عمران خان کو سیاست نہیںآتی

عمران خان کو سیاست نہیںآتی
 عمران خان کو سیاست نہیںآتی

  



پاکستانیوں کو تحریک انصاف کی شکل میں ایک ایسی اپوزیشن جماعت سے واسطہ پڑ گیا ہے جو حکومت کو کمزور کرنے کے بجائے ہر چھ ماہ بعد مزید مضبوط کردیتی ہے۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہوگا کہ کوئی حکومت اپنے اقتدار کے آخری سال میں بھی اس قدر مضبوط نظر آرہی ہو سپریم کورٹ اگرچہ وزیر اعظم کے خلاف مقدمہ سن تو رہی ہے مگر وہ تحریک انصاف کو اس لئے کچھ نہیں کہہ رہی کہیں اس سے حکومت اور شیر نہ ہوجائے گی جبکہ حکومت کو بہت کچھ کہنا چاہتی ہے لیکن نہیں کہہ پارہی کہ اپوزیشن ایک انتہائی بودا دعویٰ لے کر اس کے حضور پیش ہوئی ہے۔ جب حکومت کو 2013کے انتخابات کے حوالے سے دھاندلی کے الزام کا سامنا تھا تب بھی پاکستان تحریک انصاف نے ایسے ہی بودے پن کا مظاہرہ کیا تھا بجائے اس کے کہ وہ ساری اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلتی ، سولو فلائیٹ کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے احاطے میں جا گری جہاں سے جوڈیشل کمیشن نے گھر کی راہ دکھادی تھی ۔ اس مرتبہ بھی عمران خان پنجاب کے عوام کو حکومت کے خلاف نکالنے میں ناکامی کو سپریم کورٹ کی آڑ میں کامیاب بنانے کی کوشش میں ہیں مگر یہ ایسے ہی ہے کہ اس کوشش میں وہ گیند کو اپنی ہی ڈی میں لے آئے ہیں اور اس بات پر خوش ہیں کہ گیند پر ابھی بھی انہی کا قبضہ ہے ، حالانکہ جو کچھ وہ اپنی ڈی میں کر رہے ہیں وہ کچھ انہیں حکومت کی ڈی میں کرنا چاہئے تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ اس مرتبہ بھی پاکستان تحریک انصاف نے جلد بازی کا مظاہرہ کیا ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی سے ہاتھ چھڑوا کر بلکہ پنڈ چھڑوا کر سپریم کورٹ میں جا کھڑی ہوئی ہے اور چیخ چیخ کر وزیر اعظم سے استعفیٰ لے کر اسے دلوانے کی دہائی دے رہی ہے۔ جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی تحریک انصاف کی سیاسی سمجھ بوجھ پر آٹھ آٹھ آنسو بہا رہی ہے ۔ لمحے بھر کو تصور کیجئے کہ اگر 2نومبر کو عمران خان اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کرنے میں کامیاب ہو جاتے تو کیا آج وہ سپریم کورٹ میں کھڑے ہوتے؟ ہر گز نہیں بلکہ آئے روز یہ دعویٰ کر رہے ہوتے کہ انہوں نے ثابت کردیا ہے کہ عوام وزیر اعظم کی کرپشن کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں اس لئے اب وہ وزیرا عظم کو چلتا کریں وگرنہ وہ خود عوام کی طاقت سے انہیں ایوان وزیر اعظم سے نکال باہر کریں گے۔ پھر یقینی طور پر پاکستان پیپلز پارٹی بھی چاروناچار7نومبر کی ڈیڈلائن ختم ہوتے ہی اسلام آباد میں تحریک انصاف کے کنٹینر کے سامنے کنٹینر لگا کر بلاول کو ایستادہ کرچکی ہوتی۔ یا ہو سکتا ہے بلاول ان کے کنٹینر پر ہی کھڑے ہو جاتے لیکن اس میں ایک رکاوٹ یہ آ گئی تھی کہ عمران خان مائنس زرداری فارمولا لے آئے تھے۔ جب اپوزیشن یہ سمجھتی ہو کہ جو وہ سوچتی ہے وہی سچ ہے تو وہ عدالت میں نہیں جایا کرتی اور معاملے کو عوام کی عدالت تک محدود رکھتی ہے ، خاص طور پر اس عوام کی عدالت تک جسے اس کی بات سمجھ آرہی ہو۔ پاکستان تحریک انصاف کا معاملہ الٹ ہے ، وہ معاملے کو متنازعہ بنانے کے بجائے جھٹ سے عدالت میں لے جاتی ہے جہاں اپنے عوامی دعوے کو عدالتی دعویٰ بنانے میں ناکام رہتی ہے اور کچھ ہی عرصے بعد منہ لٹکا کر دوبارہ سے عوام میں آجاتی ہے۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجانے کی اصطلاح وزیر اعظم نواز شریف نے استعمال کی تھی ۔ ان کے بعد حکومتی وزراء نے تکرار کے ساتھ اس کا اعادہ کیا ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف یا پاکستان پیپلز پارٹی اس کو زبان پر لانے سے گریزاں ہیں۔ ان کے نزدیک وزیر اعظم کی کرپشن کے ٹھوس شواہد پانامہ پیپرز اور شریف خاندان اور حکومتی وزراء کے بیانات کی شکل میں موجود ہیں اس لئے وزیر اعظم کو عہدے سے ہٹ ہی جانا چاہئے۔

پاکستان تحریک انصاف کا انحصار جن شواہد پر ہے وہ عدالتی نہیں اخباری شواہد ہیں۔ یعنی ٹھوس نہیں بلکہ پکوڑوں کے تیل میں بھیگے ہوئے ہیں۔ حکومت اگر ان کے جواب میں ٹھوس شواہد پیش کرکے عدالت کو مطمئن کردیتی ہے تو بھی اپوزیشن معاملہ ختم نہیں ہونے دے گی کیونکہ حکومت مخالف عوام عدالت کی تسلی کی بجائے اپنی تشفی چہیں گے ۔ دوسرے لفظوں میں وہ اپنے انداز میں دودھ سے پانی کو علیحدہ کرنا چاہتی ہے ۔آخر دودھ کو پانی سے علیحدہ کرنا کیوں ضروری ہے ؟ کیا اپوزیشن ایسا کرکے کرپشن ختم کرنا چاہتی ہے یا حکومت؟ اپوزیشن کا کہنا یہ ہے کہ اس سے کرپشن کاخاتمہ ہوگا، مخالفین سمجھتے ہیں کہ اس سے صرف حکومت ختم ہوگی ۔ اسی لئے پاکستان بار کونسل تقسیم ہو گئی ہے کہ کرپشن ہو یا حکومت، عدلیہ کو فریق نہیں بننا چاہئے۔یوں بھی دودھ کو پانی سے اور پانی کو دودھ سے علیحدہ کرنا آسان کام نہیں۔ سپریم کورٹ کردے تو بڑی بات ہے، بشرطیکہ معلوم ہو سکے کہ کس فریق مقدمہ کے پاس دودھ ہے اور کس کے پاس پانی۔ اور کس کے پاس دونوں کا مکسچر یعنی لسی، مسئلہ یہ ہے کہ پانی کا رنگ نہیں ہوتا اور جس رنگ میں ڈالیں اسی میں ڈھل جاتا ہے۔اس لئے سپریم کورٹ میں پانامہ پیپرز کا مقدمہ ختم نہیں شروع ہوا ہے ۔ حکومتی وزراء کا خیال اس کے برعکس ہے ۔ ان کے نزدیک دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونے جا رہا ہے کیونکہ مدعی مقدمہ کے پاس دعوے کے ثبوت نہیں ہیں۔ جبکہ مدعی مقدمہ کا کہناہے کہ وہ اسی لئے تو سپریم کورٹ سے جوڈیشل کمیشن کی استدعا کر ے گا تاکہ حاکم وقت پر لگنے والے الزامات کی تحقیق کرواکر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کیا جا سکے ۔

سپریم کورٹ میں جس سہل انداز سے بات آگے بڑھ رہی ہے اس سے لگتا ہے کہ شریف فیملی نے لندن پراپرٹی کے حوالے ٹھوس شواہد پیش کردیئے تو مقدمہ جلد ختم ہو جائے گا ۔جبکہ پی ٹی آئی کے اطوار بتاتے ہیں کہ مقدمہ تو شروع ہی وہاں سے ہوگا کیونکہ جب وہ شریف فیملی کے شواہد کو کمرہ عدالت میں جھٹلائیں گے اور ثبوت کے طور پر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی رپورٹیں، شریف فیملی اور حکومتی وزراء کے بیانات پیش کریں گے تو عدالت کے پاس جوڈیشل کمیشن کے اعلان کے سواکوئی راستہ نہ ہوگا جو نیب ، ایف آئی اے ، ایف بی آر، ایس ای سی پی اور سٹیٹ بینک کو ہدایات جاری کرسکے کہ معاملے کی تحقیق کرکے حقیقت کا پتہ لگائیں۔سپریم کورٹ کی جانب سے اس حوالے سے رولنگ ابھی آنی ہے کہ آیا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر دیئے گئے بیانات شریف فیملی کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد کو جھٹلانے کے لئے کافی ہیں۔ اگر ایسا ہے تو ان بیانات کی کس حد تک اہمیت ہے جو کمرہ عدالت سے باہر دیئے گئے ہیں، اس موقف کی کیا حیثیت ہے جو کمرہ عدالت سے باہر بغیر کسی بیان حلفی کے اختیار کیا گیا ہے۔ تاہم اگر پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کو یہ سوٹ کرتا ہے کہ مقدمہ طوالت کھینچے تو یقینی طور پر جوڈیشل کمیشن کے تحت حکومتی اداروں کے ذریعے تحقیقات کے نام پر اسے کھینچا جا سکتا ہے تو دونوں جماعتیں سپریم کورٹ سے استدعا کر سکتی ہیں کہ کمیشن ضرور بنایا جائے۔ تاہم ہو سکتا ہے کہ سپریم کورٹ ان سے کہے کہ اپنے دعوے کے حق میں کچھ ثبوت لے کر آؤ اور محض اخباری اور ٹی وی بیانات کو اس ضمن میں کافی نہ جانے۔

مزید : کالم