ٹائمنگ ایک بار پھر ناموافق

ٹائمنگ ایک بار پھر ناموافق
ٹائمنگ ایک بار پھر ناموافق

  

ٹائمنگ بلا کی غضب چیز ہے۔درست نہ ہو تو بنا بنایا کھیل بگاڑ دیتی ہے، درست ہو تو الٹی بساط سیدھی ہو جاتی ہے۔اکثر مہمات کی طرح کاروبار اور سرمایہ کاری میں بھی ٹائمنگ سے ہی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ ہو جاتا ہے۔نہایت عرق ریزی سے تیار کردہ منصوبے، کروڑوں اربوں کی سرمایہ کاری ٹائمنگ کے ہاتھوں سنگسار ہوجاتے ہیں، جبکہ دوسری صورت میں نیم دلی اور کچے پکے منصوبے ٹائمنگ کے پارس ہاتھوں کے لمس سے سونا بن جاتے ہیں۔

سوئے اتفاق کہئے یا اشارئہ غیبی، عین انہی دنوں جب مذہبی سرشاری میں شہداءکربلا کی یاد اور صبر کا سوگوار ماحول خون خرابے کی نذر ہوا، وزیراعظم بنکاک میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے فضائل کا درس دے رہے تھے۔فرائض منصبی بعض اوقات عجیب مضحکہ خیز جبر میںبھی ادا کرنا پڑتے ہیں۔ ہمیں ہمدردی ہوئی کہ جس دیس میں عین انہی دنوں جلاﺅ گھیراﺅ، مارا ماری، خانہ خرابی اور کرفیو کا راج ہو، جہاں ملکی سرمایہ سو سے زائد دکانوں میں جل کر بھسم ہو رہا ہے، جہاں اربوں روپے مالیت کا اسباب گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال کے ہاتھوں یرغمال ہو، عین انہی دنوں وزیراعظم کو اپنے ملک میں سرمایہ کاری کی فیوض و برکات سے دنیاکو قائل کرنا قرار پایا۔ عجیب ٹائمنگ تھی۔

فرقہ واریت کا عفریت اپنے پنجے کافی عرصے سے قومی وحدت میں گاڑ رہا ہے۔رواداری کی سانس پھول رہی ہے، تحمل کی نبض ڈوب ڈوب کر رواں ہوتی ہے،برداشت کا فشارِ خون حدوں سے نکل رہا ہے۔علاقائی امن و امان اور جنگی صورت حال نے ریاست اور معاشرے کا توازن تلپٹ کرکے رکھ دیا ہے۔خوش گمانی کی خواہش شدید تر ہو رہی ہے، لیکن یہ تلخ حقیقت بھی نوشتہ ءدیوار بنی رہی کہ خود احتسابی اور خود تنقیدی سے مرض کی تشخیص کی بجائے ایک بار پھر ڈھلے ڈھلائے فراری (Escapist) بہانے میں پناہ ڈھونڈی جا رہی ہے۔بیرونی ہاتھ، دشمنوں کی سازش.... بے نیازی سی بے نیازی ہے۔بلی ایک کے بعد ایک کبوتر نوچ رہی ہے،لیکن کونوں میں سہمے سہمائے کبوتر آنکھیں بند کرکے فرض کئے بیٹھے ہیں کہ وہ اب بلی کی نظروں سے محفوظ ہیں۔

مرض کے علاج کے لئے صحیح تشخیص ضروری ہے۔چار دہائیوں سے پرورش پانے والی مخصوص سوچ، مقدس دینی جذبوں کا دھڑلے سے سیاست اور اقتدار کے لئے استعمال، سٹیٹ اور نان اسٹیٹ ایکٹرمیں بھلے اور برے ”سٹرٹیجک اثاثے“، دلیل اور مکالمے کے گلے پر ضد اور طاقت کے آہنی ہاتھوں نے رواداری اور برداشت کو ٹھکانے لگا دیا ہے۔ذمہ داری سے فرار کا سدا بہار نسخہ ایک بار پھر روبہ عمل ہے۔بیرونی ہاتھ، سازشی تھیوریاں اور دشمنوں کی سازش۔ان نسخوں سے کل کوئی مرض ٹھیک ہوا نہ اب ہونے کا امکان ہے، لیکن آفرین ہے ہماری مجموعی دانش اور خود انکاری پرکہ چٹکی بجا کر دہائیوں سے پلنے والی حقیقت سے آنکھیں چرا لیں۔بھائی چارے کے بیانات کے پانی سے آگ زیر زمین دھکیلنے کی کوشش ایک بار پھر جاری ہے۔قیام کی ضرورت تھی، لیکن سجدہ سہو کرنے میں جت گئے۔عجیب ٹائمنگ ہے!

سرمایہ کاری کا یہ جانا پہچانا اصول ہے کہ جہاں مقامی سرمایہ کار متحرک ہے، بیرونی سرمایہ کاری اسی ماحول میں پنپ سکتی ہے۔معاملہ اس کے برعکس ہو تو ایسی سرمایہ کاری کانفرنسیں ”نشستند اوربر خاستند“ کے ساتھ ساتھ ایک مضحکہ خیز کھیل بن کر رہ جاتی ہیں۔ وزیراعظم کی تھائی لینڈ میں پاکستان کی مجوزہ Look Eastکی پالیسی کی تبلیغ ہو یا شہبازشریف کی دبئی، برطانیہ اور ترکی کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے ”سازگار“ فضا کا انکشاف، یہ تمام کوششیں زمینی حقائق کی ٹائمنگ سے ٹکرا کر انجام پذیر ہو جاتی ہیں۔

جولائی سے اکتوبر تک چار ماہ کے دوران پاکستان میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری (FDI)میں 12فیصد اضافہ ضرور ہوا، لیکن اکتوبر میں آنے والی سرمایہ کاری گزشتہ سال کے مقابلے میں بمشکل ایک تہائی کے لگ بھگ تھی۔مجموعی طور پر ملک میں آنے والی سرمایہ کاری کا حجم 283ملین ڈالر رہا،لیکن چار ماہ کے دوران ہونے والی اس سرمایہ کاری سے تقریباً دوگنا ،یعنی 432ملین ڈالر ز مبادلہ کے ذخائر میں سے صرف نومبر کے پہلے ہفتے میں کم ہو گئے۔گورنر اسٹیٹ بنک نے دہائی دی ہے کہ ڈالر دھڑا دھڑ باہر سمگل ہو رہا ہے۔ان کی انگلی کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے ایئرپورٹس کی طرف اٹھی ہے۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ڈالر سمگلنگ پر آہنی ہاتھ ڈالنے کا عزم ظاہر کیا ہے، لیکن عزم اور عمل میں پہلے کبھی فاصلہ حسبِ خواہش کم ہوا ہے ، شاید اس بار بھی نہیں ہو سکے گا۔داخلی سلامتی کو جس طرح کے چیلنج درپیش ہیں، اسی طرح کے چیلنج مالی سلامتی کے محاذ پر بھی درپیش ہیں۔عجیب ٹائمنگ ہے، ادھر دین و ایمان میں کھینچاتانی ہے۔اُدھر جان و دل کی بازی مات ہو رہی ہے۔

اپنی حدوں سے باہر گزشتہ دنوں دو ایسے واقعات ہوئے ہیں، جن سے پاکستانی صنعت اور تجارت فائدہ اٹھا سکتی ہے۔کئی سال کی بھاگ دوڑ کے بعد پاکستان نے یورپی یونین سے GSPپلس کا درجہ حاصل کرلیا ہے،جس کے ذریعے یورپی یونین کی منڈیوں میں ڈیوٹی فری رسائی سے پاکستانی برآمدات میں ایک ارب ڈالر سے بھی زائد کا اضافہ بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔بنگلہ دیش میں پے در پے واقعات اور ہڑتالوں کی وجہ سے گارمنٹس انڈسٹری مشکل سے دوچار ہے۔بیرونی خریدار متبادل پیداواری مراکز کی تلاش میں ہے۔پاکستان اس صورت حال سے زبردست فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ٹائمنگ تو خوب ہے، لیکن ملک کے اندر ”ٹائم“ ٹھیک نہیں ہے۔پاکستان نے گزشتہ چند دہائیوں میں کئی قیمتی مواقع ضائع کردیئے۔ہماری ٹائمنگ غلط تھی یا ٹائمنگ ہمارے موافق نہ تھی۔ماضی کی تلافی تو خدا جانے کیسے ہوتی، اب تو بچیکُھچی معیشت بھی ٹائمنگ سے مطابقت نہیں کر پا رہی۔اللہ خیر کرے۔  ٭

مزید :

کالم -