ترقی کے ثمرات

ترقی کے ثمرات
ترقی کے ثمرات

  

مارے شرمندگی کے میرا برا حال تھا ۔ دھول مٹی ٹریفک کا بے ہنگم اژدھام اور ان کا آلودہ دھواں سماعت کو روح تک چیر دینے والے ہارنوں کا شور اور سڑکوں پر جابجا کھدے ہوئے گڑھوں سے پڑنے والے جھٹکوں نے میرے ہم سفروں کی حالت پتلی کردی تھی ۔جی چاہ رہا تھاسڑک کے کسی گڑھے میں کود کر اپنا منہ چھپالوں۔ ’’یار‘‘ کسی صاف ستھری سڑک پر نہیں چل سکتے میں نے غصہ سے اپنے ایک دوست چوہدری خلیق الرحمن ایڈووکیٹ سے کہا۔ غوری صاحب کہاں سے جاؤں ان لوگوں نے تو پورا شجاع آباد کھود ڈالاہے۔ اس نے میونسپل کمیٹی شجاع آباد کے ارباب حل وعقد کی شان میں قصیدہ گوئی کرتے ہوئے کہا ۔ادھر میرے ہم سفر مسلسل مجھے تضحیک آمیزمسکراہٹ سے دیکھے جارہے تھے۔ یہ 2012ء کا قصہ ہے ۔ آغا خان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن ڈیولپمنٹ نے پرائمری تعلیم پر ایک ٹریننگ پروگرام کا انعقاد کراچی میں کیاتھا جس میں پاکستا ن کے علاوہ افریقی ممالک میں آغا خان ایجوکیشن سروس سے وابستہ اساتذہ بھی شریک تھے ۔

اوپر بیان کردہ کیفیت کا شکار میں اس وقت ہوا تھا جب میں چند افریقی اساتذہ کو کراچی سے ایئرلائن کے ذریعے ملتان ایئر پورٹ سے اپنے آبائی شہر شجا ع آبادگھمانے اور دکھانے لایا تھا۔ بدقسمتی سے ایک دن قبل ہی ان اساتذہ کے ساتھ پاکستان اور افریقی ممالک کی ترقی کے موازنے کی گرماگرم بحث ہوگئی تھی۔ میں نے شجا ع آباد کو ایک تاریخی اور فن تعمیر کا ایک شاہکار پاکستان کے چند تاریخی اور ترقی یافتہ شہروں کا ہم پلہ قرار دیا تھااور اس بات کو ثابت کرنے میں اپنی ساری طلاقتِ لسانی خرچ کرڈالی تھی دوران گفتگو افریقہ کے شہروں کو جدید دور کے گاؤں قرار دیتے ہوئے ان کے شہروں کا مذاق اڑایا تھا، مگر اب نواب شجا ع خاں کے آباد کردہ اس شہر کی حالت زار خود میرا تمسخر اڑ ارہی تھی۔ اچانک میری ہم سفر سونیا کنول بولی واقعی کل تم نے سچ کہا تھا کہ شجا ع آباد ایک تاریخی اور ثقافتی ورثہ ہے ۔ اس اعتبار سے نیروبی اور کمپارا کے شہروں کے ساتھ اس کا کوئی موازنہ نہیں ہے۔ کل تمہیں ہماری بد قسمتی پر افسوس ہورہا تھا کہ ہم شجا ع آباد کے باسی نہیں ہیں، مگر آج تمہارے شہر کی حالت زار دیکھ کر ہمیں اپنی بدقسمتی پر رشک آرہا ہے۔

سونیا نے کل کا سار احساب چند جملوں میں بے باک کر ڈالاتھا۔ اس وقت زندگی میں پہلی بار میں نے اپنی ذات کے دائرے سے باہر نکل کر سوچا تھا مجھے شہر شجاع آباد کے سیاسی ٹھیکیدار وں پر غصہ آرہا تھاجو پسماندہ گلی کوچوں سے اٹھے تھے شجاع آباد کی حق تلفی کا رونا رو یاتھااور اختیار ات ملنے کی صورت میں شجاع آباد کو لندن پیرس بنانے کا دعویٰ کیا تھا شجاع آباد والوں نے بھی اپنی پوری توانائی ان پر خرچ کی تھی لیکن یہ لوگ شجاع آباد کو لندن اور پیرس تو نہ بناسکے البتہ اپنے خوبصورت محلات او ر وسیع جائیداد بنانے میں کامیاب رہے ۔ا س دور میں شجاع آباد کا شمار بیروت اور نگار اگو وغیرہ کے ساتھ ہونے لگا تھا بدامنی ، قتل وغارت ، بدمعاشی ،ظلم کی انتہا ، عصمت فروشی ، منشیات ، چوری ، ڈکیتی ، رشوت اور دیہی علاقوں میں کسی غریب کسان کی جان ومال محفوظ نہیں تھا۔ اب تک میں محض تماشائی کی طرح اسے اجڑتے دیکھ رہا تھا ،مگر اس وقت میری ہم سفر سونیا کے چند جملوں نے میری ساری حساسیت کو جھنجوڑ کر رکھ دیا تھا۔پاکستان کے اس پوٹیشنل رکھنے والے شہر کو منظم منصوبہ بندی کے تحت تباہ کرنے کی سازش میرے سامنے عیاں ہوگئی تھی۔

رانا شوکت حیات نون کے صاحبزادے رانا اعجاز احمد نون شجاع آباد والوں کی دعاؤں کا ثمر ہی تو ہیں یا یوں کہہ لیجیے شجاع آباد کے حق میں اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ایک نوجوان سیاست کے کھلاڑی کو جب 2013ء کے انتخابات میں صوبائی اسمبلی کے ممبر کا بار امانت ملا تو اس نے خدا اور مخلوق خد اکو گواہ بنا کر کر شہر کی تعمیر وترقی کے لئے چند وعدے کئے تب اس کے وعدے دیوانے کا خواب معلوم ہوتے تھے ،مگر دیکھتے ہی دیکھتے اس کے خواب تعبیر کے روپ میں ڈھلنے لگے اندھیری شکستہ سڑکیں ہموار او ر روشن راستوں میں تبدیل ہوگئیں ٹریفک جام کا عذاب دینے والے چور اہے اور بائی پاس کی تعمیر سے رواں دواں ہونے لگے۔ نئے تعلیمی اداروں کے قیام نے شہر میں ایک خاموش تعلیمی انقلاب برپا کردیا ۔ صحت مرکز کے قیام نے اسے درد دل رکھنے والوں کا در د آشنا بنا دیا ۔ نوجوانوں کے لئے کینال ریسٹ ہاؤس جیسے بھوت بنگلے کو خوب صورت پارک میں تبدیل کردیا ۔ یہ محض تعمیر وترقی نہیں ہے، بلکہ اس شہر کو سنوارنے کے عمل نے عوام کی نفسیات پر بھی گہرا اثر ڈالا ہے آج کا نوجوان طبقہ رانا اعجاز احمد نون پر اعتماد کرتا ہے ۔

پاکستان کا معاشرہ آج قحط الر جال کا شکار ہے۔ شعبہ سیاست کا ہو یا خدمت کا دونوں پر پیشہ ور افراد غالب آچکے ہیں ۔ افراد ہوں یا فلاحی اور رفاہی ادارے سب پر منافع کمانے کی ہوس غالب آچکی ہے ایسے میں اس شخص نے کہا میرا کچھ نہیں ہے۔ سب آپ کا ہے میری ذمہ داری محض یہ ہے کہ میں آپ کا پیسہ ایمانداری، خدا خوفی اور جواب دہی کے احساس کے ساتھ آپ تک لوٹاؤں ۔ لوگ ہنستے تھے وہ اسے سیاست کی تماش گاہ کا نیا مداری سمجھتے تھے، مگر دھن کا پکا یہ شخص خاموشی سے اپنے کام میں مصروف ہوجاتا ہے۔ پھر کام بول اٹھتا ہے اب شہر کے گلی کوچے ناامیدی اور سیاست کے بجائے دل میں ایک خوشی سی بھر دیتے ہیں لوگوں کا رجحان سیاست اور خدمت پر دوبارہ بحال ہونے لگا ہے ۔ رانا اعجاز احمد نون اگر صوبائی پارلیمانی امور نمٹانے کے لئے لاہو میں ہوتے ہیں تو ان کے والد رانا شوکت حیات نو ن اپنے شہریوں کی خد مت کے لئے ہمہ وقت ڈیرے پر موجود رہتے ہیں جنہوں نے اپنی بہترین پر فارمنس کے ذریعے شجاع آباد کے عوام کے دل جیت لئے ہیں ۔ اب بس میں عارضی ہم سفروں سے بات چیت ہو یا تقریبات میں میل ملاپ گفتگو کا ایک حصہ ضرور شجاع آباد کی تعمیر وترقی کے بارے میں ہوتا ہے اب لوگ اپنے کل کے بارے میں پر امید نظر آتے ہیں ۔

مزید :

کالم -