موصل کی بازیابی کا آپریشن، جہادیوں کی جوابی کارروائیاں

موصل کی بازیابی کا آپریشن، جہادیوں کی جوابی کارروائیاں

  



موصل(این این آئی)عراقی فوج موصل کی بازیابی کے لیے کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے جب کہ مشرقی محاذوں پر داعش کے جنگ جوؤں کی طرف سے سخت مزاحمت دکھائی جا رہی ہے۔ ادھر شیعہ ملیشیا کے مطابق تل عفر میں ان جنگ جوؤں کے خلاف اہم کامیابی حاصل ہوئی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق عراقی فوج نے بتایا کہ سپاہی موصل شہر کے مرکزی حصے کی طرف پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں تاہم موصل کی مشرقی سرحدوں پر انتہا پسند گروہ داعش کے جنگ جو سخت مزاحمت دکھا رہے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ عراقی فورسز ح محرابین اور علامہ نامی علاقوں میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔عراقی فوج کے میجر جنرل سمیع الرادی نے بتایاکہ البتہ جہادی جوابی حملے کی کوشش میں ہیں اور انہوں نے ماہر نشانہ بازوں اور شیلنگ سے عراقی فوج کی پیشقدمی کو روکنے کی کوشش جاری رکھی ہوئی ہے۔دریں اثنا شیعہ حزب اللہ بریگیڈ نے دعویٰ کیا کہ موصل کے نواح میں واقع شہر تل عفر کے ایک مقام پر جہادیوں کو پسپا کر دیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ شیعہ جنگ جوؤں نے ایک اہم معرکے کے بعد تل عفر کی ملٹری ایئر فیلڈ پر قبضہ کر لیا ہے۔شیعہ کمانڈر جعفر الحسینی نے بتایا کہ یہ ملٹری ایئر فیلڈ مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے لیکن اس مقام سے موصل کی طرف پیشقدمی میں بہت زیادہ مدد ملے گی۔

داعش کے جہادیوں نے 2014 کے موسم گرما کے دوران شیعہ اکثریتی آبادی والے شہر تل عفر پر قبضہ کر لیا تھا۔اس شہر کو موصل اور شام کے مابین جہادیوں کی ایک اہم سپلائی لائن بھی قرار دیا جاتا ہے۔ تل عفر میں داعش کے جنگ جوؤں کی پسپائی کا مطلب ہو گا کہ موصل میں موجود جہادیوں کا شام سے رابطہ ٹوٹ جائے گا۔اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق سترہ جولائی کو شروع ہونے والی موصل کی تازہ لڑائی کی وجہ سے 56 ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں جب کہ کم ازکم ایک اعشاریہ پانچ ملین نفوس اس شہر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ شام اور عراق میں فعال شدت پسند گروہ داعش نے موصل پر قبضہ بھی سن دو ہزار چودہ میں کیا تھا۔

مزید : عالمی منظر