غداری کیس، پرویز مشرف کی درخواست منظور، سابق وزیراعظم ، چیف جسٹس کو بھی فریق بنانے کی ہدایت

غداری کیس، پرویز مشرف کی درخواست منظور، سابق وزیراعظم ، چیف جسٹس کو بھی فریق ...
غداری کیس، پرویز مشرف کی درخواست منظور، سابق وزیراعظم ، چیف جسٹس کو بھی فریق بنانے کی ہدایت

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) غداری کیس کی سماعت کرنیوالی خصوصی عدالت نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی درخواست منظو رکرتے ہوئے شریک ملزمان کیخلاف کارروائی کی ہدایت کردی ۔

جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں خصوصی عدالت کے تین رکنی بینچ نے 31اکتوبر کو محفوظ کیاگیافیصلہ سنادیا۔ عدالت نے اپنے عبوری حکم میںبتایاکہ بینچ نے اکثریت رائے سے مشرف کی درخواست جزوی طورپر منظور کرلی ہے جس کے مطابق سابق وزیراعظم شوکت عزیز، سابق وزیرقانون زاہد حامد اور سابق چیف جسٹس عبدالحمید کو بھی شامل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔جسٹس فیصل عرب نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے بتایاکہ جسٹس یاورعلی نے فیصلے پر اختلافی نوٹ بھی تحریر کیاہے ۔

اختلافی نوٹ میں جسٹس یاورعلی نے لکھاکہ پرویز مشرف نے تین نومبر 2007ءکی ایمرجنسی خود لگائی تھی جس کا اُنہوں نے اعتراف بھی کیا تاہم اس نوٹ کا غداری کیس کے حتمی فیصلے پر اثرنہیںہوگا۔ عدالت نے ہدایت کی ہے کہ تینوں شخصیات کے بیانات قلمبند کیے جائیں اور وفاقی حکومت کو اِن شخصیات کے نام شامل کرکے 15دن میں نیاچالان جمع کرانے کی ہدایت کردی ۔

یادرہے کہ پرویز مشرف نے درخواست کی تھی کہ دیگر شریک افراد کے خلاف بھی غداری کا مقدمہ چلایاجائے یا پھر اُنہیں بھی بری کردیاجائے کیونکہ وہ اس سارے معاملے میں اکیلے نہیں تھے،ایمرجنسی لگانا فراد واحد کا کام نہیں ۔

بعدازاں پرویز مشرف کے وکیل فیصل چوہدری نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے بتایاکہ عدالت نے آج ایک تاریخی فیصلہ دیاہے اور حکم دیاہے کہ سابق وزیراعظم شوکت عزیز اور سابق چیف جسٹس کے نام بھی شامل کریں اور چالان میں ترمیم کرکے 15دن کے اندر دوبارہ جمع کرائیں ۔ ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے بتایاکہ عدالت نے جو نام مناسب سمجھے ، اُنہیں شامل کرنے کی ہدایت کردی ۔ اُنہوں نے بتایاکہ ججوں کو ہٹانے میں دولوگ شامل تھے ۔

مزید : قومی /Headlines