تجارتی خسارہ 1.76 ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے ،مرتضی مغل

تجارتی خسارہ 1.76 ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے ،مرتضی مغل

  



اسلام آباد(اے این این ) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ سال رواں کے ابتدائی چار ماہ میں تجارتی خسارہ 1.76 ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے جو گزشتہ سال کے ابتدائی چار ماہ میں 1.08 ارب ڈالر تھا۔ تجارتی خسارہ میں 63 فیصد کے اضافہ پر قیاس آرائی کا سلسلہ جاری ہے مگر یہ ملکی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ ملکی ترقی کی طرف اشارہ کر رہا ہے کیونکہ اسکی وجہ کھپت کے بجائے سرمایہ کاری ہے۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ جی ڈی پی کے تناسب سے تجارتی خسارہ 1.1 فیصد سے بڑھ کر 1.7 فیصد کا اضافہ ہو گیا ہے جس کی وجوہات میں برامدات کی کمی اور درآمدات میں اضافہ شامل ہے مگر اسکی بڑی وجہ اقتصادی راہداری کی تکمیل کیلئے کی جانے والے مشینری وغیرہ کی درامدات ہیں جو بڑھتی جا رہی ہیں۔ اس خسارے سے ادائیگیوں کے توازن پر فرق پڑے گا مگر اسکے فوائد شمار کرنا مشکل ہے کیونکہ آج جو سرمایہ کاری ہو رہی ہے کل اس کا منافع بھی آئے گا۔ انھوں نے کہا کہ اقتصادی راہداری ملکی قسمت بدلنے والا منصوبہ ہے جوپاکستان کے اقتصادی پس منظر کو بدل کر رکھ دے گی۔ ابتدائی چار ماہ کے دوران برامدات 6.86 ارب ڈالر رہیں جو گزشتہ سال 7.09 ارب ڈاکر تھیں جس کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

جبکہ درامدات 13.28 ارب دالر سے بڑھ کر 13.56 ارب ڈالر ہو گئی ہیں جن میں سے غیر ضروری درامدات کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔ سال رواں کے پہلے چار ماہ کے دوران ترسیلات زر کے مد میں ملک کو 6.26 ارب ڈالر ملے ہیں جو گزشتہ سال انہی چار ماہ کے دروان موصول ہونے والے زرمبادلہ سے چار فیصد کم ہیں جسکی ایک وجہ تیل کی کم قیمتیں ہیں۔ ترسیلات کے زریعے پاکستان کے نصف امپورٹ بل کی ادائیگی کی جاتی ہے اسلئے انھیں بڑھانے کیلئے سنجیدگی سے کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید : کامرس