مسئلہ کشمیر کے حل میں عالمی طاقتوں کا کردار

مسئلہ کشمیر کے حل میں عالمی طاقتوں کا کردار

آزاد کشمیر کے صدر مسعود خان نے مسئلہ کشمیر کو عالمی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دو طرفہ مذاکراتی عمل سے حل نہیں ہو سکتا، شملہ معاہدے کے بعد سے اب تک بھارت مذاکرات کی میز پر آتا ہے نہ ہی اس مسئلے کے حل میں اس نے کبھی کوئی سنجیدگی ظاہر کی، لہٰذا وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری اپنا دباؤ بروئے کار لاتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے آگے بڑھے اور اس کی بنیاد اقوام متحدہ کی قراردادیں بنائی جائیں۔ صدر مسعود خان نے مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال پر عالمی برادری کی بے حسی کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ سویلین آبادی کو ٹارگٹ کرنا اقوام متحدہ اور ہیومن رائٹس کمیشن کے چارٹر کی سراسر خلاف ورزی ہے، بھارت اپنے جارحانہ طرز عمل سے خطے میں امن و استحکام پر اثر انداز ہو رہا ہے پاکستان کی بہادر مسلح افواج کنٹرول لائن پر بھارت کی کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں لیکن ایسے کسی جواب کے ساتھ یہ بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ لائن آف کنٹرول کے دوسری طرف بھی کشمیری مسلمان آباد ہیں۔ پاکستان نے مقبوضہ وادی میں جاری بھارتی ظلم و جبر اور انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں پر عالمی اداروں کو آگاہ کیا اور باور کرایا کہ مذکورہ صورتِ حال کا نوٹس نہ لیا جانا ہیومن رائٹس کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔ لہٰذا س خاموشی کو توڑا جائے کیونکہ جنوبی ایشیا میں امن صرف مسئلہ کشمیر کے پائیدار اور منصفانہ حل کے ساتھ ہی مشروط ہے۔

آزاد کشمیر کے صدر نے بالکل درست نشاندہی کی ہے کہ بھارت نے شملہ معاہدے کے بعد کبھی پاکستان کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات نہیں کئے، ٹریک ریکارڈ تو یہی بتاتا ہے کہ اس طویل عرصے کے دوران کشمیر کے مسئلے پر بھارت نے سنجیدہ مذاکرات اول تو سرے سے کئے ہی نہیں۔ اور اگر کبھی ایسی صورتِ حال پیش آ گئی کہ اسے مجبوراً مذاکرات کی میز پر بیٹھنا پڑا تو چند نشستوں کے بعد ہی یہ سلسلہ موقوف کر دیا اور پھر برسوں تک یہ منقطع ہی رہا آپ جامع مذاکرات کی پوری تاریخ کو کھنگال لیجئے ہر مرحلے پر آپ کو بھارت کا طرزِ عمل یکساں ہی ملے گا۔ جب کبھی مذاکرات شروع ہوئے بھارت نے ایجنڈے پر سرفہرست ایسے موضوعات رکھے جن میں اسے زیادہ دلچسپی تھی۔ تجارت وغیرہ کا توازن چونکہ ہمیشہ ہی بھارت کے حق میں رہا ہے اس لئے بھارت یہ کوشش کرتا رہتا ہے کہ پاکستان اس کا تجارتی سامان خریدتا رہے اور باقی باتوں کو بھول کر صرف تجارت کے فروغ کی بات کرے لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ بھارت نے خود ہی سارک کانفرنس کو بھی موثر ادارہ بنانے میں کردار ادا نہیں کیا جو رکن ملکوں کی اقتصادی بہتری کے لئے ہی بنایا گیا ہے اور اس کے کوئی سیاسی اہداف ہرگز نہیں ہیں لیکن بھارت نے اس معاشی تنظیم کو بھی اپنے سیاسی مقاصد کے لئے یرغمال بنائے رکھا اس وجہ سے بہت سی سارک کانفرنسیں ملتوی ہوتی رہیں۔ ماہِ رواں میں بھی سارک سربراہ کانفرنس پاکستان میں ہونا تھی لیکن نہ صرف خود بھارت نے اس میں شرکت سے انکار کیا بلکہ خطے کے چند دوسرے ملکوں کو بھی اس سلسلے میں اپنا ہمنوا بنا لیا۔ ایسے میں یہ تنظیم علاقائی ترقی میں کیا کردار ادا کر سکتی ہے؟

جہاں تک کشمیر کا تعلق ہے اس مسئلے پر مذاکرات سے تو وہ ہمیشہ الرجک رہا کبھی اس نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ یہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اس لئے اس پر مذاکرات نہیں ہو سکتے اور اگر کبھی حالات کے دباؤ کے تحت مذاکرات کئے بھی تو چند نشستوں کے بعد یہ بھی ختم کر ڈالے، ایسے میں صدر مسعود خان کا یہ خیال تو اہمیت کا حامل ہے کہ باہمی مذاکرات سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا تو پھر سوال یہ ہے کہ آخر اس پیچیدہ مسئلے کا حل کیا ہے؟ کشمیر عالمی مسئلہ ہے اور آج تک اقوامِ متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہے لیکن بھارت اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی پیش کشوں کو بھی ٹھکرا چکا ہے اور ثالثی یا مصالحت پر بھی آمادہ نہیں ہوا۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ عالمی برادری کا کردار کس طرح موثر ہو سکتا ہے کہ بھارت ایک تو مذاکرات کی میز پر بیٹھے اور پھر نیک نیتی کے ساتھ اس مسئلے کے منصفانہ اور کشمیریوں کے جذبات سے مطابقت رکھنے والے حل پرآمادہ بھی ہو۔ بھارت کا وطیرہ یہ ہے کہ اگر کسی عالمی فورم پر کشمیر کی بات ہوتی ہے تو وہ فوراً اسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دے دیتا ہے اور اگر اس سلسلے میں عالمی ادارے کی مداخلت کا حوالہ آئے تو شملہ معاہدے کی دہائی دینے لگتا ہے حالانکہ شملہ معاہدے کے باوجود کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جایا جا سکتا ہے۔

جب ایسی صورت حال میں آزاد کشمیر کے صدر کے خیال میں دونوں ملکوں کے مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر کا حل ممکن نہیں تو پھر عالمی برادری کو اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے متحرک کرنا چاہئے۔ خصوصاً بڑی طاقتوں کے ساتھ سفارتی روابط کے ذریعے انہیں اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرنے پر قائل کرنے کی کوشش کی جائے کیونکہ اب تک امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک ہمیشہ یہی کہتے چلے آ رہے ہیں کہ پاکستان اور بھارت اپنے تنازعات باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔ ان طاقتوں کو یہ بات سمجھانے کی ضرورت ہے کہ باہمی مذاکرات میں یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ عظیم دوست ملک چین بھی بات چیت پر زور دیتا رہتا ہے ایسے میں اور کون سی عالمی طاقتیں ہیں جو اس مسئلے میں مداخلت کر کے اسے کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کرانے میں کردار ادا کر سکتی ہیں ۔ابھی تین روز قبل ہی ترکی کے صدر طیب اردوان بھی پاکستانی پارلیمینٹ سے خطاب کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل کی ضرورت پر زور دے چکے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی برادری کو اپنا کردار ادا کرنے پر آمادہ کرنے کے لئے پاکستان کوئی مربوط حکمت عملی تیار کرے جس سے کام لے کر دنیا کو اس کی ذمے داریاں یاد دلائی جا سکیں۔جو ممالک بنیادی انسانی حقوق کے علمبردار ہیں، ایسے ممالک اور عالمی تنظیمیں محض نعرہ بازی سے کام نہ لیں، بلکہ بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے عملی ثبوت بھی دیں۔ مسئلہ کشمیر عالمی برادری کے لئے ’’ٹیسٹ کیس‘‘ ہے۔ یہ مسئلہ خود بھارت اقوام متحدہ میں لے کر گیا اور بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے عالمی برادری کے روبرو وعدہ کیا تھا کہ کشمیریوں کو ان کا جائز حق، خود ارادیت دیا جائیگا تاکہ وہ فیصلہ کرسکیں کہ وہ کس ملک (پاکستان یا بھارت) کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ بھارت نے نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد بھی کشمیریوں کو حق خود ارادیت نہیں دیا، بلکہ جب کبھی مقبوضہ کشمیر میں نہتے اور مظلوم کشمیری حق آزادی کے بارے میں مطالبہ کرتے ہیں تو بھارتی فوجی مسلسل کرفیو نافذ کرکے انہیں پیلٹ گنوں سے چھلنی کرتے ہیں، علاج کی سہولتیں نہ دے کر اور کشمیری قائدین کو جیل میں ڈال کر یا گھروں میں مسلسل نظر بند کرکے تحریک آزادی سے باز رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن بھارتی حکمرانوں کو اپنے مقصد میں کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔ ان حالات میں عالمی برادری کو آگے بڑھ کر حق اور انصاف کے لئے اپنا کردار بھرپور انداز میں ادا کرنا چاہئے۔ بظاہر تو اس وقت عالمی طاقتیں کشمیر پر کسی فوری کردار کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس لئے بہتر یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں اٹھایا جائے اور عالمی ادارے کو یاد دلایا جائے کہ وہ اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کروا کر اس پون صدی پرانے مسئلے کو حل کرے۔

مزید : اداریہ