ایک واقعہ، ایک سبق ماؤں کے لئے

ایک واقعہ، ایک سبق ماؤں کے لئے
 ایک واقعہ، ایک سبق ماؤں کے لئے

  



اس سال حج کی سعادت کیلئے رابطہ عالم اسلا می کی دعوت پر ایک وفد پاکستا ن سے بھی گیا تھا جس میں تمام مسا لک کے بڑے بڑے عالم دین اس وفد میں شامل تھے جن کیلئے منیٰ میں ہی رابطہ عالم اسلا می کی بلڈنگ میں قیام وطعام کا بندو بست کیا گیا تھا ۔ ہمارے بہت محتر م دوست حافظ مولا نا عبدالغفا ر روپڑی صاحب جماعت اہلِ حدیث پاکستان کی نمائندگی کررہے تھے ، ان کے امام کعبہ ڈاکٹر عبدالرحمن السد یس سے بھی گہرے مراسم ہیں ، اُن سے ملا قاتیں بھی رہیں ، اور ان ملا قاتوں کے دوران انہوں نے ایک واقعہ سنایا جس میں ماؤں کیلئے ایک سبق پنہاں ہے۔

ایک لڑکا تھا ، اس کی عمر یہی کوئی نو دس بر س ہوگی ، وہ بھی اپنی عمر کے لڑکوں کی طرح شریر تھا ، بلکہ شاید اس سے کچھ زیادہ ہی ۔یہ وہ دورتھا جب نہ آ ج کی طرح بجلی کے پنکھے ، نہ گیس کے چولہے ، گھر بھی مٹی کے ، چولہا بھی مٹی کا ہوا کرتا تھا ، اور نہ اس زمانہ میں دولت تھی ماں نے اپنے مہمانوں کیلئے کھا نا تیار کیا، یہ لڑکا بھی قریب ہی دوستوں کے ہمراہ کھیل رہا تھا ، ماں نے جیسے ہی سالن تیار کیا، بچے نے شرارت سے اس سالن میں مٹی ڈال دی ۔اب آپ خود ہی اس ما ں کی مشکل کا اندازہ کرسکتے ہیں ، غصے کا آنا بھی فطری عمل تھا ۔غصہ سے بھری ماں نے صر ف اتنا کہا کہ " جا تجھے اللہ کعبہ کا امام بنا دے ۔اتنا سنا کر ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس رو پڑے اور کہنے لگے ، آپ جانتے ہیں کہ یہ شریر لڑکا کون تھا ؟ پھر خو د ہی جواب دیتے ہیں وہ شریر لڑکا " میں " تھا جسے آج دنیا دیکھتی ہے کہ وہ کعبہ کا امام بنا ہو ا ہے ۔

ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس کسی بھی تعارف کے محتاج نہیں ہیں ۔2010 تک کے عالمی سروے رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ امام کعبہ عبدالرحمن السدیس اس وقت پوری دنیا کے مسلمانوں کی مقبو ل ترین شخصیت ہیں ۔اللہ نے اُن کو دنیا کی سب سے بڑی سعادت عطا کی کہ اپنے گھر کا امام بنادیا ، اب نہ صرف وہ امام کعبہ ہیں بلکہ حرمین کی نگران کمیٹی کے صدر اور امام الائمہ ہیں ۔ ڈاکٹر صا حب نے یہ واقع کئی با ر سنایا اورسناتے ہوئے ہی جذباتی ہوجاتے ہیں ۔انہوں نے یہ واقعہ سنا کر دنیا بھر کی مسلمان ماؤں کی توجہ دلا ئی ہے کہ وہ اولا د کے معاملے میں ذرا دھیا ن دیں، اور غصہ یا جذبات سے مغلوب ہو کر اپنی اولا د کو بُرا بھلا نہ کہہ بیٹھیں ۔کیونکہ ماؤں کے ہونٹوں کی " ہلکی سی جنبش " اولا د کا نصیب لکھ دیتی ہے ۔توجہ طلب با ت یہ ہے کہ ہمارے معاشرہ میں والدین بالخصو ص مائیں اولا د کی غلطی پر ان کو بُرا بھلا کہہ دیتی ہیں ، حالانکہ ان کیلئے ہدایت اور صالح بننے کی دعا کرنی چاہئے۔

آپ سب یادرکھئے کہ ایمان اورصحت کے بعد اس دنیا کی سب سے بڑی نعمت اولا د ہے ۔حتیٰ کہ قرآ ن پاک میں اولا د کو " آنکھوں کا قرار " قرار کہا گیا ہے ، زندگی کی رونق مال یا مکان خوبصورت لباس سے نہیں ہے بلکہ زندگی کی تمام تر بہاریں اور رونقیں اولا د کے دم سے وابستہ ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ حضر ت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت ذکریہ علیہ السلام جیسے جلیل القدر پیغمبروں نے نبوت کی سعا دت ملنے کے باوجود اللہ سے اولا د ہی مانگی تھی ۔لہٰذا ہر عورت کا جو ماں ہے فر ض بنتا ہے کہ اپنے بچوں کی قدر کریں اور ہمیشہ ان کیلئے دعا کرتی رہیں ۔بچے تو بچے ہی ہواکر تے ہیں ، وہ شرارت نہ کریں تو کیا بوڑھے شرارت کرینگے کبھی بچو ں کی شرارت سے تنگ آکر ان کو بُرا بھلا مت کہیں ، کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں پچھتا نا پڑے ۔اللہ کے نبی ﷺ نے بھی اس سے منع کیا ہے اہم یہاں حدیث کا مفہوم ذکر کرر ہے ہیں۔اپنے لئے اپنے بچوں کیلئے ، اپنے ماتحت لوگوں کیلئے اللہ سے کبھی بُری یا غلط دعا نہ مانگو ،ہوسکتا ہے کہ جب تم ایسا کر رہے ہو ، وہ وقت دعاؤں کی قبولیت کا وقت ہو ۔

ما ں باپ کے منہ سے نکلے ہوئے جملے کبھی کبھی اولا د کا مقدر لکھ دیتے ہیں ۔اسی لیے حضرت علیؓ فرمایا کرتے تھے کہ اپنی اولا د کو عزت دو ، اور ان کی قدر کرو، کیونکہ وہ تمہارے بعد تمہارا نشان بن جاتے ہیں یعنی والدین کی وفا ت کے بعد اولا د کے دم سے ان کا نام باقی رہتا ہے ۔امام کعبہ کا یہ واقعہ مسلمانوں کیلئے اور مسلم معاشرہ کیلئے ایک نسخہ کیمیا ہے ، اور اس پر عمل کرنا بھی کوئی مشکل کا م نہیں ہے ۔ اچھی فصل بو کر اچھا پھل لینے کی توقع کی جاسکتی ہے ۔ہم سب کو اس پر کا ر بند رہنے کی کوشش کر نی چاہیے ۔جزا ک اللہ ۔

مزید : کالم