شیخ محمد سلیم اور پاک ترک گول میز کانفرنس

شیخ محمد سلیم اور پاک ترک گول میز کانفرنس
شیخ محمد سلیم اور پاک ترک گول میز کانفرنس

  



لاہور چیمبر آف کانفرنس ایک دن میں اتنی ترقی کر کے پاکستان کا ممتاز چیمبر نہیں بنا، بلکہ لاہور چیمبر نے آہستہ آہستہ ترقی کے مراحل طے کئے ہیں اور اس ترقی میں ہر صدر اور اس کی ٹیم کا بہت اہم کردار رہا ہے، چند روز پہلے لاہور چیمبر کے سابق صدر شیخ محمد سلیم کا انتقال ہو گیا۔ اس موقع پر چیمبر کے تمام سابقہ صدور اور اہم رہنماؤں نے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر اور شیخ محمد سلیم کے ہونہار شاگرد افتخار علی ملک نے مرحوم کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا اور کہا ’’شیخ محمد سلیم جیسے عظیم انسان روز روز پیدا نہیں ہوتے۔ ان کے جانے کے بعد قیادت کا ایک خلا پیدا ہو گیا جو پُر ہوتا ہوا نظر نہیں آتا،کیونکہ بغیر کسی لالچ کے کسی ادارے کو بلندی کی طرف لے کر جانا آسان کام نہیں ہے۔ شیخ محمد سلیم نے لاہور چیمبر کی توسیع اور اس کی نئی بلڈنگ کی تعمیر میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ چیمبر کے انتخابات میں بہت برسوں تک چیف الیکشن کمشنر کے فرائض انتہائی احسن طریقے سے انجام دیتے رہے۔ قانون اور آئین پر چلتے تھے، بے شک وہ فاؤنڈر گروپ کے بہت اچھے اور بڑے لیڈر تھے،لیکن کبھی انہوں نے انتخابات کے موقع پر فاؤنڈر گروپ کو ناجائز فائدے پہنچانے کی کوشش نہیں کی۔ اپنے گروپ کے علاوہ مخالفوں کو بھی ساتھ لے کر چلتے تھے، یہی سبب ہے کہ ان کے سیاسی مخالف بھی ان کی قائدانہ صلاحیتوں کے معترف ہیں۔ شیخ سلیم کا سب سے بڑا کمال یہ تھا کہ وہ اپنے علم اور تجربے سے دوسروں کو بھرپور فائدہ پہنچاتے تھے۔ مجھے فخر ہے کہ انہوں نے مجھے چیمبر کی سیاست کے داؤ پیچ سکھائے، ٹیلی ویژن پر میرے انٹرویو اور کوریج کو دیکھ کر فخریہ کہتے تھے کہ افتخار ملک میرا ہونہار شاگرد ہے اور اس کی ترقی دیکھ کر دِل سے دُعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے مخالفوں سے بچائے اور بزنس کمیونٹی کی زیادہ سے زیادہ خدمت کرنے کا حوصلہ دے،کیونکہ بغیر لالچ کسی کمیونٹی کی خدمت کرنا کوئی چھوٹا کام نہیں ہے۔ انسان صرف اس وقت عزت حاصل کرتا ہے، جب وہ اپنی کمیونٹی کی بے لوث خدمت کرتا ہے۔

ویسے یہ عجیب اتفاق ہے کہ لاہور چیمبر کی قیادت میں فاؤنڈر گروپ نے بہت سے بے لوث لیڈر پیدا کئے۔ شیخ ممتاز شہزادہ عالم منوں، صلاح الدین، میاں تجمل، شیخ وحید، ممتاز حمید، مشتاق احمد، قیوم بھٹی اور چودھری نذر کے علاوہ زندوں میں سے میاں شہباز شریف، محمد اسحاق ڈار، طارق حمید وغیرہ کی خدمات بھی حیرت انگیز ہیں۔۔۔ترک وزیراعظم کی پاکستان آمد اور اسلام آباد میں بزنس گول میز کانفرنس کا تجزیہ کرتے ہوئے بزنس لیڈر افتخار علی ملک نے بتایا: ’’یہ کوئی معمول کی بزنس میٹنگ نہیں تھی،بلکہ اس اہم میٹنگ کے اثرات مستقبل میں پاکستان کی معیشت پر بہت مثبت نظر آئیں گے‘‘۔ ایک وقت تھا جب ترکی کی معیشت سست تھی اور ترکی کو انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے علاوہ دوسرے عالمی اداروں سے قرضے لینے پڑتے تھے،لیکن موجودہ ترک صدر طیب اردوان نے اپنی معیشت کا تجزیہ کیا تو خامیوں کا علم ہو گیا، ایک بہتر معاشی ٹیم تشکیل دی اور دُنیا کے تجربات سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے نہ صرف ترکی کو ہر قسم کے قرضوں سے بے نیاز کر دیا، بلکہ ترکی کو معاشی طور پر ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کے لئے دن رات ایک کر دیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس وقت ترکی تیزی سے معاشی ترقی کے مراحل طے کر رہا ہے۔

پہلے ترکی کی خواہش تھی کہ وہ یورپی یونین میں شامل ہو جائے اور اِس مقصد کے لئے باقاعدہ مذاکرات جاری رہے اور ترکی مختلف مراحل کامیابی سے طے کرتا گیا، لیکن صرف ترکی کے مسلمان مُلک ہونے کی وجہ سے اور مسلمانوں کا کھلم کھلا ساتھ دینے کی وجہ سے آثار نظر آ رہے تھے کہ یورپی یونین کی قیادت ترکی کو آسانی سے ممبر نہیں بننے دے گی،لیکن ترکی کو بھی اس کی پروا نہیں ہے اور اس نے بھی تہیہ کر لیا ہے کہ ترک عوام کی خوشحالی اور معاشی ترقی کے لئے اپنے ہی ماڈل کو استعمال کرے گا۔ پاکستان کی صورتِ حال بھی پہلے ترکی کی معیشت جیسی تھی،لیکن صرف تین سال میں پاکستان کی معیشت اِس قابل ہو گئی ہے کہ دُنیا کے تمام مالیاتی ادارے پاکستان کی معاشی ترقی کی مثالیں دے رہے ہیں، بزنس گول میز کانفرنس میں جہاں2017ء تک پاک ترک آزاد تجارت کے معاہدے کو حتمی شکل دینے کی بات ہوئی تو دوسری طرف پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے ترک صدر اور بزنس کمیونٹی کو دعوت دی ہے کہ وہ سی پیک کا حصہ بنیں، یقینی بات ہے کہ ترکی کو بھی اس اہم منصوبے کی اہمیت کا علم ہے،اِس لئے ترکی اس پیشکش کا مثبت جواب دے گا۔پاک ترک بزنس کانفرنس کی کامیابی کے بعد اب فیڈریشن اور چیمبرز کے علاوہ دوسری تجارتی تنظیموں نے بھی فیصلہ کیا ہے کہ وہ ترکی کے ساتھ باہمی تجارت میں اضافہ کر کے اسے سالانہ ایک ارب ڈالر تک پہنچا دیں گے۔

مزید : کالم