جناح ہسپتال میں ڈاکٹروں کے ہراساں کرنے پر نرسوں کی ہڑتال

جناح ہسپتال میں ڈاکٹروں کے ہراساں کرنے پر نرسوں کی ہڑتال

                                  لاہور(جنرل رپورٹر)جناح ہسپتال کی نرسوں نے آئی سی یو میں فرائض سر انجام دینے والی دو نرسوں کو ڈاکٹروں کی طرف سے ہراساں کرنے کے الزام میں گزشتہ روز ہڑتال کر دی نرسوں نے ان ڈور اور آو¿ٹ ڈور میں فرائض سرانجام دینے سے انکار کر دیاجس سے ہسپتال میں نظام درہم برہم ہو گیادوپہر کے بعد نرسیںمیڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے دفتر کے باہر جمع ہو گئیں جہاں انہوں نے دھرنا دیتے ہوئے ڈاکٹروں کیخلاف نعرے بازی کی اس موقع پر احتجاجی نرسوں نے مطالبہ کیا کہ ان کی ساتھی نرسوں فلک شہزادی اور بشرٰی کو دوران ڈیوٹی ہراساں کرنے والے آئی سی یو کے ڈاکٹروں کو معطل کر کے ان کیخلاف مقدمہ درج کرایا جائے تاہم دوپہر کے بعد پرنسپل کیطرف سے معاملے کی شفاف تحقیقات کرا کر ذمہ دار ڈاکٹروں کیخلاف کروائی کرنے کی یقین دہانی کے بعد نرسیںمنتشر ہو گئیں ۔جمعرات کی صبح جناح ہسپتال کی نرسوں نے زیر علاج مریضوں کے وارڈوں اورآو¿ٹ ڈور میں کام کرنے سے انکار کر دیا اور آو¿ٹ ڈور میں جمع ہو گئیں بعد ازاں جلوس کی شکل میں انہوں نے ہسپتال کا چکر لگایا اور نعرے بازی کی نرسوں نے سینہ کوبی کرتے ہوئے کہا کہ نرسوں کو ڈیوٹی کے دوران تحفظ حاصل نہیں کبھی مریضوں کے لواحقین اورکبھی ارکان اسمبلی اور کبھی افسران اور ساتھی ڈاکٹر ز انہیں حراساں کرتے ہیں ۔ گزشتہ رات آئی سی یومیں دوران ڈیوٹی مذکورہ دونوں نرسوں کو ڈاکٹروں نے ہراساں کیا ان سے بد تمیزی کی نازیبا الفاظ اور حرکات کی گئیں اور ایک نرس کو ایک ڈاکٹر نے تھپڑ بھی مارا۔نرسوں کا مطالبہ تھا کہ اگر ذمہ داروں کو معطل نہ کیا گیا تو وہ غیر معینہ مدت کےلئے ہڑتال کر کے ایوان وزیر اعلیٰ کیطرف مارچ کریں گی اس حوالے سے آئی سی یو کے انچار ج کا کہنا ہے کہ معاملے کی تحقیقات ہو رہی ہیں جو بھی ذمہ دار پایا گیا قانون کیمطابق سزا دی جائے گی جبکہ ڈاکٹر اصغر گجر سمیت دیگرڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ انہوں نے کسی نرس کوہراساں نہیں کیا نرسیں کام چوری کرتی ہیں اور اس سے روکا گیا تو حراساں کرنے جیسے الزامات عائد کر دیتی ہیں۔

۔

مزید : میٹروپولیٹن 1