سمگلنگ کے نقصانات کا تخمینہ لگانے کیلئے تحقیقی کمیٹی کاقیام خوش آئند ہے،ناصر حمید

سمگلنگ کے نقصانات کا تخمینہ لگانے کیلئے تحقیقی کمیٹی کاقیام خوش آئند ...

 لاہور(کامرس رپورٹر) پاکستان آٹو موبائل سپیئرپارٹس امپورٹرز اینڈ ڈیلرز ایسوسی ایشن(پاسپیڈا) کی سینٹر ل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر ناصر حمیدخاں سابق چیئرمین اینٹی سمگلنگ کمیٹی لاہور چیمبر نے سمگلنگ سے ملکی معیشت کو نقصانا ت کا سائنسی بنیادوں پر تخمینہ لگانے کیلئے 6افراد پر مشتمل ریسرچ کمیٹی کے قیام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ نظام میں خرابیوں کو دور کرکے سمگلنگ جیسے ناسور کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے انہوں نے کہا کہ جائز طور پر سامان بیرون ملک سے منگوانے پر حکومت کی جانب سے ڈیوٹیوں کی شرح انتہائی زیادہ ہیں جس کے باعث سمگلنگ کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے سمگلنگ سے ملکی معیشت کو اربوں روپے کے نقصانات کا سامنا ہے ۔ڈیوٹی میں کمی سے سمگلنگ کی حوصلہ شکنی ہوگی اور حکومت کے ریونیو میں بھی اضافہ ہوگا۔ناصر حمید نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ تاجر برادری کو اعتماد میں لے اور ان پر اعتبار کرے اور تاجر دوست پالیسیاں لائی جائیں۔انہوں نے کہ کہ ایک انداز ے کے مطابق بیوروکریسی کی مدد سے90فیصد کسٹم ڈیوٹی چوری ہوتی ہے اور ایک سال میں صرف10فیصد ڈیوٹی حکومت کو ملتی ہے اگر کسٹم ڈیوٹی کو کم کرکے سسٹم میں اصلاحات کی جائیں تو پاکستان کو85ارب کا ریونیو حاصل ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں 39سمندری راستوں سے لانچوں کے ذریعے اربوں روپے مالیت کا سامان غیر قانونی طور پر ملک میں سمگل ہورہا ہے ان راستوں میں صرف سات کی نگرانی کی جاتی ہے جبکہ 32راستوں پر نگرانی کا کوئی انتظام نہ ہونے کے باعث سمگلنگ کا ناسور تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1