کاشتکاروں کو بغیر بیج کے کینو کی پیداوار پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے

کاشتکاروں کو بغیر بیج کے کینو کی پیداوار پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے

  



اسلام آباد (اے پی پی) عالمی منڈیوں میں بغیر بیج کے کینو کی طلب میں روز بروز اضافے اور ترکی ، مصر اور بھارت کی جانب سے بغیر بیج کے کینوں کی پیداوار میں اضافہ کے باعث پاکستانی کینو کی برآمدات بری طرح متاثر ہو رہی ہے ۔ وفاق ایوانہائے صنعت و تجارت پاکستان (ایف پی سی سی آئی) کی قائمہ کمیٹی برائے ہارٹی کلچر ایکسپورٹ کے چیئرمین احمد جواد نے اتوار کو ’’ اے پی پی ‘‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستانی کاشتکاروں کو بغیر بیج کے کینو کی پیداوار پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ برآمد کنندگان یورپی مارکیٹ سے بھر وپر استفادہ کر سکیں اور نئی منڈیوں میں کینو کی مختلف اقسام کو متعارف کروا کر بہتر زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ترشاوہ پھلوں کی عالمی مارکیٹ کا حجم 15ارب ڈالر ہے اور پاکستان پھلوں کی برآمدات سے سالانہ ایک ارب ڈالر کا زرمبادلہ کماسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ترشاور پھلوں اور بالخصوص کینو کی بہتر اقسام کی پیداوار بڑھانے کیلئے جامع حکمت عملی کے تحت اقدامات کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ کینو کا برآمدی سیزن شروع ہونے والا ہے اور توقع ہے کہ رواں سال کینو کی برآمدات مںی اضافہ ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں احمد جواد نے بتایا جیسے ہی چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ (سی پیک) مکمل ہوگا تو پھلوں اور بالخصوص کینو کی ملکی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوگا ، انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے عالمی مارکیٹ کی ضرورتوں کے مطابق بغیر بیج کے کینو کی پیداوار بڑھانے کیلئے اقدامات کر نے ہونگے ۔

مزید : کامرس