سیاسی اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟

سیاسی اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟
سیاسی اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟

  

ہیلو میرے پیارے دوستو، سنائیں کیسے ہیں، اچھے ہی ہوں گے۔ دوستو! آپ کو یہ تو معلوم ہے کہ 14اگست کے دن سے شروع ہونے والا دھرنا تاحال جاری ہے، طاہرالقادری کے دھرنا ختم کرنے کے باوجود بھی عمران خان دھرنا جاری رکھے ہوئے ہیں، 30نومبر کو عمران خان کی جماعت اسلام آباد میں دھوم دھام سے جلسہ کرنے کی تیاریاں کررہی ہے، تاہم جلسے کے حوالے سے عمران خان حکومت کو سخت الفاظ سے ہوشیار کررہے ہیں کہ 30نومبر کو کچھ بھی ہو سکتا ہے اور تو اور جس طرح سے عمران خان کے ساتھی شیخ رشید حکومت کے خلاف جگہ جگہ زہر اگلتے نظر آ رہے ہیں،عوام کو حکومت کے خلاف بغاوت پر اکسا رہے ہیں، بالکل نامناسب ہے۔یہ بھی بتاتے چلیں کہ شیخ رشید بھی کبھی نوازشریف کے ساتھی تھے اور جب تک وہ مسلم لیگ(ن) کی طرف سے الیکشن لڑتے رہے تو جیت ان کا مقدر رہی، لیکن جب انہوں نے مسلم لیگ(ن) چھوڑی ،میاں نوازشریف کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور مسلم لیگ(ن) کے خلاف الیکشن لڑا، لیکن عوام نے انہیں ٹھکرا دیا۔

مسلم لیگ(ق) کے ٹکٹ پر ہارنے کے بعد انہوں نے اپنی الگ جماعت بنا لی، پھر حالیہ عام انتخابات میں تحریک انصاف کی حمایت سے دوبارہ الیکشن جیتنے میں کامیاب ہوئے، یہ بات بھی حقیقت ہے کہ شیخ رشید متعدد بار حکومتوں میں شامل بھی رہے اور وزارتوں کے مزے بھی لوٹتے رہے ،اب ایک بار پھر شیخ رشید حکومت میں شامل ہونے کے خواہشمند ہیں، اسی لئے تو دھرنے میں عمران خان کے ہمراہ موجود ہیں۔ شیخ رشید کی کڑوی تقریروں سے عام آدمی کو بھی حیرت ہے۔خبر تھی کہ شیخ رشید کے خلاف حکومت نے بھی بھرپور قدم اٹھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔وفاقی وزیر پرویز رشید کا کہنا ہے کہ کسی گروپ کو شاہراہ دستور پر دوبارہ قبضے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔عمران خان کو گرفتار نہیں کیا جا رہا ، لیکن بدنظمی پھیلانے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے،تاہم خبر تھی کہ 30نومبر کو ریڈزون میں احتجاج کے لئے آنے والوں کو جیل بھیجنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔

جی ہاں لگتا ہے کہ اسلام آباد میں کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے۔ اسحاق ڈار نے بھی واضح کر دیا ہے کہ اگر عمران خان باز نہ آئے تو پھر کھلی جنگ ہوگی، تاہم لگتا ہے کہ اب حکومت انتہائی اقدامات اٹھانے کے لئے تیار نظر آ رہی ہے، تاہم ہمارے بہت سے دوستوں کو ہنسی آ رہی ہے کہ عمران خان کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کے پی کے حکومت کو ناکام کرنا چاہتی ہے، تاہم ہمارے بہت سے دوست کہہ رہے ہیں کہ جس صوبے کے وزیراعلیٰ کو عوام کی پروا نہ ہو اور ایسی حکومت نے تو ناکام ہی ہونا ہے کہ جس کا وزیراعلیٰ اسلام آباد میں وفاقی حکومت کے خلاف گزشتہ کئی ماہ سے دھرنا دے کر بیٹھا ہو، بہرحال اب ہم کیا کہہ سکتے ہیں ، لیکن حیران کن بات ہے کہ عمران خان نے تو حکومت کے خلاف تقریریں کرتے کرتے صحافیوں کو بھی رگڑا لگا کر گویا شہد کی مکھیوں کے چھتے میں ہاتھ مار دیا۔جی ہاں وہی صحافی جو پہلے عمران خان کے لئے آواز بلند کررہے تھے وہی اب سراپا احتجاج ہیں۔

بہت سی صحافتی تنظیموں نے عمران خان کو ثبوت فراہم کرنے کا کہا ہے ، بصورت دیگر عمران خان کے خلاف بھی احتجاج کی دھمکی دی گئی ہے۔جی ہاں صحافیوں کے خلاف تقریر کرنا عمران خان کو مہنگا پڑ گیا۔ اب لگتا ہے انہیں صحافیوں سے معافی مانگ کر اپنی جان بچانی پڑے گی، بہرحال ہمارے بہت سے دوست بھی صحافیوں کے خلاف الزامات پر عمران خان کو کوس رہے ہیں، لیکن اب کیا ہو سکتا ہے ،کیونکہ کمان سے نکلا تیر واپس نہیں ہو سکتا ،بالکل اسی طرح سے زبان سے ادا کئے گئے الفاظ بھی واپس نہیں ہو سکتے۔یہ بات بھی حقیقت ہے کہ جتنا ساتھ میڈیا نے عمران خان اور طاہر القادری کا دیا، شائد ہی کسی اور کا دیا۔گزشتہ چار ماہ سے میڈیا جس طرح سے عمران خان اور طاہرالقادری کو کوریج دے رہا ہے ، اگر وہ کوریج کسی چھوٹے سے بچے کو بھی ملی ہوتی تو یقیناًوہ بھی وزیراعظم پاکستان بننے کے خواب دیکھنا شروع کر دیتا، جس طرح سے عمران خان دیکھ رہے ہیں، بہرحال عجیب سی کشمکش جاری ہے، اسی کشمکش میں طاہر القادری بھی وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔

ہمارے بہت سے دوست ڈاکٹر طاہرالقادری کی پاکستان آمد کی خبر سن کر حیران و پریشان بھی ہیں اور یہ بھی سوچ رہے ہیں کہ اب ڈاکٹر طاہرالقادری کیا گل کھلائیں گے، تاہم یہ بات وقت ہی بتائے گا۔ بہرحال اب 30نومبر کو عمران خان اسلام آباد میں بھرپور جلسہ کرنے کا دعویٰ کررہے ہیں اور اعلانیہ حکومت کے لئے خطرے کی گھنٹی بھی بجا رہے ہیں، بہرحال دیکھنا تو یہ بھی ہے کہ 30نومبر کو کیا ہوگا۔ آیا حکومت عمران خان کو جلسے کی اجازت دے گی یا پھر تحریک انصاف کے کارکنوں سے جیل بھرو مہم کا آغاز کیا جائے گا۔۔۔ آئندہ سیاسی اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے،یہ بات بھی وقت ہی بتائے گا۔ سیانے کہتے ہیں کہ غیب اور آنے والے دنوں کا حال تو وہی جانتا ہے جو قادر مطلق ہے۔ہمارا سب کا رب ہے اسی لئے ہم صرف اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ آگے کا حال بھی اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

مزید : کالم