قاتلوں کی جے آئی ٹی قبول نہیں،توقیر شاہ کو زبان بند رکھنے کیلئے سفیر بنایا جا رہا ہے،طاہر القادری

قاتلوں کی جے آئی ٹی قبول نہیں،توقیر شاہ کو زبان بند رکھنے کیلئے سفیر بنایا جا ...

لاہور(سٹاف رپورٹر)پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ انقلاب کے مشن سے نہیں ہٹے ، حکمت عملی تبدیل کی، مزید دھرنا جاری رکھنا بے سود تھا، شہر شہر جاکر عوام کو جگائیں گے،بھکر کے ضمنی الیکشن میں تجرباتی طور پر حصہ لے رہے ہیں، خیبر تا کراچی اور کشمیر تا کوئٹہ جلسے اور دھرنے ہونگے، انقلابی جدوجہد سے بادشاہت اور سٹیٹس کو کا خاتمہ کر دینگے،وزیراعلیٰ سے قتل کے آرڈر لینے والے توقیر شاہ کو زبان بند رکھنے کیلئے سفیر بنایا جارہا ہے،قاتلوں کی جے آئی ٹی قبول نہیں،حاضر سروس جج کی رپورٹ پر ریٹائرڈ جج پر مشتمل ریویو کمیشن بنانا عدالت کی توہین ہے، قتل کے نامزد ملزمان وزیراعظم، وزیراعلیٰ کو گرفتار کیا جائیگا تو جعلی مقدمات میں ہم بھی گرفتاری پیش کردینگے جس نے گرفتار کرنا ہے کر لے میں کوئی چھپا ہوا نہیں۔ گولیاں کس نے چلائیں، قاتل کون ہے، سب جانتے ہیں،انصاف کا خون نہیں ہونے دینگے۔حکومت نے مذاکرات کے دوران ہمارے جتنے مطالبات کو تسلیم کیا ان سب سے منحرف ہو گئی،عدالتی رپورٹ حکمرانوں کے حق میں ہوتی تو کیا پھر بھی ریویو کمیشن بنتا؟ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لندن سے لاہور پہنچنے کے بعداپنی رہائش گاہ پر پرہجوم پریس کانفرنس کے دوران خطاب کرتے ہوئے کیا، ڈاکٹر طاہر القادری صبح ساڑھے 7 بجے ایئرپورٹ سے داتا دربار کیلئے روانہ ہوئے،5 گھنٹے کے بعد ہزاروں کارکنوں کے ہمراہ داتا دربار پہنچے جہاں انہوں نے ملکی سلامتی اور استحکام کی دعا کی اور واپسی پر اپنی رہائش گاہ پرپریس کانفرنس سے خطاب کیا، انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن نے 12 گھنٹے کی براہ راست کوریج دیکھ کر پنجاب حکومت کوسانحہ ماڈل ٹاﺅن کا ذمہ دار ٹھہرایا مزید کن ثبوتوں کی ضرورت ہے؟ 40دن کے اندر جوڈیشل رپورٹ کو پبلک کرنا قانونی تقاضہ ہے مگر حکمرانوں نے سٹے آرڈر لے کر رپورٹ کو چھپارکھا ہے، انہوں نے کہا کہ 23 جون کو جب پاکستان آیا تھا تو کارکنوں کا خون بہتا دیکھا اب انصاف کا خون ہورہا ہے،شہداءکے ورثاءکی تائید سے محروم جے آئی ٹی اور ریویو کمیشن عدل و انصاف کے مسلمہ اصولوں کے خلاف ہے، حکمرانوں سے کہا تھا خیبرپختونخوا سے کسی کو بھی سربراہ بنا لیں مگر حکومت اپنی ہر کمٹمنٹ سے بھاگی ،حکومت کے دئیے ہوئے سندھ کے ایک افسر کے نام پر ہم نے اتفاق کیا تو حکمران اس سے بھی منحرف ہو گئے ، پنجاب پولیس قاتل ہے، قاتلوں کی تفتیش کیسے مان لیں، انہوں نے کہا کہ حاضر سروس جج کی رپورٹ کے اوپر ریویو کمیشن قائم کرنا سپریم کورٹ پر حملہ کی طرز کا سانحہ ہے، فیصلہ دینے والے جج کے فیصلے پر ریویو کیلئے بھی اسی سے رجوع کیا جاتا ہے، جوڈیشل کمیشن رپورٹ میں پنجاب کے حکمرانوں کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا،وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری جس نے قتل کے احکامات جاری کیے اس کے سلطانی گواہ بننے کے خوف سے اسے جنیوا میں ڈبلیو ٹی او کے مشن میں سفیر بنایا جارہا ہے، ابھی وہ سٹاف کالج میں ٹریننگ لے رہا ہے اور اسکی ٹریننگ کی تکمیل تک یہ تقرری التواءکا شکار رکھی گئی ہے، توقیر شاہ کو او ایس ڈی بنانے کی خبر بھی جھوٹ تھی وہ حکمرانوں کے ہر اندرونی بیرونی دورے میں ان کے ساتھ ہوتا ہے، وزارت کامرس نے تجارتی سفیر کیلئے 7 نام بھیجے مگر حکمرانوں نے 8واں نام توقیر شاہ کا شامل کر دیا جسے انہی کی حکومت کے وفاقی وزیر خرم دستگیر نے مسترد کر دیا مگر یہ دونوں بھائی اسے سفیر بنانے پر بضد ہیں،انہوں نے کہا کہ ریویو کمیشن کے ذریعے قانون بدلا جارہا ہے، آئندہ کوئی جوڈیشل کمیشن رپورٹ دے گا تو حکمران فیملی فرینڈ، ریٹارئرڈ ججز اور بیوروکریٹس کے ذریعے اسے تبدیل کر دینگے، ہم انصاف کا یہ خون نہیں ہونے دینگے اور نہ ہی حکومت کو شہداءکے خون سے دھوکا کرنے دینگے، انہوں نے کہا کہ ہر ضلع میں کارکنوں پر سینکڑوں مقدمات درج کیے گئے ہیں ایک میں ضمانت ہوتی ہے تو دوسرے میں گرفتار کر لیا جاتا ہے، تحریک انصاف اور پاکستانی عوامی تحریک کے درمیان بہترین ورکنگ ریلیشن شپ ہے اختلاف کی خبروں میں صداقت نہیں

مزید : صفحہ اول