دودوست، دونوں ضدی اور انا پرست اب آمنے سامنے

دودوست، دونوں ضدی اور انا پرست اب آمنے سامنے
دودوست، دونوں ضدی اور انا پرست اب آمنے سامنے

  

 تجزیہ : چودھری خادم حسین

دونوں ہی خوددار ہیں، انا پرست اور ضدی ہیں، دونوں ایچی سونین اور دوست ہیں کہ کالج میں کرکٹ بھی کھیلتے رہے اور اب یہی دونوں آمنے سامنے ہیں، وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان دیر بعد بولے اور اپنی روایت کے مطابق خوب بولے، دلائل سے بات کی اور سیاسی حکمت عملی پر مبنی بات کی۔ 30نومبر کو اسلام آباد میں تحریک انصاف کے جلسہ کے لئے سہولت بھی دے رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ انتباہ بھی کیا کہ سب کچھ آئین ، قانون اور قواعد کے مطابق ہوگا۔ تحریک انصاف کو انتظامیہ کے ساتھ طریق کار اور جلسے کا مقام بھی طے کرنا ہوگا۔

عمران خان سے اسی جواب کی توقع تھی کہ چودھری نثار کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں۔ جلسہ اور احتجاج ہمارا جمہوری حق ہے اور ہم ضرور کریں گے۔ تحریک انصاف کی طرف سے واضح کیا گیا کہ جلسہ تو ڈی چوک ہی میں ہوگا، مگر چودھری نثار کا موڈ مختلف ہے، اگرچہ حکومت نے کوئی نیا قانون لانے سے گریز کرلیا لیکن یہ فیصلہ برقرار رہے کہ جلسہ شاہراہ دستور پر نہیں ہوگا، عمران خان نے لوگوں کو دعوت دی کہ وہ باہر نکلیں اور کسی رکاوٹ کو برداشت نہیں کیا جائے گا ۔

اس صورت حال کی روشنی میں عوام عمران خان کی طرف سے بدھ کے خطاب کی روشنی میں کئی وسوسوں کا اظہار کررہے ہیں، عمران خان کہتے ہیں کہ اگر رکاوٹ ڈالی گئی تو پندرہ روز بعد پھر آجائیں گے۔ پھر روکا گیا تو پھر آئیں گے اور اسی طرح ہوتا رہے گا۔ ویسے انہوں نے حکومت کو اب پھر ایک سال دیا اور لوگوں سے یہ بھی کہا کہ اگر وہ باہر نہ نکلے تو یہ پانچ سال پورے کرجائیں گے۔ یہ صورت حال سخت قسم کی محاذ آرائی کا تاثر دیتی ہے تاہم اب تک کی اطلاعات کے مطابق حکومت اس مسئلہ کو ہر صورت پر امن طریقے سے حل کرنا چاہتی ہے اور یہی بہتر بھی ہے۔ اگرچہ عمران خان کے ارادوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے قول کے مطابق دھرنا ختم نہیں کرنا چاہتے، کنٹینریہیں رہے گا اور بیرونی دباﺅ بڑھایا جائے گا لیکن حکومت شاید اب مزید برداشت کرنے پر تیار نہیں، اسی لئے چودھری نثار بولے ہیں اور ان کے بولنے کی کئی قسم کی تشریح کی جارہی ہے۔

دوسری طرف عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری واپس آگئے ہیں اور عوامی تحریک اور انتظامیہ کے درمیان تعاون کی وجہ سے انہوں نے ائر پورٹ سے مزار داتا گنج بخش ؒ تک جلوس بھی نکال لیا اور خوب خوب گفتگو بھی کرلی، باتیں وہی ہیں جو چھپ بھی چکی ہیںاور بار بار تقریروں میں دہرائی بھی جاچکی ہیں، مشترکہ تفتیشی ٹیم پر اختلاف جاری ہے، چودھری نثار یہ یقین بھی دلا چکے ہیں کہ اس مسئلہ پر متعلقہ حضرات ڈاکٹر طاہر القادری سے بات کرکے تحفظات دور کریں گے جو دونوں طرف ہیں، ویسے آثار بتاتے ہیں کہ سمجھوتہ ہو جائے گا اور باہمی رضامندی والی ٹیم بہتر نتائج دے گی اور 17جون کے سانحہ والی سازش بے نقاب ہو گی اور اصل ملزم بھی سامنے آجائیں گے اور ذمہ داروں کا بھی تعین ہوجائے گا، یہ ملک وقوم کے لئے بہت بہتر عمل ہوگا۔

تحریک انصاف آج (جمعہ ) لاڑکانہ سے دس کلو میٹر باہر مورچہ لگائے گی۔ اس سے پہلے سندھ اسمبلی قرار داد مذمت منظور کرچکی اور سینئر وزیر نثار کھوڑو نے بہت جذباتی تقریر بھی کی کہ وہ خود بھی لاڑکانوی ہیں، اطلاعات کے مطابق عمران خان کی آڑ میں ہر وہ گروہ اور طبقہ اس جلسے کی کامیابی کے لئے تعاون کررہا ہے جو بھٹوز، زرداری اور پیپلزپارٹی کے کسی نہ کسی حوالے سے خلاف ہے۔ بہرحال سندھ حکومت نے سیکیورٹی کی ذمہ داری لی ہے۔ یقین کرنا چاہئے کہ کوئی ناخوشگوار واقعہ نہیں ہوگا اور ہونا بھی نہیں چاہئے۔

آج (جمعہ) ہی جماعت اسلامی بھی مینار پاکستان کے زیر سایہ اڑان بھرنے جارہی ہے۔ سہ روز اجتماع شروع ہورہا ہے جس کے لئے بھرپور تیاریاں کی گئیں، پنڈال بھی اچھا اور مدعوئین بھی بہت ہیں اسے ایک بڑا ”ایونٹ “ بنانے کی بھرپور جدوجہد کی گئی ہے، اس سے جماعت اسلامی کو بہرطورپر بہت فائدہ ملے گا۔ بڑی بات تو یہ ہے کہ ایک منظم جماعت کا تاثر ابھرے گا اور یہی مقصد بھی ہے۔

مزید : تجزیہ