امریکہ: الیکٹورل کالج کے خلاف بل

امریکہ: الیکٹورل کالج کے خلاف بل
 امریکہ: الیکٹورل کالج کے خلاف بل

  


امریکی صدارتی انتخاب کے بعد اس بار تاریخی احتجاج ہو رہا ہے، جس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ عوامی ووٹوں پر الیکٹورل کو ترجیح حاصل ہوئی ہے، اس کے پس پردہ ایک اور عامل ڈونلڈ جے ٹرمپ کی نفرت انگیز مہم بھی ہے، جس میں اُس نے مسلمانوں، سیاہ فاموں، تارکین وطن میکسیکن، سپینش اور خواتین کے خلاف کھل کر اپنی نفرت کا اظہار کیا۔ امریکی چینی تجارتی روابط کو محدود کرنے کی باتیں کیں اور سفید فام نسل پرستوں کی حمایت سے اپنی انتخابی مہم چلائی۔ امریکہ کو ایک پگھلتا ہوا پیالہ قرار دیا جاتا تھا،جس میں مختلف اجزا پگھل کر ایک دوسرے میں شامل ہو رہے ہیں۔ بعد میں اس میں ترمیم کر دی گئی اور اسے اچھی طرح ہلا کر ملائے ہوئے سلاد کا پیالہ قرار دیا گیا، جس کے اجزا اپنی الگ الگ شناخت اور ذائقہ رکھنے کے باوجود یک جان ہوتے ہیں اور سب مل کر سلاد کہلاتے ہیں۔ ڈونلڈ جے ٹرمپ نے اس سلاد کے پیالے کو گرا کر ایک ایک جُز کو علیحدہ کر دیا ہے اور پاؤں کے نیچے روند دیا ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ اُسے 270 کی بجائے290 الیکٹورل ووٹ ملے۔ اس طرح ڈونلڈ ٹرمپ کی نسل پرست اور متعصب سوچ سے خوفزدہ عوام کو اپنے ووٹوں کی بے قدری کا بھی دُکھ ہے۔۔۔ پاکستان میں ایوب خان نے بنیادی جمہوریتوں کا نظام شروع کیا تھا، جس میں ایک الیکٹورل کالج صدر کو منتخب کرتا تھا۔ یہ نظام بنیادی سطح پر درجہ بدرجہ اوپر تک جاتا تھا۔ پانچ سات گاؤں پر مشتمل ایک وارڈ ہوتا تھا، جس کی آبادی آٹھ دس ہزار نفوس پر مشتمل ہوتی تھی۔ اس وارڈ سے چار پانچ بی ڈی ممبرز منتخب ہوتے تھے۔ یہ ممبر براہِ راست عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوتے تھے، اس کے بعد عوامی ووٹ کا سلسلہ ختم ہو جاتا تھا۔ مرحلہ وار جوں جوں یہ سلسلہ تحصیل ضلع اور ڈویژن سطح تک پنپتا تھا، اس میں آدھی یا زیادہ تعداد سرکاری حکام اور نامزد ارکان کی ہو جاتی تھی۔ گویا بنیادی سطح پر ہزار ڈیڑھ ہزار افراد ایک شخص کو منتخب کر کے بعد کے مراحل سے فارغ کر دیئے جاتے تھے۔ اس کے پیچھے سوچ بھی غلط تھی جو یہ تھی کہ عوام کو اتنی سوجھ بوجھ نہیں ہے کہ وہ براہِ راست صدر یا ارکان اسمبلی کا انتخاب کر سکیں، جہاں بھی کسی بھی انداز میں یہ نظام ہے، اُس کے پیچھے یہی سوچ کار فرما ہے۔

2016ء کے انتخابات میں چونکہ اِس نظام سے عوام کو جھٹکا لگا ہے، اِس لئے اس وقت اس نظام کے خلاف ڈیمو کریٹس پیش پیش ہیں۔ امریکی تاریخ میں یہ حادثہ دوسری بار پیش آیا ہے،لیکن اس بار اس کے آفٹر افیکٹس کچھ زیادہ ہیں۔یُوں تو الگور کی شکست بھی مشکوک تھی اور بش کی کامیابی بھی نامقبول تھی۔ فلوریڈا میں ہونے والے انتخاب کے بیلٹ پیپر کی ایک خرابی کے باعث ووٹوں کی دوبارہ گنٹی شروع ہوئی۔ یہ ایک بہت بڑا تھکا دینے والا کام تھا۔ ٹی وی پر ووٹوں کی بڑی بڑی ٹرالیاں لاد کر دوبارہ گنتی کرنے کا عمل دیکھ کر ہی آدمی کو وحشت ہوتی تھی۔ بالآخر سپریم کورٹ نے دوبارہ گنتی کے عمل کو بند کرا دیا اور یہ سارے ووٹ ضائع ہو گئے، باقی ماندہ ووٹوں سے جارج ڈبلیو بش صدر بن گیا،لیکن اس پر اس قدر شور نہ مچ سکا،کیونکہ یہ سپریم کورٹ کا فیصلہ تھا۔ امریکی سپریم کورٹ کے بعض نامقبول فیصلوں میں اس فیصلے کو بھی شمار کیا جاتا ہے۔ ایک فیصلہ وہ ہے جس میں بڑی بڑی کارپوریشنوں کو صدارتی انتخابات اور دوسرے انتخابات میں عطیات دینے کی کھلی چھٹی دے دی گئی۔ اب اِس فیصلے کو آئین میں ترمیم کے بغیر تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔دوسرے الگور کی شکست کو یہودی پارٹنر، یعنی نائب صدارت کے لئے لبرمین کے چناؤ سے بھی تعبیر کیا جا رہا تھا۔ اب کی بار صورت حال مختلف ہے۔ قارئین میں سے اکثر نے دیکھا ہو گا کہ امریکہ میں بیشتر جگہ کاغذی بیلٹ پیپر استعمال ہو رہے تھے۔ اکثر امریکی ووٹر مشینی ووٹنگ پر اعتبار نہیں کرتے اور ان کا مطالبہ ہے کہ اُن کی ریاستوں میں بھی کاغذی بیلٹ پیپر کا طریقہ استعمال کیا جائے۔ پاکستان میں بہت سے لوگ مشینی ووٹنگ کے لئے شور مچا رہے ہیں۔ میرا خیال ہے جب پاکستان میں مشینی ووٹنگ شروع ہوگی، مشینیں خراب ہوں گی اور کاغذی ووٹ کو دیکھنے کا موقع نہیں ملے گا تو پھر ان لوگوں نے کاغذی ووٹ کے لئے شور مچانا ہے۔2012ء کے انتخابات میں ری پبلکن کے قدامت پرست طبقوں نے ایک عجیب و غریب الزام لگایا تھا کہ ہم مشینوں پر ووٹ ڈالنے کے لئے مٹ رومنی کے نام کو پریس کرتے تھے، لیکن ووٹ باراک اوباما کے کھاتے میں چلا جاتا تھا۔ پاکستان میں مشینی ووٹنگ کے بعد اس سے بھی زیادہ دلچسپ الزامات اور انکشافات سامنے آئیں گے۔ 2012ء میں ری پبلکن کے اس اعتراض کو درخوراعتنا نہیں سمجھا گیا، کیونکہ اس کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا جا سکا تھا اور یہ الزام ایک مختصر حلقے کی طرف سے تھا۔

ڈیمو کریٹس اور ری پبلکن اکثر الیکٹورل کالج پر معترض رہے ہیں،لیکن اعتراضات کا دارو مدار حالات پر رہا ہے۔2012ء میں ڈونلڈ ٹرمپ سمیت متعد د ریپبلکن کو الیکٹورل کالج کا وجود کھٹکتا تھا۔ اب وہ اسے ضروری خیال کرتے ہیں۔ کیلیفورنیا سے سینیٹر باربرا باکسر نے ایوان میں ایک مسودہ قانون پیش کیا ہے، جس کے ذریعے عوامی ووٹوں کو موثر قرار دے کر الیکٹورل کالج کا خاتمہ مقصود ہے۔سینیٹر باربرا باکسر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’الیکٹورل کالج ایک فرسودہ نظام ہے۔ یہ غیر جمہوری نظام ہمارے جدید معاشرے کا عکاس نہیں ہے اور اسے فوری طور پر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔ موجودہ منتخب صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ جو 2012ء میں سینیٹر باربرا باکسر سے کلی طور پر متفق تھے۔ انہوں نے اپنے 7نومبر2012ء کے ٹویٹ میں کہا تھا ’’الیکٹورل کالج جمہوریت کے لئے تباہ کن ہے‘‘۔ اب 15نومبر2016ء کے ٹویٹ میں کہا ہے ’’الیکٹورل کالج حقیقت میں ایک جینئس ادارہ ہے جو تمام ریاستوں حتیٰ کہ بہت چھوٹی ریاستوں کو بھی کھیل میں شامل کرنے کا ذریعہ ہے اس کے لئے انتخابی مہم بالکل ہی مختلف ہے۔

پاکستان میں بنیادی جمہوریتوں پر سیاست دانوں کو یہی اعتراض تھا کہ ایک محدود تعداد میں الیکٹورل کالج کے ممبران کو زیر اثر لانا یا خریدنا کروڑوں ووٹوں کے حصول کی نسبت بے حد آسان ہے۔ ٹرمپ نے اپنی کامیابی کے بعد الیکٹورل کالج کے حق میں ٹویٹ میں نادانستہ طور پر یہ کہہ کر اس حقیقت کا اعتراف کر لیا ہے کہ الیکٹورل کالج کے لئے انتخابی مہم بالکل ہی مختلف ہے، جبکہ امریکہ میں عوامی ووٹوں کی گنتی اب بھی جاری ہے، کیونکہ بعض ریاستوں کا نظام ایسا ہے جہاں گنتی میں تاخیر ہوتی ہے۔ فوج اور بیرون ملک امریکیوں کے ووٹ جو ڈاک سے موصول ہوتے ہیں وہ بھی موصولی کی تاریخ کی بجائے تاریخ ترسیل کے حساب سے شمار کئے جاتے ہیں،یعنی جو ووٹ پاکستان سے سات یا آٹھ نومبر کو ارسال کیا گیا اور اس پر ڈاک کی مہر پڑھی جا سکتی ہے اُسے شمار کر لیا جائے گا خواہ وہ کسی بھی تاریخ کو موصول ہو۔اس وقت کی گنتی کے مطابق ہیلری کلنٹن چھ کروڑ 14لاکھ38ہزار970 ووٹ لے چکی ہیں، جبکہ اُس کے مقابلے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ووٹ چھ کروڑ چھ لاکھ 46ہزار 655 ہیں۔ گویا ڈونلڈ جے ٹرمپ کے ہیلری کلنٹن سے ایک دو دوٹ نہیں، پورے دس لاکھ ووٹ کم ہیں۔گزشتہ ہفتے چالیس لاکھ امریکیوں نے اپنے دستخطوں سے الیکٹورل کالج کے نام ایک اپیل بھیجی ہے، جس میں انہیں کہا گیا ہے کہ وہ ان کی ریاستوں کی خواہش کے برعکس عوامی ووٹوں کو مدنظر رکھ کر ووٹ دیں:

میرے قارئین کی اکثریت کو شاید یہ علم بھی نہ ہو کہ الیکٹورل کالج کے الیکٹرز رسمی طور پر ماہ دسمبر میں ووٹ ڈالتے ہیں۔گویا اب تک اُن کی حمایت سامنے آئی ہے، حقیقی، لیکن رسمی ووٹ دسمبر میں ڈالیں گے۔ اس لئے چالیس لاکھ دستخطوں کی اس پٹیشن کو اعتراض کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ رسمی ووٹنگ میں گزشتہ حمایت کے برعکس کسی کا ووٹ ڈالنا بعید ازقیاس اور غلط ہے۔ الیکٹورل کالج کی جڑیں تاریخ میں پیوست ہیں جب1787ء میں آئینی کنونشن میں ڈیلی گیٹس نے عوامی ووٹ کو ناقابل اعتبار قرار دیا کہ براہِ راست ووٹوں کے ذریعے صدر کے انتخاب کی اہلیت کا مظاہرہ نہیں ہو سکتا۔ گویا جس طرح ایوب خان نے عام آدمی کو اِس قابل نہیں سمجھا تھا کہ وہ براہِ راست صوبائی اسمبلی،قومی اسمبلی کے نمائندے منتخب کر سکیں، کیونکہ یہ لوگ اتنا سیاسی شعور نہیں رکھتے، امریکی ڈیلی گیٹس نے بھی اس کو جواز بنایا، حالانکہ انہی اَن پڑھ اور سیاسی شعور سے بقول کسے بے بہرہ عوام نے پاکستان کے قیام کے لئے ووٹ دیا تھا اور امریکہ میں ڈیلی گیٹس، نمائندوں اور سینیٹرز کو بھی عوام براہِ راست منتخب کرتے ہیں، حتیٰ کہ ان الیکٹورل کو بھی کسی نہ کسی طور عوامی ووٹوں کی احتیاج رہتی ہے،لیکن انتخابات میں قوت، اثر، دباؤ اور لالچ کے لئے ایک رخنہ کھلا رکھنے کے لئے بہانہ تراشا گیا کہ عوامی ووٹ صدر کو منتخب کرنے کی صلاحیت سے عاری ہے۔ میرے بہت سے پاکستانی قارئین کو یہ باتیں عجیب لگیں گی، کیونکہ ہمارے ہاں امریکہ اور امریکہ کے نظام کو مثالی نظام کے طور پر پیش کیا جاتا ہے،حالانکہ یہ نظام نہ صرف فرسودہ، مخصوص مفادات کے حامل حلقوں کے مفادات کا محافظ اور غیر جمہوری ہے، بلکہ کرپشن سے لتھڑا ہوا ہے۔ اس کے تحت انتخابات میں جو کرپشن ہوتی ہے وہ انتخابی مہم کے لئے فنڈنگ کے ذریعے کھلم کھلا ہوتی ہے اور بڑی کارپویشنیں بڑی بڑی رقوم دے کر عوامی نمائندوں، سینیٹروں، حتیٰ کہ صدور کو خرید لیتی ہیں۔ یہ دیکھتے ہوئے بھی امریکی سپریم کورٹ نے ان بڑی کارپوریشنوں کی فنڈنگ کو جائز قرار دے دیا ہے۔ ان کارپوریشنوں کی اس طاقت کے امریکی معاشرے پر کئی بداثرات نظر آتے ہیں۔آف شور مرکزی دفاتر کے قیام سے ٹیکسوں سے فرار، مونساتو جیسی کمپنیوں کا لیبل پر مصنوعی طریقے سے جینیاتی تبدیلی والے اجزا کو لکھنے سے انکار کارپوریشنوں کی دولت کا کرشمہ ہے، حتیٰ کہ یہ کارپوریشنیں عوام کی صحت سے کھیلنے کے لئے آزاد ہیں اور انہیں یہ آزادی امریکہ کا نظامِ انتخاب عطا کرتا ہے۔

مزید : کالم