مانگا منڈی، 3 ڈاکوؤں کی دن دہاڑے موبائل سنٹر میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ

مانگا منڈی، 3 ڈاکوؤں کی دن دہاڑے موبائل سنٹر میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ

مانگا منڈی(نمائندہ خصوصی) مانگا منڈی چوک میں دن دیہاڑے ڈی ایس پی سرکل رائیونڈ کے ریڈر ناصر علی کے بھائی کے موبائل سنٹر پرڈاکہ، رقم دینے سے انکار پرڈاکوؤں کی اندھا دھند فائرنگ۔ تفصیلات کے مطابق دن کے 2بجے کے قریب چوک مانگا منڈی تھانہ مانگا منڈی سے 600گز کے فاصلے پرمحمد عامرکی دکان مسٹر ہیلو میں ہنڈا 125 بغیر نمبر پلیٹ پر سوار3 مسلح ڈاکو داخل ہوئے اورسب کچھ حوالے کرنے کو کہا ۔انکار پر انہوں نے اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجہ میں دکان کے تمام شیشے ٹوٹ گئے اور شیشہ لگنے کی وجہ سے دوکاندار محمد عامر اور اس کاایک ملازم محمد شفیق زخمی ہو گیا ۔ڈاکو دکان سے باہر نکل کر فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہونے لگے مگر دوکانداروں اور عوام اور سِول کپڑوں میں پولیس کے 2اہلکاروں سرفراز احمد،معروف احمد نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر 2ڈاکوؤں کو اسلحہ سمیت پکڑ لیا۔ چند منٹ میں سینکڑوں دکاندار اکٹھے ہو گئے اور رسے سے باندھ کرڈاکواؤں کی خوب پٹائی کی۔ اطلاع ملنے کے باوجود تھانہ مانگا منڈی کی پولیس 30منٹ بعد موقع پر آئی جس پر سینکڑوں لوگوں نے زبردست احتجاج کیا کہ ایک ہفتہ میں مانگا منڈی میں ڈکیتی کی 3وارداتیں ہو چکی ہیں مگر پولیس وارداتوں پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔ ڈاکوؤں کو عوام نے ایک گھنٹے بعد پولیس کے حوالے کیاجبکہ تقریباً3گھنٹے بعد سرکل رائیونڈ کے ڈی ایس پی شہزاد اعوان بھی تھانہ مانگا منڈی پہنچ گئے اور تھانہ کا گیٹ بند کردیا اور کہا کہ عوام کو اندر داخل نہ ہونے دیا جائے۔ ڈکیتی کی خبر سن کر علاقہ کے سابق ایم این اے سردار کامل عمر بھی موقع پر پہنچ گئے ،انہوں نے اخبار نویسوں اور ڈی ایس پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کی لاپرواہی کی وجہ سے سب کچھ ہو رہا ہے ۔ڈی ایس پی کی یقین دہانی پر کہ ملزمان کو کیفر دار تک پہنچا جائے گا، سردار کامل عمر نے عوام کو اپنی اپنی دکانوں پر بھیج دیا ۔ڈی ایس پی نے پریس والوں کو کہا کہ آپ خبر شائع نہ کریں ،پہلے ہم انویسٹی گیشن کرلیں ۔گرفتار ہونے والے دونوں ڈاکو 35سالہ محمد یٰسین ولد ظفر ڈوگر،25سالہ اصغر علی ولد عمر دین ڈوگر آپس میں رشتہ داراور منڈی عثمان والا ضلع قصور تحصیل چونیاں کے رہائشی بتائے گئے ہیں۔تھانہ مانگا منڈی کے انچارج رمضان ڈوگر سے مقدمہ کے بارے میں رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ڈی ایس پی ابھی موجودہیں، ان کے کہنے پر مقدمہ درج کرلیا جائے گا۔

مزید : علاقائی