ملائشیا،انتخابی اصلاحات کے حق میں ہزاروں لوگوں کا مظاہرہ

ملائشیا،انتخابی اصلاحات کے حق میں ہزاروں لوگوں کا مظاہرہ

  



کوالالمپور(اے این این) انتخابی اصلاحات کے حق میں ہزاروں لوگوں کا مظاہرہ،وزیر اعظم نجیب رزاق سے مستعفی ہونے کا مطالبہ ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں ہفتے کے روز ہزاروں افراد نے سیاسی اصلاحات اور منصفانہ اور شفاف انتخابات کے مطالبوں کے حق میں مظاہرہ کیا۔ حکومت نواز حامیوں سے جھڑپوں سے خدشات کے باوجود مظاہرہ زیادہ تر پر امن رہا۔مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم نجیب رزاق مستعفی ہو کر ان الزامات کا سامنا کریں جن کے مطابق ان کے انویسٹمنٹ فنڈ ون ایم ڈی بی کے ذریعے اربوں کی دھاندلی کی گئی۔پولیس کی جانب سے مظاہرے کی اجازت نہ دینے اور کارکنوں کی گرفتاری کے باوجود لوگ کوالالمپور کی سڑکوں پر نکلے ہیں۔شہر کے مرکزی علاقے میں ہونے والے اس مظاہرے میں شامل افراد نے پیلے رنگ کی شرٹس پہن رکھی تھیں اور ایسا دکھائی دے دے رہا تھا جیسے پیلے رنگ کا دریا امڈ آیا ہو۔مظاہرے کا انتظام کرنے والے کئی اہم لیڈروں کو پولیس نے پہلے ہی گرفتار کر لیا تھا۔وزیراعظم نجیب نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ ان مظاہروں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ اپنے بلاگ پر وزیراعظم نجیب نے اس مظاہرے کے منتظم گروپ بیرش کو دھوکے باز قرار دیا۔

بیرش ملک میں انتخابی عمل کی اصلاح کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ گروپ حزبِ اختلاف کی جماعتوں کا آلہ کار بن گیا ہے جس کی کوشش ہے کہ جمہوری طریقے سے منتخب حکومت کو گرایا جائے۔تاہم وزیراعظم کے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے بیرش کے نائب چیئرمین شارالامان شاری نے مظاہرین کو بتایا کہ ہم یہاں اس ملک کو تباہ کرنے نہیں آئے، ہمیں اس ملک سے پیار ہے۔ ہم حکومت گرانے نہیں آئے۔ ہم تو حکومت مضبوط کرنے آئے ہیں۔گذشتہ 15 ماہ میں یہ دوسرا موقعہ ہے جب بیرش نے وزیراعظم نجیب کے استعفے کے لیے مظاہرے کیے ہیں۔ مالے زبان میں بیرش کا مطلب صاف ہے۔بیرش کے چند کارکنان سمیت کئی رہنماؤں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتاریوں کی فوری طور پر انسانی حقوق پر کام کرنے والی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مذمت کی ہے۔ تنظیم نے فوری طور پر سیاسی کارکنان کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے ایک بیان میں گرفتاریوں کو ملائیشیا کی سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کے خلاف سخت رویہ اختیار کرنے سے تعبیر کیا ہے۔اکتوبر سے شروع ہونے والے مظاہروں کے بعد سے ملک میں سیاسی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید : عالمی منظر