تحریک انصاف کا سونامی

تحریک انصاف کا سونامی
 تحریک انصاف کا سونامی

  



پاکستانی سیاست کے سمندرمیں آج کل مکمل سکوت طاری ہے۔سونامی تو دور رہا، لہروں کا معمول کے مطابق ہونے والا مدو جزر بھی آج کل دیکھنے میں نہیں آ رہا۔ صرف تین ہفتے قبل تک ملک کے سیاسی سمندر میں ایک طلاطم برپا تھا، پی ٹی آئی نے اسلام آباد لاک ڈاؤن کرنے کے نام پر زبردست لہریں پیدا کر رکھی تھیں جبکہ دوسری طرف سپریم کورٹ پانامہ لیکس کے حوالے سے مقدمہ سننے جا رہی تھی۔کچھ لوگ جو ذرا دور تک دیکھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں آرمی چیف کی نومبر میں ممکنہ ریٹائرمنٹ یا توسیع اور ان کی جانشینی کے حوالوں سے قیاس آرائیوں میں مصروف تھے اور ایک دو ایسے بھی تھے جو دسمبر میں چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کو بھی اپنی نظروں میں رکھے ہوئے تھے۔ اسلام آباد لاک ڈاؤن تو خیر نہیں ہو سکا کیونکہ عملی طور پر ایسا کرنا ناممکن بھی تھا اور پی ٹی آئی بھی اس قابل نہیں تھی کہ ملک بھر سے لوگوں کی بڑے پیمانے پر موبلائیز کر سکتی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی حکم دے دیا کہ اسلام آباد کو بند نہیں کیا جا سکتا۔ عمران خان نے ہائی کورٹ کے اس حکم نامے کو غیب سے آئی مدد سمجھتے ہوئے لاک ڈاؤن کو اظہار تشکر کا نام دے کر اپنی فیس سیونگ کی اور ملکی تاریخ کی ناکام ترین احتجاجی سیاست کا ایک اور راؤنڈ ختم ہو گیا۔ یکم نومبر کو سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں پانامہ لیکس کیس کی سماعت شروع کی تو قوم کا دھیان اس طرف لگ گیا۔ دیکھا گیا ہے کہ جب کسی ہائی پروفائیل کیس کی سماعت ہو رہی ہو تو پوری قوم آئینی اور قانونی ماہر بن جاتی ہے، حتیٰ کہ ایک ریڑھی والا بھی آئین کے حوالے دیتا نظر آتا ہے۔

خیر، اس کی وجہ تو وہ ٹاک شوز ہیں جو لوگوں کو اپنے ضروری کاموں سے دور رکھتے ہیں اور انہیں بلاوجہ کی بحثوں میں الجھائے رکھتے ہیں۔ پانامہ کیس میں پہلے دن سے ہی یہ محسوس ہونا شروع ہو گیا کہ کپتان کی قانونی ٹیم کے دلائل کمزور ہیں۔ جوں جوں کیس آگے بڑھ رہا ہے، اس میں دلچسپ موڑ بھی سامنے آ رہے ہیں اور نئے کردار بھی، بلکہ یوں لگتا ہے کہ ہر سماعت پر کیس ایک نیا رخ اختیار کر لیتا ہے ۔ کیس کی سماعت چونکہ 30 نومبر تک ملتوی ہو گئی ہے جو نئے آرمی چیف کا عہدہ پر پہلا دن ہو گا۔ فی الحال سمندر پُر سکون ہے اور نئے مدو جزر اس تاریخ کے بعد ہی آئیں گے۔ اس پر مستزاد یہ کہ 31 دسمبر کو چیف جسٹس صاحب خود بھی ریٹائر ہوجائیں گے اور یکم جنوری سے جسٹس ثاقب نثار دو سال آٹھ دن کے لئے چیف جسٹس پاکستان بن جائیں گے۔ اس سارے معاملے میں تحریک انصاف اور عمران خان کی سونامی کہیں نظر نہیں آتی۔ جب کسی ساحلی علاقے کے قریب بڑا زلزلہ آئے تو عام طور پر سونامی کی وارننگ جاری کی جاتی ہے۔ کبھی کبھار کوئی طوفان آ بھی جاتا ہے لیکن سونامی کی 99 فیصد وارننگوں کے بعد بھی کوئی طوفان نہیں آتا اور کاروبارِ زندگی معمول کے مطابق چلتا رہتا ہے۔ کیا عمران خان کی سونامی کا کچھ بن سکے گا؟ اس کا جواب حاصل کرنے کے لئے ہمیں تحریک انصاف، عمران خان کی سیاست خاص طور پر پچھلے چار پانچ سال کے واقعات کو بغور دیکھنا پڑے گا۔

چند سال پہلے عمران خان نے اپنی سیاسی پارٹی پاکستان تحریک انصاف کے لئے سونامی کی اصطلاح استعمال کرنا شروع کی تھی۔ سونامی بہر حال تباہ کن طوفان ہوتا ہے جو ہر چیز کو خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے جاتا ہے۔ لوگوں نے جب عمران خان کی توجہ اس طرف دلائی تو عمران خان مصر رہے کہ ان کا سونامی ملک میں کرپشن کے خلاف ہے اور وہ پاکستان کو ایک کرپشن فری ملک بنائیں گے۔ انہیں اس ملک کے نوجوانوں سے بہت توقعات تھیں اور چونکہ پاکستان کی آبادی کا دو تہائی عمر میں 35 سال سے کم ہے اس لئے عمران خان سمجھتے تھے کہ مستقبل میں وہی پاکستان کے سب سے اہم لیڈر ہوں گے کیونکہ پاکستان کی یوتھ ان کے ساتھ ہے۔ اکتوبر2011 میں لاہور میں ہونے والے ایک جلسے کے بعد سے یہ تمام توقعات شروع ہوئیں جوآئندہ دنوں میں بڑھتی رہیں۔ تحریک انصاف اگرچہ 1996ء سے سیاست میں موجود تھی لیکن عوامی سطح پر اس کی پذیرائی لاہور کے اسی جلسے کے بعد ہی شروع ہوئی۔ جیسا کہ ہمارے ملک میں ہوتا ہے کہ ہوا کا رخ دیکھ کر سیاست دان پارٹیاں تبدیل کرتے رہتے ہیں، چنانچہ بہت سے ایسے سیاست دان جو اپنی اپنی پارٹیوں میں زیادہ اہمیت حاصل نہیں کر پارہے تھے، وہ بھی جوق در جوق تحریک انصاف میں شامل ہوتے گئے اور پارٹی کا سائز بڑا ہو تا گیا۔ عمران خان چونکہ زیادہ تر غیبی امداد کے انتظار میں رہتے ہیں اور پچھلے پانچ سال کی سیاست سے اندازہ بھی ہوتا ہے کہ اپنی پارٹی کو عوامی سطح پر منظم کرنے کی بجائے انہوں نے ادھر ادھر سے آنے والے مالِ غنیمت اور غیبی امداد پر زیادہ بھروسہ کیا۔ ایک اور بات یہ کہ عمر کا ایک بڑا حصہ مغرب میں گزارنے کی وجہ سے وہ مغربی سیاسی اقدار کے کافی دلدادہ تھے اور اسی بنیاد پر انہوں نے بہت بڑے پیمانے پر پارٹی انتخابات کروائے جس میں نظریاتی لوگ پیچھے رہ گئے اور پیسے والے آگے آگئے۔

اس کے بعد اوپر کی طرف جاتی تحریک انصاف کا ریورس گئیر بھی اسی پارٹی الیکشن کے بعد لگا۔ تین چار لوگوں نے جن کے پاس بے پناہ پیسہ تھا پارٹی ہائی جیک کر لی اور پارٹی میں وفاق اور صوبہ کی سطح سے لے کر یونین کونسل کی سطح تک ایسی گروپنگ بن گئی کہ مختلف لوگوں کا ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنا اور مل کر چلنا نا ممکن ہوتا گیا۔ 2013 ء کے الیکشن میں بظاہر بہت زیادہ مقبول ہونے کے باوجود تحریک انصاف زیادہ سیٹیں نہ لے پائی، کیونکہ پارٹی انتہائی غیر منظم اور تقسیم شدہ تھی۔ وہ لوگ جنہیں بہت چاؤ سے پارٹی میں لایا گیا تھا، ایسے حالات میں نہ چل سکے اور پارٹی چھوڑ گئے۔ تحریک انصاف ایک ایسے دور میں داخل ہو گئی کہ ایک بڑی پارٹی ہونے کے باوجود ایک عدد ہوائی جہاز کی اسیر ہو کر رہ گئی۔ عام انتخابات کے بعد مختلف مواقع پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں بھی ایک آدھ کو چھوڑ کر باقی سب میں تحریک انصاف کو شکست ہوئی۔ اسی دوران انتخابی دھاندلی کے خلاف عمران خان نے احتجاجی تحریک اور دھرنے شروع کئے لیکن وہ شیطان کی آنت کی طرح طویل ہوگئے، ظاہر ہے لوگوں کے لئے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ اپنا کام کاج چھوڑ کر مہینوں سڑکوں پر ڈنڈے کھائیں، اس لئے احتجاج کے لئے آنے والوں کی تعداد بھی سکڑتی گئی۔ پانامہ لیکس کے بعد عمران خان نے احتجاج کا ایک نیا دور شروع کیا اور لاک ڈاؤن کا اعلان کیا، لیکن بات وہی ہے کہ کس کے پاس اتنا وقت ہے کہ اپنے کام چھوڑ کر سڑکوں پر دھکے کھائے، اس لئے آخر میں جان چھڑانے کے لئے عدالت کا سہارا لیا گیا ۔ اس تمام عرصے میں عمران خان نے دو بڑی غلطیاں کیں، ایک یہ کہ اپنی پارٹی منظم کرنے کی بجائے احتجاجی سیاست میں وقت اور انرجی ضائع کی، دوسرے یہ کہ خیبر پختونخوا میں ملنے والی حکومت پرپورا فوکس نہ کیا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ 2013 ء کے بعد تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں گڈ گورننس اور ترقی کی نئی مثال قائم کرتی اور2018 ء کے الیکشن میں اس دعویٰ کے ساتھ جاتی کہ ہم نے جیسا خیبر پختونخوا میں کیا ہے۔ ویسا پورے پاکستان میں کریں گے۔ خیر، اس مدت اقتدار کے ساڑھے تین سال گزر گئے ہیں اور اب محض ڈیڑھ سال باقی رہ گیا ہے۔ جہاں تک سونامی کا تعلق ہے ، وہ نہ آنا تھا اور نہ آیا۔ عمران خان کو ایک بات سمجھنی چاہئے کہ سیاست دان کی ہوم گراؤنڈ سیاست کا میدان ہوتا ہے، عدالتیں نہیں۔ پانامہ کیس کا جو بھی فیصلہ ہو وہ اپنی جگہ لیکن اپنی پارٹی کو گراس روٹ لیول پر منظم کئے بغیر وہ 2018 ء کا الیکشن نہیں جیت سکتے۔ عمران خان کو سونامی کی نہیں ،بلکہ سیاسی ذہن کی ضرورت ہے۔ اسی طرح ان کی ضرورت ایک ہوائی جہاز نہیں، بلکہ ایسے جہاندیدہ مشیر ہیں جو انہیں درست سیاسی مشورے دے سکیں۔ بات بہت سیدھی سی ہے، تحریک انصاف نے اپنا سیاسی سفر اگر آگے جاری رکھنا ہے تو اسے 2013ء سے باہر آ کر 2018 ء کا سوچنا ہو گا۔ لوگوں کے 2013 ء کے کیلنڈر کب کے پھٹ چکے۔ عمران خان کو بھی اپنے کیلنڈر پر پچھلے اوراق پھاڑ کر 2017ء اور 2018ء کے صفحے کھول لینے چاہئیں۔ ان کے چودھری شجاعت حسین سے اچھے تعلقات ہیں۔ کم از کم وہ چودھری شجاعت حسین کے اس قیمتی فلسفے کو ہی سمجھ لیں کہ ’’مٹی پاؤ، اگے چلو‘‘۔ترک صدر کے پارلیمنٹ سے خطاب کے موقع پر تحریک انصاف کے بائیکاٹ کے غلط فیصلہ نے اس کی پبلک ریٹنگ کو شدید متاثر کیا ہے۔ نہ جانے عمران خان کو خود کش مشورے کون دیتا ہے۔ سیاسی سمندر پر مکمل سکوت ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔

مزید : کالم