خادم پنجاب امدادی پیکج

خادم پنجاب امدادی پیکج
خادم پنجاب امدادی پیکج

  

1970 ء میں مشرقی پاکستان میں آنے والے سمندری طوفان کو بنگلہ دیش کے قیام کی ایک بڑی وجہ قرار دیا جاتا ہے۔ کئی دانشورو ں کا خیال ہے کہ وہ ایک ایسی قدرتی آفت تھی جس نے دنیا کا نقشہ تبدیل کر دیا۔ اس وقت حکمران اگر مشرقی پاکستان کی قدرتی آفت میں بحالی کے کاموں کے ذریعے اپنا کردار ادا کرتے تو پھر ہو سکتا ہے کہ بہت سے سیاسی طالع آزماؤں کو اس قدرتی آفت کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کا موقع نہ ملتا۔ مگر اس وقت حکمران اقتدار کی جنگ میں اتنے الجھے ہوئے تھے کہ انہیں متاثرین نظر نہ آئے اور سقوط ڈھاکہ کا مشرقی پاکستان کا سانحہ پیش آگیا۔

کہا جاتا ہے کہ دنیا میں ہر امتحان اور آفت اپنے ساتھ نئے مواقع بھی لے کر آتی ہے۔ اگر آپ اس امتحان پر پورا تریں تو پھر قدرت آپ کو نوازتی ہے۔ چند سال قبل پاکستان میں سیلاب آیاجس سے ہزار وں ایکڑوں پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔ بے شمار مویشی پانی کی نذر ہو گئے۔ لاکھوں مکانوں کو نقصان پہنچا مگر میاں شہباز شریف اس سیلاب میں متاثرین کے ساتھ ساتھ رہے۔ وہ کئی ہفتے تک مسلسل سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کرتے رہے اس دوران ان کے مخالفین نے جعلی کیمپ قائم کئے اور میڈیا میں مذاق کا نشانہ بنے ۔دوسرے صوبوں میں یہ نعرے بلند ہوئے کہ کاش ان کے وزیر اعلی بھی شہباز شریف ہوتے۔ جنوبی پنجاب کے لوگوں نے دیکھا کہ کتنی محبت سے وزیر اعلی پنجاب ان کی خدمت کر رہے ہیں اور جب انتخابات ہوئے تو لوگوں نے ان کی خدمت کا حق ادا کردیا اور جنوبی پنجاب میں مسلم لیگ (ن) نے واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔

اس سال سیلاب نے پاکستان بھر میں غیر معمولی تباہی پھیلائی۔ اس میں 286 انسانی جانوں کا ضیاع ہوا، 515افراد شدید زخمی ہوئے، 3176دیہات متاثر ہوئے، سولہ اضلاع میں تقریبا 84 ہزار مکانوں کو نقصان پہنچا اور دس لاکھ ایکڑسے زیادہ فصلوں کو نقصان پہنچا۔ 729 مویشی اس سیلاب کی نذر ہوئے۔ صوبے بھر میں ساڑھے تین لاکھ سے زائد متاثرین میں شامل تھے۔

وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف کے لئے یہ صورتحال انتہائی تشویشناک تھی۔ انہوں نے ہنگامی طور پر مختلف محکموں کو فعال کیا۔ اور ایک بڑے آپریشن کا آغازہوا۔پی ڈی ایم اے پنجاب نے فوری طور پر متاثرہ اضلاع کے ڈی سی او صاحبان کو 2 ارب 30کروڑ روپے فراہم کئے جس کے ذریعے متاثرین کو فوری امداد پہنچانے کے لئے اقدامات کئے گئے۔

صوبے بھر کے متاثرین سیلاب کے لئے خادم پنجاب امدادی پیکیج 2014 کے نام سے ایک بڑے امدادی آپریشن کا آغاز ہوا۔جس میں پہلے مرحلے میں 16ارب روپے کی خطیر رقم تقسیم کی گئی۔ اس پروگرام کے تحت جزوی متاثرہ مکان کے لئے 40 ہزار روپے اور مکمل طور پر تباہ شدہ مکان کے لئے 80 ہزار روپے ادا کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جبکہ فصلوں کے نقصان کی مد میں صرف 12.5 ایکڑ تک فی کسان ادائیگی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اب جبکہ اس امدادی پیکیج کا دوسرا مرحلہ جاری ہے تو پہلے دس روز میں ڈھائی لاکھ سیلاب متاثرین میں 8 ارب 8 کروڑ روپے تقسیم کر دیئے گئے ہیں۔ اور تادم تحریر10.46 ارب روپے بطور امداد تقسیم کئے گئے ہیں۔پنجاب میں سیلاب کے متاثرین کی بحالی اور انہیں امداد فراہم کے لئے ایک شفاف نظام وضع کیا گیا۔ ہر ضلع میں ایک سروے کرایا گیا۔ اس سروے پر مختلف عالمی اداروں نے بھی اطمینان کا اظہار کیا اور امدادکی رقم نقد دینے کی بجائے پے آرڈر کے ذریعے دی گئی۔ سیلاب متاثرین کے لئے پی ڈی ایم اے نے ایک فری ہیلپ لائن بھی قائم کی۔ وزیر اعلی پنجاب نے شفاف طریقے سے امداد کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے نہ صرف بے شمار اجلاس کئے جس میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعے متعلقہ اضلاع کے اعلی حکام کو ہدایات جاری کی گئیں۔ بلکہ انہوں نے صوبے بھر میں خود بھی بے شماردورے کئے۔ صوبے بھر میں امداد نہ صرف تقسیم ہوئی بلکہ حقیقی متاثرین میں شفاف طریقے سے تقسیم ہوتی ہوئی نظر بھی آئی۔

پنجاب میں جتنے شفاف طریقے سے سروے کیا گیا ۔ اور جس انداز سے رقوم تقسیم کی گئیں۔ اس کی مثال نہیں ملتی۔ مگر متاثرین کو چونکہ رقم مل رہی تھی ۔ ا سلئے بہت سے لوگو ں نے جعلی کلیم کئے جو بعد ازاں تصدیق کے بعد غلط ثابت ہوئے۔ ابھی تک جن اضلاع میں شکایات جمع کرائی گئیں ان میں پانچ ہزار شکایات میں سے محض دو درست پائی گئی ہیں ۔ حکومت نے اس سلسلے میں اگر چہ شفافیت کے لئے متعدد اقدامات کئے ہیں مگر جس انداز سے جعل سازی کرنے کی کوشش کی گئی۔ اسے کم از کم الفاظ میں افسوسناک ہی کہا جا سکتا ہے ۔ پاکستان میں جب سیلاب اور زلزلہ آیا تو لوگوں نے دل کھول کر متاثرین کی مدد کی۔ اور دنیا بھر کو یہ پیغام ملا کہ اہل پاکستان آزمائش کی گھڑی میں ایک دوسرے کے ساتھ ہوتے ہیں مگر حال ہی میں جو درخواست بازی کی اور جس طرح جعل سازی سے رقوم حاصل کرنے کی کوشش کی گئی وہ کافی دکھ کی بات ہے اور اس پر کسی طرح بھی فخر نہیں کیا جا سکتا۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ حکومت کی فراخدلی کو دیکھ کر بہت سے لوگوں کے دلوں میں لالچ پیدا ہوا۔ اور انہوں نے کہا کہ ہمیں امداد نہیں ملی مگر جب متعلقہ ٹیموں نے ان کے علاقوں کا دورہ کیا تو پتہ چلا کہ انہیں کسی صورت بھی امداد کا مستحق قرار نہیں دیا جا سکتا ۔بظاہر حکومت ایسے لوگوں کے خلاف کوئی بڑا قانونی اقدام کرتے ہوئے نظر نہیں آرہی تا ہم اس رجحان کو روکنا ہو گا۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں مقدمات کی تعداد میں اس لئے اضافہ ہو رہا ہے کہ ناجائز مقدمات کرنے والوں کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی۔ اس طرح جو ناجائز قبضے کرتے ہیں اور معصوم لوگوں کو مسائل کی دلدل میں پھینکتے ہیں انہیں کوئی سزانہیں ہوتی بلکہ وہ کسی نہ کسی انداز میں کچھ نہ کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔ معاشرے میں اس رجحان پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ وگرنہ چھوٹے چھوٹے جرائم کے پودوں کو تناور درخت بنتے ہوئے دیر نہیں لگتی۔

مزید : کالم