ہالینڈ کے تعاون سے دودھ کی پیداوار بڑھانے کا منصوبہ

ہالینڈ کے تعاون سے دودھ کی پیداوار بڑھانے کا منصوبہ
ہالینڈ کے تعاون سے دودھ کی پیداوار بڑھانے کا منصوبہ

  

پاکستان کا تیزی سے بڑھتا ہوا ڈیری کا شعبہ پاکستان اور ہالینڈ کے درمیان تجارت،باہمی تعاون اور ترقی کے مؤثرمواقع فراہم کر تا ہے۔پاکستان کے ساتھ مویشیوں کی تجارت کے آغاز کے ساتھ ڈچ حکومت اپنی دنیا بھر میں مانی جانے والی زرعی معلومات و ہنر پاکستان کے ساتھ شےئر کرنا باعث مسرت سمجھتی ہے۔ دنیا بھر میں سب سے زیادہ دودھ دینے والی ڈچ گائے جب پاکستان میں میسر ہو گی تو ہالینڈ پاکستان کو ہر قسم کے تعاون کے لئے تیار ہے۔ہالینڈ کسانوں کو گائے کی دیکھ بھال کرنے اور پاکستان کے ڈیری کے شعبہ کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کے لئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرواتا ہے تا کہ پاکستان بھی ان ممالک کی فہرست میں شامل ہوجائے جو ملک اپنی ضرورت کے مطابق دودھ کی پیداوار کرتے ہیں۔ دو دوست ممالک میں مویشیوں کی تجارت کے آغاز کے ساتھ اب سب پاکستان کی ضروریات اور طلب پر منحصر ہے ہالینڈ پاکستان کی ہر قسم کی مدد کے لئے تیار ہے۔

پاکستان کی دودھ کی پیداوار بے حد متاثر کن ہے، لیکن اس میں مزید اضافے کی ضرورت ہے۔پاکستان کی موجودہ دودھ کی پیداوار2ہزار لیٹر سالانہ ہے جو ڈچ گائے کے ذریعے بڑھا کر سالانہ 6ہزار سے 8 ہزار لیٹر تک کی جا سکتی ہے۔ ماہر ڈچ شعبہ ڈیری عینی ٹرپییسٹراکا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اگر حکومت پاکستان ڈیری کے شعبہ میں سرمایہ کاری کرے اور کسانوں کو ڈیری کے حوالے سے بہتر تربیت فراہم کی جائے تو اس بات میں کوئی شک نہیں کہ آنے والے وقت میں پاکستان کے ڈیری سیکٹر میں انقلاب برپا ہو جائے گا۔

عینی ٹرپیسٹرا گزشتہ دو سال میں کئی مرتبہ پاکستان میں شعبہ ڈیری کے حوالے سے مختلف پروگرام کر چکی ہیں،جن کے ذریعے کسانوں کو ڈیری کے بارے میں بہتر تربیت اور انتظامی معاملات کے حوالے سے معلومات فراہم کی گئیں۔ان کا کہنا تھا کہ ڈچ حکومت شعبہ ڈیری میں پاکستان کے ساتھ ہر قسم کے تعاون کے لئے تیار ہے اور ڈچ حکومت پاکستان کو ڈچ گائے کی صلاحیتوں کے بارے میں عملی تربیت دے گی تاکہ ڈچ گائے کی اصل صلاحیت کا اندازہ لگایا جا سکے اس سلسلے میں ہالینڈ پاکستان کو ڈیری سے متعلق انتظامی صلاحیتیں اور ضروری اشیاء فراہم کرنے کے لئے تیار ہے،جس کے ذریعے یقیناًپاکستان کے شعبہ ڈیری کے منافع میں اضافہ ہو گا۔

انہوں نے بتایا کہ ہالینڈ سالانہ 30سے35 ہزار جانوروں کی برآمد کرتا ہے،جبکہ دنیا بھر میں ڈچ گائے کی مانگ میں مزید اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور ہالینڈ کے پاس بشمول پاکستان دنیا بھر کے مویشی برآمد کرنے والے ممالک کی طلب کو پورا کرنے کے لئے مویشیوں کی وافر تعداد موجود ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈچ گائے طویل عرصے سے موذی امراض سے محفوظ ہے جس کی وجہ ڈچ حکومت کے پاس مویشیوں کی دیکھ بھال کا اعلی اور معیاری انتظام ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈچ کے مویشیوں کو ورلڈ آرگنائزیشن فور ہیلتھ اور انٹر نیشنل دیس ایپیزوتیز (OIE) جو کہ پیرس کی حکومتی آرگنائزیشن نے کسی بھی قسم کی بیماریوں سے محفوظ قرار دیا ہے۔پاکستان بھی اس آرگنائزیشن کا رکن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گائے میں پائے جانا والا مرض، جس میں گائے پاگل ہو جاتی ہے یہ مرض بھی گزشتہ کئی سال میں ڈچ گائے میں نہیں پایا گیا۔انہوں نے کہا کہ دنیا کہ ہر خطے میں ڈچ گائے کو درآمد کیا جاتا ہے، کیو نکہ ڈچ گائے ماحول کے ساتھ گھل مل جاتی ہے۔ مصر جہاں سخت گرمی پڑتی ہے اور سائبیریا اور کینیڈا جہاں انتہائی سطح کی ٹھنڈ پڑتی ہے وہاں بھی ڈچ گائے ماحول کے ساتھ گھل مل جاتی ہے اور کسی قسم کے نقصان سے محفوظ رہتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان حالیسٹن فریزن گائے کے لئے ایک محفوظ جگہ ہو گی اور صحیح انتظامات کے ذریعے ڈچ گائے پر پاکستان کے ماحول کا منفی اثر نہیں پڑے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ہالینڈ میں ایک گائے سالانہ 8,500لیٹر دودھ دیتی ہے، جبکہ کئی کسان اس تعداد کو بڑھا کر 12000لیٹر سالانہ تک لے جاتے ہیں اور یہ صرف ان کہ بہتر انتظامات کے ذریعے ممکن ہوتا ہے اور اگر فارم منیجر ماہرین کے بتائے ہوئے طریقہ کار اور اصولوں کے مطابق انتظامی معاملات چلائے تو وہ بآسانی اپنے منافع اور پیداوار کو بڑھا سکتے ہیں۔

انہوں نے فارم منیجرز کی موجود مشکلات کے بارے میں کہا کہ ڈیری فارمرز کی نوکری دنیا کی سب سے مشکل نوکریوں میں سے ایک ہے۔ فارم منیجر کو تمام ضروری امور اور انتظامی صلاحیتوں سے لیس ہونا چاہئے تا کہ وہ گائے کا بہتر حیال رکھ سکے۔انہوں نے کہا کہ منیجرز کو مویشیوں کے مسائل کو جاننے کا ہنر ہونا بہت ضروری ہے۔اگر فارم منیجر کی بہتر تربیت نہ ہوئی ہو تو وہ مویشیوں کو موجود مسائل اور صحیح وقت پر ان کے حل کا فیصلہ نہیں لے سکتا جو کہ یقیناًپیداوار اور منافع پر اثر انداز ہو گی۔

مزید : کالم