اسرائیلی جیلوں میں قید دوفلسطینوں کی مسلسل 61دن سے بھوک ہڑتال جاری

اسرائیلی جیلوں میں قید دوفلسطینوں کی مسلسل 61دن سے بھوک ہڑتال جاری

  



بیت لحم (اے این این)اسرائیلی جیلوں میں قید دو فلسطینی قیدیوں نے بلا جواز انتظامی حراست کے خلاف بطور احتجاج 61 روز سے بھوک ہڑتال جاری رکھی ہوئی ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوجی انتظامیہ نے دونوں قیدیوں کی انتظامی حراست منجمد کردی ہے اور نابلس کے فوجی کمانڈر کو ان کی انتظامی حراست ختم کرنے کا اختیار دیا ہے۔فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسیران انس شدید اور احمد ابو فارہ نے 61دنوں سے مسلسل بھوک ہڑتال جاری رکھی ہوئی۔ دونوں اسیران اسپتال میں قید ہیں۔دونوں اسیران کی وکیل دفاع احلام حداد نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاہے کہ اسرائیلی پراسیکیوٹر جنرل نے بھوک ہڑتالی اسیران کی طبی رپورٹ ملنے کے بعد ان کی انتظامی قید ختم کرنے پرغور شروع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ جمعہ کے روز اسرائیلی فوجی پراسیکیوٹر کو ایک درخواست کے ساتھ دونوں اسیران کی میڈیکل رپورٹ بھی فراہم کی گئی تھی۔ صہیونی پراسیکیوٹر نے دونوں بھوک ہڑتالی اسیران کی انتظامی قید معطل کرنے کے ساتھ ساتھ بیت لحم کے اسرائیلی فوجی پراسیکیوٹر کو اختیار دیا ہے کہ وہ چاہیں تو بھوک ہڑتالی فلسطینیوں کی قید ختم کرسکتے ہیں۔ مگر ساتھ ہی اسرائیلی عہدیدار کو قیدیوں کی قید میں توسیع کا بھی اختیار ہے۔ اس ضمن میں صہیونی پراسیکیوٹر جنرل نے فوجی حکام کوگزشتہ روز اتوار کی شام تک کی مہلت دی ہے۔انسانی حقوق کی تنظیم نے کہا ہے کہ دو ماہ سے زائد عرصے سے مسلسل بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی انس شدید کا وزن آدھے سے بھی کم رہ گیا ہے اور ان کی بینائی بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ حالت تشویشناک ہونے کے بعد اسے اسپتال منتقل کیا گیا ہے اور صہیونی انتظامیہ اسیر کے علاج معالجے اور اس کی بھوک ہڑتال کے معاملے میں ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔

خیال رہے کہ اسیر انس شدید کا تعلق غرب اردن کے جنوبی شہر الخلیل کے دورا قصبے سے ہے۔ اسے صہیونی فوج نے 2 اگست 2016 کو حراست میں لینے کے بعد جیل میں ڈال دیا تھا۔ گذشتہ ڈیڑھ ماہ سے اس نے بلا جواز انتظامی حراست کے خلاف بہ طور احتجاج بھوک ہڑتال شروع کر رکھی ہے۔

مزید : عالمی منظر