حلب، باغیوں کے زیر قبضہ مغربی علاقوں میں فضائی بمباری سے 61ہلاک

حلب، باغیوں کے زیر قبضہ مغربی علاقوں میں فضائی بمباری سے 61ہلاک

  



حلب/واشنگٹن(این این آئی)حلب میں باغیوں کے زیر قبضہ مغربی علاقوں میں ہونے والے فضائی بمباری کے نتیجے میں 61 افراد ہلاک ہوگئے،ادھر امریکا نے ہسپتالوں پر ہونے والے حملے کو ’وحشیانہ‘ قرار دیا ہے جبکہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صحت نے کہاہے کہ حلب میں اب تک ہونے والی شدید بمباری کے نتیجے میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں طبی سہولیات ختم ہو چکی ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق لندن میں قائم شامی آبزرویٹری نے ایک بیان میں کہاکہ حلب میں باغیوں کے زیر قبضہ مغربی علاقوں میں ہونے والے فضائی بمباری کے نتیجے میں 61 افراد ہلاک ہوگئے، ورلڈ ہیلتھ آرگینائزیشن نے ایک بیان میں کہاکہ حکومتی فورسز کی جانب گذشتہ پانچ دنوں سے جاری فضائی اور توپ خانوں کی بمباری سے تمام عارضی ہسپتالوں میں سہولیات ختم ہو چکی ہیں دیگر اطلاعات سے معلوم ہوا ہے کہ بعض ہسپتالوں میں سہولیات تو ہیں لیکن لوگ وہاں جانے سے خوفزدہ ہیں۔ طبی امداد فراہم کرنے والے کارکن ماضی میں ہونے والے حملوں کے بعد دوبارہ ہسپتالوں کو چلانے میں کامیاب ہوجاتے تھے تاہم اب سپلائی میں کمی کے باعث ایسا کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔حالیہ بمباری کے باعث ان علاقوں میں گلیاں ویران ہو چکی ہیں اور لوگ اپنے گھروں میں پناہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ڈبلیو ایچ او کے شام میں نمائندے ایلیزبتھ ہاف نے کہاکہ ’ترکی میں غیر سرکاری تنظیموں نے بتایا مغربی حلب میں تمام ہسپتالوں میں سہولیات ختم ہو چکی ہیں۔اقوام متحدہ کے مطابق اکتوبر کے اختتام تک فضائی حملوں میں 700 سے زائد عام شہری مارے گئے۔دوسری جانب روس کا کہنا تھا کہ اس کی فضائیہ شام کے دیگر حصوں میں متحرک ہے اورحلب میں آپریشن نہیں کر رہی،قبل ازیں سیریئن سول دفینس نامی امدادی ادارے کا کہنا تھاکہ حکومتی فورسز کی قیادت میں تین روزہ جنگ بندی کے بعد منگل کو ان علاقوں پر دوبارہ سے حملوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے جو ابھی تک جاری ہے ،دوسری جانب ایک بیان میں وہائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں ہسپتالوں پر ہونے والے حملے کو ’وحشیانہ‘ قرار دیا گیا ہے۔

مزید : عالمی منظر