پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات کالعدم ، حافظ شاہد ندیم کو لاہور ہائیکورٹ جج مقرر کرنے کی ہدایت

پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات کالعدم ، حافظ شاہد ندیم کو لاہور ہائیکورٹ جج مقرر ...

  

                لاہور (نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے ججز کی تعیناتی کے لئے قائم پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات کالعدم کرتے ہوئے حافظ شاہد ندیم کاہلوں کو لاہور ہائی کورٹ کا جج مقرر کرنے کا حکم جاری کردیا ہے ۔مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے یہ حکم بہالپور بار ایسوسی ایشن اور چودھری عبدالغفار بھٹواکی درخواستیں منظور کرتے ہوئے جاری کیا ۔فاضل جج نے قرار دیا کہ پارلیمانی کمیٹی اورپارلیمنٹ کی کارروائی میں فرق ہے پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات کا عدالتی جائزہ لیا جاسکتا ہے اور ایسی سفارشات بلاجواز اور ٹھوس وجوہات کے بغیر ہوں تو انہیں کالعدم کیا جاسکتا ہے ۔جوڈیشل کمیشن نے 11اکتوبر 2013کو چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس عمر عطاءبندیال کی نامزدگیوں کی بنیاد پر دیگر 6افرادکے ساتھ حافظ شاہد ندیم کاہلوں کو لاہور ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج مقرر کرنے کی سفارش کی تھی ۔تاہم پارلیمانی کمیٹی نے مبینہ طور پر اس بناءپر شاہد ندیم کاہلوں کا نام مسترد کردیا تھا کہ وہ حافظ قرآن ہیں جس پر مذکورہ درخواستیں دائر کی گئیں ،درخواست گزاروں کا موقف تھا کہ حافظ شاہد ندیم کاہلوں کو حافظ قرآن ہونے کی بنیاد پر مسترد کرنے سے کمیٹی کے تعصبانہ رویہ کا اظہار ہوتا ہے ۔انہیں بغیر کسی ٹھوس وجہ کے جج کے منصب سے محروم رکھا گیا ۔گزشتہ روز دوران سماعت فاضل عدالت نے قرار دیا ہے کہ آئین کے تحت ہر شہری کو معلومات تک رسائی کا حق ہے، جب ملک میں جمہوریت ہے تو پھر کسی چیز کا چھپانا کیسا۔ درخواست گزاروں کے وکلاءنے موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے آچکے ہیں کہ پارلیمانی کمیٹی کو جوڈیشل کمیشن کی سفارشات مسترد کرنے کا اختیار نہیں ہے لیکن اس کے باوجود پارلیمانی کمیٹی نے سفارشات مسترد کیں ،وفاقی حکومت کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا کہ آئین کے تحت پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے اور اسے جوڈیشل کمیشن کی سفارشات مسترد کرنے کااختیار حاصل ہے جس پر جسٹس سید منصورعلی شاہ نے قرار دیا کہ وہ ذاتی طور پر اس نقطے سے متفق ہیں کہ آئین کے تحت پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے مگر وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے پابند ہیں کہ پارلیمانی کمیٹی کی کارروائی اورپارلیمان کی کارروائی دو الگ چیزیں ہیں ۔وفاقی حکومت کے وکلاءنے کہا کہ حافظ شاہد ندیم کاہلوں جوڈیشل کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی کی میٹنگز کی دستاویزا ت حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے جس پر عدالت نے قرار دیا کہ اس ملک میں جمہوریت ہے ، آئین کے تحت ہر شہری کو معلومات تک رسائی کا حق ہے ، جب اس ملک میں جمہوریت ہے تو پھر کسی چیز کو عوام سے چھپانا کیوں ہے ۔ عدالت نے دونوں طرف سے دلائل سننے کے بعد پارلیمانی کمیٹی کی طرف سے حافظ شاہد ندیم کاہلوں کا نام مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم کرتے ہوئے وزارت قانون کو ہدایت کی بہاولپور سے تعلق رکھنے والے حافظ شاہد ندیم کاہلوں کو ہائیکورٹ کا جج تعینات کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے ۔

 پارلیمانی کمیٹی

مزید :

صفحہ آخر -