لاہور میں ٹریفک جام

لاہور میں ٹریفک جام
لاہور میں ٹریفک جام

  



اخبار میں خبر تھی کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے اداروں کے سربراہوں کو سرزنش کی کہ انڈر پاسز اور ہیڈ پلوں کے باوجود گھنٹوں کے حساب سے ٹریفک کیوں جام رہتی ہے میرے خیال میں وزیر اعلیٰ پنجاب کو بتانے کی کسی نے جرات نہیں کی ہو گی کہ جناب سگنل فری منصوبہ مزنگ چونگی سے لے کر کلمہ چوک فیروز پور روڈ تک بہت ہی ناکام منصوبہ ہے عوام کو پہلے سے بہت زیادہ پرابلم ہو گئی ہے۔۔۔ (ایک بجے دوپہر کے بعد سڑک پر آکر دیکھ لیں) صرف ٹریفک وارڈنوں کے لئے آسانی ہو گئی ہے تمام یوٹرن پر وہ آسانی سے گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو روک کر چالانوں کا ہدف پورا کر لیتے ہیں جو ان کو ملا ہوتا ہے باقی وقت یہ وارڈن فل آرام کرتے ہیں دوسری گزارش یہ ہے کہ لاہور شہر کے تمام مسائل کا حل حکومت وقت کے ساتھ منسلک ہوتا ہے اگر صرف لاہور شہر میں ٹریفک اور جلسے جلوسوں کا مسئلہ حل کر لیا جائے تو لاہور میں رہنے والے دفتروں، سکولوں، یونیورسٹیوں اور آنے جانے والوں کو کچھ نہ کچھ سکون ضرور مل سکتا ہے۔

مال روڈ کی ٹریفک اور تاجروں کے کاروبار کا تعلق سارے لاہور شہر کے ساتھ منسلک ہے! اگر مال روڈ کی ٹریفک جام ہو جائے یا مال روڈ پر کوئی بھی مسئلہ ہو تو سارا شہر لاہور مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے کئی عشروں سے لاہور شہر اس گھمبیر مسئلے کا شکار ہے لیکن کسی بھی حکمران، گورنر وزیر اعلیٰ نے اس طرف توجہ دینے کی زحمت گوارہ نہیں کی اس مسئلے کا حل بڑا آسان ہے کسی بھی شہر کو ملانے کے لئے موٹر وے سے کم خرچ اور ضروری منصوبے ہیں اگر ان پر غور کیا جائے۔ خاص حکم اور آرڈر کے ذریعے صوبے کے تمام شہروں سے تجاوزات کو فوری ختم کیا جائے تمام شہروں کی شاہراہوں اور فٹ پاتھوں کو تجاوزات سے خالی کیا جائے۔ سنا ہے لاہور پنجاب کا دل ہے یہاں سے جو ہوا یا تحریک اٹھتی ہے وہ سارے پنجاب میں پھیل جاتی ہے تو پھر کیوں ناں سب سے پہلے لاہور شہر سے بغیر کسی کا لحاظ اور سفارش کے تجاوزات کو ختم کرنے کا اعلان کیا جائے اور اس میں کسی بھی سفارش یا مصلحت کو تسلیم نہ کیا جائے۔

پرانی بات ہے جنرل موسیٰ نے ایک ہی رات میں لاہور سے بدمعاشی کا خاتمہ کیا تھا اور سابق گورنر میاں اظہر نے بطور لارڈ میئر ایک حکم سے لاہو رسے تجاوزات کا خاتمہ کر دیا تھا لاہور کے عوام کو یاد ہے اگر صرف لاہور سے تجاوزات کو ختم کرنے کا اعلان کیا جائے تو پھر وزیراعلیٰ کو اداروں کے سربراہوں کی سرزنش کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہو گی اس وقت لاہور شہر کی تمام سڑکیں اور فٹ پاتھ نیلام ہو چکے ہیں دوکانوں سے زیادہ فٹ پاتھوں اور سڑکوں سے آمدن ہے۔ کتنی ستم ظریفی ہے تمام با اختیار لوگ سڑکوں پر سفر کرتے ہیں بازاروں میں جاتے ہیں اگر بڑے بڑے افسران شاپنگ نہیں کرتے تو ان کے رشتہ دار تو ہیں وہ تو لاہور میں آنکھیں اور کان کھول کر زندگی گزار رہے ہیں۔ لاہور کی سڑکیں بے شک آبادی کے لحاظ سے ناکافی ہیں کیونکہ یونیورسٹیوں، سکولوں، کالجوں کی تعداد ہزاروں میں ہو چکی ہے تمام بڑی بڑی شاہراہوں پر کالج ہیں یونیورسٹیاں ہیں رہائشی علاقوں میں سکولوں کی بھرمار ہے اور چھٹی کے اوقات میں گھنٹوں کے حساب سے ٹریفک جام ہوتا ہے سب سے آسان حل ہے کہ حکومت وقت کے کرتا دھرتا کسی کی سفارش نہ مانیں تجاوزات کو ختم کروانے کا اعلان کریں کچھ سکون ہوگا اس کے علاوہ مال روڈ سے اسمبلی ہال کی بلڈنگ کو لاہور سے ملتان روڈ شیخوپورہ روڈ، گوجرانوالہ کی طرف شفٹ کرنے کا منصوبہ فوری بنائیں رائے ونڈ کا نہیں لکھا چونکہ ادھر پہلے ہی بہت رش ہے ۔اسمبلی ہال کی بلڈنگ یہاں سے شفٹ ہونے سے جلسے جلوسوں کا ادھر آنا بند ہوگا اور اسمبلی ہال شفٹ ہونے سے وزیروں کے لئے بھی آسانیاں پیدا ہو جائیں گی گورنر ہاؤس کو چھوٹا کر دیا جائے تو بہت اچھا ہو گا۔

غیر ملکی قرضوں پر چلنے والے غریب اور مقروض ملک کے حکمرانوں کو اس طرح کے بڑے گورنر ہاؤس میں رہنا زیب نہیں دیتا مگر ادھار پر عیش و عشرت کرنے والے حکمران کیوں اس طرف دھیان دیں گے؟ مال روڈ پر اسمبلی ہال، گورنر ہاؤس یا ایچی سن کالج بہت پرانے وقت کی ضروریات تھیں اس وقت لاہور کی آبادی شاید چند لاکھ ہو گی اب لاہور کی آبادی ایک کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے اس لئے موجودہ وقت اور حالات کے مطابق مال روڈ کو خالی کرنے کا وقت ہے اسمبلی ہال کے ساتھ ساتھ جی او آر ون کو بھی جہاں ایک گھر کئی کئی کنالوں پر محیط ہے لاہور سے باہر دس دس مرلوں کے گھروں میں تعمیر کیا جائے بڑے بڑے آفیسروں کے لئے کلب علیحدہ ہیں ہوٹل علیحدہ ہیں رہائشیوں کے لئے دس دس مرلے کے گھر چھوٹے نہیں ہیں کئی کئی کنالوں کے گھر دورِ غلامی کی نشانیاں ہیں بے شک ہم جن کی غلامی کی زندگی گزارتے تھے اب ان سے قرضے لے کر زندگی گزار رہے ہیں لیکن غلامی کی نشانیاں ختم کرنے میں کیا قباحت ہے پہلی قسط میں مال روڈ سے اسمبلی ہال ، جی او آر اور وزیر اعلیٰ کے دفتر کو شفٹ کرنا وقت کی ضرورت ہے اس کے بعد مشیروں اور وزیروں کے لئے بھی لاہور سے باہر دس دس مرلے کے گھر تعمیر کئے جائیں لاہور میں سکون ہو جائے گا اور مال روڈ پر ہڑتالوں اور جلوسوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اس طرح مال روڈ کے دکانداروں اور تاجروں کا کاروبار بھی چل سکے گا اور عوم کو بھی پریشانیوں سے چھٹکارا مل جائے گا۔ اگر اربوں کے سرمائے سے پاکستان میں موٹر ویز بن سکتی ہیں، تو چند مہینوں میں یا ایک سال میں اسمبلی ہال کی بلڈنگ تیار کروانا کون سا مشکل کام ہے مال روڈ پر چند مشہور بلڈنگز پاکستان کے وجود میں آنے سے کئی سال پہلے تعمیر کی گئی ہوں گی۔

موجودہ حالات میں جبکہ ہر طرف دہشت گردی کے واقعات نے حکمرانوں اور عوام کو پریشان کر رکھا ہے اسمبلی ہال کو بھی جیل خانہ بنا کر رکھ دیا ہے بڑی مدت کے بعد اس طرف جانا ہوا میں نے ریلوے اسٹیشن جانا تھا سوچا پرانے راستے سے چلتے ہیں ایجرٹن روڈ پر دیواریں کھڑی کر دی گئی ہیں اسمبلی ہال کے آگے پیچھے بھی قلعہ نما پوزیشن بن چکی ہے یعنی اس جگہ عوام کے نمائندوں کو قطعی طور پر عوام سے دور رکھنے کا بندوبست کر دیا گیا ہے چند حکومتی نمائندے کبھی کبھی اعلان فرماتے ہیں کہ ہم دہشت گردوں سے ڈرنے والے نہیں لیکن خود اپنے عوام کو بھی دہشت گرد سمجھتے ہیں جس طرح ایجرٹن روڈ کو بند کر دیا گیا ہے، اگر یہی صورت حال رہی تو اسمبلی ہال کے اردگرد دوسری سڑکیں بھی بند کر دی جائیں گی۔ عوام کا اللہ ہی محافظ ہے ان کے عوامی نمائندوں اور بڑے بڑے افسروں کی حفاظت اور سلامتی ضروری ہے۔ بہر حال مال روڈ سے ملحقہ علاقے کو اگر جلوسوں سے چھٹکارہ دلانا ہے تو اسمبلی ہال اور جی او آر (دفتر وزیر اعلیٰ) کو یہاں سے فوری طور پر کسی کھلے علاقے میں شفٹ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے گر گورنر ہاؤس کو بھی کسی دوسری جگہ تعمیر کروا دیا جائے تو یہ بھی پاکستانی عوام کی خوش قسمتی ہے ہو گی، اگر مقروض قوم کا گورنر ایکڑوں میں پھیلے ہوئے ایک عظیم محل میں رہائش پذیر ہو یہ بھی ندامت والی بات ہے اس لئے مقروض قوم کے گورنر کو سادہ سی رہائش گاہ میں رہائش پذیر ہونا چاہئے تاکہ قرضہ دینے والے ملکوں کے سربراہ بھی یہ سمجھیں کہ پاکستان کے حکمرانوں کو اپنے مقروض عوام کا خیال ہے لیکن یہ ہے بہت مشکل چونکہ پاکستان کے موجودہ حکمران قرضوں سے پاکستان کے چند لوگوں کو لگژری سہولتیں فراہم کرنے پر کمر بستہ ہیں جب تک غیر ملکی بینکوں سے قرضے مشکل شرح سود پر ملتے رہیں گے حکمران پاکستان اور پاکستانی عوام کو مقروض کرتے رہیں گے۔

مزید : کالم