 35افراد جاں بحق ، 70سے زائدزخمی ،پشاور تباہی سے بچ گیا،منوں بارود سے بھری گاڑی پکڑی گئی

محرم الحرام کیلئے حفاظتی انتظامات دھرے رہ گئے ، کراچی ، کوئٹہ اور راولپنڈی ...
محرم الحرام کیلئے حفاظتی انتظامات دھرے رہ گئے ، کراچی ، کوئٹہ اور راولپنڈی میں دھماکے ، 35افراد جاں بحق ، 70سے زائدزخمی ،پشاور تباہی سے بچ گیا،منوں بارود سے بھری گاڑی پکڑی گئی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کراچی+ راولپنڈی +پشاور+کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک) محرم الحرام کے دوران موٹر سائیکل چلانے پر پابندی جیسے سخت حفاظتی اقدامات کے باوجود راولپنڈی اور کراچی میں دہشت گری پر قابو نہ پایا جاسکا جبکہ دہشت گردوں نے بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں سیکیورٹی اداروں پر بھی بمباری جاری رکھی جس سے  مجموعی طور پر35افراد جاں بحق اور70سے زائد زخمی ہو گئے ۔کراچی میں چالیس منٹ کے وقفے سے دو دھماکے ہوئے جن میں پانچ افراد جاں بحق اور میڈیا ، امدادی کارکنوں اور سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 18افراد زخمی ہو گئے ۔ کوئٹہ کے شہباز ٹاﺅن میںسائیکل بم دھماکے سے تین سیکیورٹی اداروں سمیت پانچ افراد جاں بحق اور بیس سے زائد زخمی ہوئے، بنوں میں پولیس موبائل پر فائرنگ سے ایس ایچ او سمیت پانچ اہلکار شہید ہوگئے   جبکہ سوات میں شانگلہ پولیس پر حملے میں ایس ایچ او سمیت تین اہلکار زخمی ہو گئے ۔ راولپنڈی میں سدھوک سیداں کے قریب مصریال روڈ پر محرام الحرام کے جلوس میں خودکش حملے میں کم از کم20افراد جاں بحق اور45 سے زائد زخمی ہو گئے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق راولپنڈی میں حساس تنصیبات کے علاقے مصریال روڈ پر ڈھوک سیداں کے قریب محرم الحرام کے جلوس میں خود کش حملے میں کم از کم دس افراد جاں بحق اور کئی عزادار زخمی ہوگئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق قصرِ شبیر سے نکلنے والے اس جلوس نے قصرِ ابو طالب پہنچنا تھا لیکن جلوس منزل کے قریب پہنچنے سے کچھ دیر قبل عزاداروں کے وسط میں دھماکہ ہوگیا ۔دھماکے کے بعد انسانی اعضاء دور دور تک بکھر گئے۔ اس دھماکے کی اطلاع ملتے ہیں راولپنڈی کے تمام ہسپتالوں میں ایمر جنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ دھماکے کے بعد بجلی بند ہو گئی جس کی وجہ سے امدادی کاموں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ۔ خود کش حملے کے بعد ایک اور دھماکے کی آواز سنی گئی تاہم یہ دھماکہ ٹرانسفارمر پھٹنے کی وجہ سے ہوا۔پاک فوج نے پورا علاقہ حصار میں لے لیا ہے۔ یہ بھی بتایا ھ گیا ہے کہ دھماکے سے قبل ممکنہ دہشت گردی کے پیشِ نظر پولیس کی جانب سے الرٹ بھی جاری کیا گیا تھا۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے ساتھ ساتھ پاک فوج نے پورا علاقے حصار میں لے لیا ہے ۔پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے سات دستی بم بھی برآمد ہوئے ہیں ۔دنیا نیوز کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا کہ دومشکوک افراد کورضاکاروں نے روکا تو ان میں سے ایک نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس سے اب تک کی اطلاعات کے مطابق ایک بچے سمیت پندرہ افراد جاں بحق اور بچوں و خواتین سمیت چالیس سے زائد زخمی ہوگئے جنہیں مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے جہاں کئی کی حالت نازک بیان کی جاتی ہے  ۔ حملہ ااوروں کی عمر بیس سے بائیس سال بیان کی گئی ہے ۔ایک حملہ آور کی ٹانگ قبضے میں لے لی گئی ہے ۔ 

دھماکے کے بعد وزاداروں کو خون دینے والوں کی قطاریں لگ گئیں جبکہ بڑی تعداد میں افراد نے ہسپتال میں احتجاج بھی کیا جس کی وجہ سے زخمیوں کے  بر وقت علاج  میں مشکلات کا سامنا بھی رہا ۔ اس موقع پر قانون نافذ کرنے والے اداروں، حکومت اور دہشت گردوں کیخلاف نعرہ بازی بھی کی گئی ۔ وزیرعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے اس واقعے پر مسلم لیگ ن کے اراکینِ اسمبلی کو فوری طور پر جائے وقعہ پر پہچنے کی ہدات کی جبکہ زخمیوں کلو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے ۔وزیراعلیٰ کی ہداہت پر ہسپتال پہنچنے والے اراکین اسمبلی مشتعل افراد کی نعرہ بازی کے باعث وہاں سے چلے گئے ۔صدر مملکت نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر رپورٹ طلب کر لی ہے اور زخمیوں کے علاج میں کسی قسم کی کسر نہ چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔

اس سے پہلے کراچی کے علاقے اورنگی ٹاو¿ن نمبر پانچ میں امام بارگاہ کے قریب دو دھماکوں میں غیر سرکاری ذرائع کے مطابق 4 افراد جاں بحق اور 15 زخمی ہو گئے جن میں میڈیا ،امدادی اور سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ پشاور میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھاری مقدار میں بارودی مواد قبضہ میں لے کر شہر تباہی سے بچا لیا۔ اورنگی ٹاو¿ن پانچ میں ایس ایس پی آفس اور تھانے سے ملحقہ امام بارگاہ حیدر کرار کی دیوار کے ساتھ زور دار دھماکہ ہوا جس کیلئے امدادی کارروائیاں جاری تھیں کہ دوسرا دھماکہ بھی ہوگیا جس کے نتیجے میں غیر سرکاری اطلاعات کے مطابق4 افراد جاں بحق اور15 زخمی ہو گئے تاہم ڈی آئی جی جاوید اوڈھو نے پہلے دھماکے میں صرف ایک ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کی جگہ پر کھڑا ایک رکشہ اور موٹر سائیکل کے پرخچے اڑ گئے جبکہ متعدد دکانیں تباہ ہو گئیں اور امام بارگاہ کی دیوار کو بھی نقصان پہنچا۔ جائے وقوعہ سے ملحقہ پلاٹ سے انسانی جسم کے اعضاءاکٹھے کئے گئے ہیں اور خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ اعضاءمبینہ خودکش کے ہو سکتے ہیں۔ڈی آئی جی کے مطابق ممکنہ طور پر مبینہ خودکش کسی اور جگہ کو ٹارگٹ بنانا چاہتا تھا یا پھر محض خوف پھیلانا دہشت گردوں کا مقصد تھا کیونکہ اس امام بارگاہ میں مجلس رات گئے منعقد ہوتی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے بعد ہر طرف دھواں پھیل گیا اور آواز دور دور تک سنی گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک لاش جائے وقوعہ کے قریب واقع قطر ہسپتال اور ایک عباسی شہید ہسپتال منتقل کی گئی ہے۔ ایک عینی شاہد کے مطابق موٹر سائیکل سوار سپیڈ کے ساتھ امام بارگاہ کی جانب بڑھ رہا تھا کہ راستے میں رکشے سے ٹکرا گیا جس سے زور دار دھماکہ ہوا۔ ابھی اس دھماکے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری تھیں اور کئی افراد کچھ دیر بعد شروع ہونے والی مجلس میں شرکت کیلئے آ رہے تھے کہ ٹھیک چالیس منٹ بعد ایک اور زور دار دھماکہ ہو گیا جس کے نتیجے میں ایکسپریس نیوز کے رپورٹر ، دنیا نیوز کی خاتون رپورٹر،ٹیکنیشن اورجیو نیوز کے کیمرہ مین سمیت متعدد صحافی، رینجرز و پولیس اہلکار اور کئی دوسرے افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو ہسپتالوں میں منتقل کردیا گیاہے۔ڈی آئی جی کے مطابق دوسرا دھماکہ ریموٹ کنٹرول تھا جو سیمنٹ کے بلاک میں نصب بم سے کیا گیا۔بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے شہباز ٹاﺅن میں دھماکے سے تین سکیورٹی اہلکاروں سمیت پانچ افرادجاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ بیس سے زائدافراد زخمی ہوگئے۔بم ایک سائیکل میںنصب کیا گیا تھا۔۔ دھماکے میں پندرہ کلو دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔دھماکے سے قانون نافذ کرنے والے ادارے کی گاڑی کو نشانہ بنایاگیا،دھماکے کی آوازیں دور دور تک سنی گئیں۔سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی ہڑتال ہونے کی وجہ سے زخمیوں کو سی ایم ایچ ہسپتال منتقل کیاگیا ۔دھماکے کے باعث متعدد گاّڑیاں تباہ ہوگئیں،چار زخمیوںکی حالت تشویشناک ہے۔ .دھماکے میں پندرہ کلو دھماکہ خیز مواد استعمال کیاگیا ۔ اس سے پہلے سوات میں شانگلہ پولیس سٹیشن کی حدود میں دھماکے سے تین پولیس اہلکار زخمی ہو گئے جنہیں ہسپتال منتقل کردیاگیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق شانگلہ پولیس سٹیشن کی حدود میں شانگلہ تھانے کی پولیس موبائل کے قریب دھماکے سے ایس ایچ اوسمیت تین اہلکارزخمی ہوگئے ۔ دھماکے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔

بنوںمیں موٹر سائیکل سواروں کی پولیس موبائل پر فائرنگ سے ایس ایچ او سمیت چار اہلکار شہید ہوگئے۔ایس ایچ او جانی خیل اپیل خان معمول کی گشت پر تھے کہ موٹر سائیکل سواروں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی جس سے ایس ایچ او تین اہلکاروں کے ساتھ موقع پر ہی شہید ہوگئے۔واضع رہے کہ جانی خیل تھانہ پر اس سے قبل خود کش حملہ بھی ہوچکا ہے جس میں دس سے زائد پولیس اہلکارشہید ہوئے تھےدوسری جانب پشاور پولیس نے 15 من بارود سے بھری گاڑی قبضے میں لے کر ڈرائیور کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ گاڑی رنگ روڈ پر ڈاٹسن ہزار خوانی چوک کے قریب قبضے میں لی گئی ہے۔ گاڑی سے 16 بوریوں میں بند بارود اور 9,000 ڈیٹونیٹر برآمد کئے ہیں۔ پولیس نے ڈرائیور گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ پشاور کا ہی رہائشی ہے۔

مزید : راولپنڈی