سیلاب کے پاکستانی معیشت پر اثرات

سیلاب کے پاکستانی معیشت پر اثرات

  



پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں ایک ہی وقت میں بہت سے موسم دیکھے جاتے ہیں، یہاں ایک وقت میں صوبہ سندھ میں موسم کی سختی ہے تو دوسری جانب شمالی علاقہ جات کا موسم خوشگوار اور سرد رہتا ہے، اگر بلوچستان میں خشک سالی ہے تو بالائی علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لیتا، میرا وطن جنت نظیر ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث متاثر ہونے والے مما لک کی فہرست میں بھی پاکستان کا شمار سر فہرست ممالک میں ہوتا ہے، اس پر طرہ ہماری عدم توجہی ہمیں مزید مشکلات کا شکار کر رہی ہے، گذشتہ تقریبا ایک دہائی سے پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث آنے والی قدرتی آفات کے بھنور میں پھنسا ہوا ہے ۔2010ء میںآنے والے سیلاب نے پاکستان کے بالائی علاقوں صوبہ خیبر پختونخواہ سے لیکر پنجاب سے ہوتے ہوئے سندھ کے زیریں علاقوں میں بھی شدید تباہی پھیلائی پورے ملک میں خطرے کی گھنٹی بجا ئی، اس سیلاب سے تقریبا دو کروڑ افراد متاثر ہوئے، لاکھوں مال مویشی بہہ گئے، ہزاروں مکانات منہدم ہوئے، سڑکوں ریل کی پٹریوں اور املاک سمیت اربوں روپے کا انفرا سٹرکچر تباہ و برباد ہوگیا اور اس سارے عمل کے نتیجے میں معیشت پر انتہائی شدید اثرات مرتب ہوئے، لوگ اپنا گھر بار کاروبار چھوڑ کر دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت کر گئے اور آئی ڈی پیز کا مسئلہ دیر تلک حل طلب رہا، بعد ازاں 2012اور 2014میں بھی اسی نوع کے چھوٹے لیکن خطرناک سیلابوں نے بھی اپنے اثرات دکھائے لیکن تاحال پاکستان کی حکومت اور سیلابوں سے نبٹنے کے لئے بنائے گئے اداراے کوئی جامع پالیسی پر عملدرآمد نہیں کروا سکے ہیں اور سکی ایک اہم وجہ پاکستان میں پانی جمع نہ کرنے کی گنجائش بھی ہے اور اس ضمن میں ڈیموں کی اہمیت سے کنارہ کشی خطرے کے سامنے آنکھیں بند کرنے کے مترادف ہے۔

پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور یہاں کی زیادہ تر آبادی دیہاتوں میں آباد ہے، وطن عزیز میں2010ء کے سیلاب کے باعث ہونے والے نقصان کا تخمینہ تین کھرب روپے لگایا گیا جس سے معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا، سیلاب کی صورت میں اڑھائی کروڑ افراد بالواسطہ یا بلا واسطہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے متاثر ہوئے،واضع رہے کہ سیلاب ایک قدرتی آفت ہے لیکن پاکستان اس خطرے کو کسی

خطرات میں گھرا ہوا ہے اور عالمی طور پر ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پاکستان سیلابوں اور سخت موسمی تغیرات کے باعث خوراک کی کمی جیسے مسائل کا شکار ہوا چلا جا رہا ہے، عالمی اداروں نے پاکستان کو آنے والے دنوں میں فوڈ سیکورٹی پر توجہ دینے اورسیلابوں سے آبادیوں اور فصلوں کو بچانے کے لئے اقدامات کرنے کی طرف توجہ دینے کی اہمیت پر زور دیا ہے اور اس سلسلے میں اقوام متحدہ سمیت، چین، امریکہ، جاپان، آسٹریلیا، ناروے ، کینیڈا اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کا پاکستان کی بھر پور امداد کر رہے ہیں۔

پاکستان میں سیلابوں کے باعث صورتحال دن بدن خرابی کی جانب بڑھ رہی ہے، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی رپورٹ کے مطابق2014ء کے سیلاب سے پنجاب اور آزاد کشمیر کے 26اضلاع کو آفت زدہ قرار دیا گیا،پنجاب کے اضلاع میں بہاولپور، چنیوٹ ،گوجرانوالہ،گجرات، حافظ آباد، جھنگ،جہلم ، خانیوال، خوشاب،منڈی بہاولدین، ملتان، مظفر گڑھ،ناروال، سرگودھا، شیخوپورہ اور سیالکوٹ شامل ہیں جبکہ آزاد کشمیر کے اضلاع میں باغ، بھمبر، ہٹیاں بالا، حویلیاں، کوٹلی، میر پور،مظفر آباد، نیلم، پونچھ اور سودھناتی شامل تھے پنجاب کے اضلاع کی تعمیرات کی مد میں کُل جزوی نقصان کا تخمینہ انیس ارب چھپن کروڑ روپے ہے جبکہ مکمل طور پر تباہ ہونے والی املاک کی مد میں نقصان کا تخمینہ ایک کھرب ایک ارب روپے ہے ، واضع رہے کہ پاکستان میں آنے والے سیلاب سے سال 2014ء میں فصلوں کو ہونے والے نقصان کا اندازہ دس ارب چالیس کروڑ روپے ہے جبکہ مویشیوں کو پہنچنے والے نقصان کا اندازہ اکیس کروڑ اکسٹھ لاکھ روپے بتایا گیا ہے،کمیونٹی انفراسٹرکچر کو نقصان کی مد میں چودہ ارب چھتر کروڑ چوالیس لاکھ روپے معیشت کو نقصان اٹھانا پڑا ، مذکورہ سال میں نوے کروڑ اناسی لاکھ چھتیس ہزار کا نقصان سیلاب کے باعث روز مرہ زندگی مفلوج ہونے سے ریکارڈ کیا گیا، اگر سال 2014ء میں پاکستانی معیشت کو این ڈی ایم اے کے مرتب کردہ جامع اعداد و شمار کی روشنی میں دیکھا جائے تو صرف ایک سال کے سیلاب سے پاکستانی معیشت کو اڑتیس ارب سینتیس کروڑ اکتیس لاکھ آٹھ ہزار سات سو ستر روپے کا نقصان ہوا، انفراسٹرکچر او ر دیگر زرائع نقل و حمل میں روکاٹ کے باعث زندگی مفلوج ہونے سے صحت اور پیداوار کے شعبوں کو بھی شدید دھچکا لگا، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کو سیلابوں سے پھیلنے والی بیماریوں کی روک تھام کے لئے پانچ ارب روپے کی ادویات فراہم کی گئی ہیں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کو جای رکھنے کے لئے بھی بیس کروڑ روپے مزید پروگرام کی بہتری کے لئے جاری کئے گئے ہیں آئندہ دنوں میں بچوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کا پروگرام مستعدی سے جاری رہ سکے۔

2015ء کے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا اندازہ کچھ اس طرح ہے ، سیلاب کے باعث صوبہ سندھ کے نو لاکھ پچانوے ہزار افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ،پنجاب میں چار لاکھ تریسٹھ ہزار افراد روز مرہ زندگی میں سیلاب کی تباہ کاریوں کا شکار ہوئے، جبکہ بلوچستان میں سال 2015ء میں انہتر ہزار نو سو چھتر افراد اور فاٹا کے متاثرین کی تعداد نو سو اسی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ آزاد کشمیر میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی تعداد پینتیس ہزار سات سو سترہ ہے، جبکہ صوبہ سندھ کے تین ہزار دو سو ایک دیہات سال 2015ء میں سیلاب سے زیر آب آ گئے صوبہ پنجاب کے پانچ سو چھیاسی دیہات سیلاب کی تباہ کاریوں سے زیر آب آئے جبکہ گلگت بلتستان میں سال2015ء کے سیلاب سے متاثر ہونے والے دیہات کی تعداد تین سو پچاسی اور آزاد کشمیر میں سیلابی پانی کی نظر ہونے والے دیہات کی تعداد سترہ ریکارڈ کی گئی،ان دیہات میں جانوروں اور املاک کی صورت میں ہونے والے نقصان کا تخمینہ ایک کھرب ستر ارب روپے لگایا گیا ہے ، پاکستان میں رواں سال بھی شدیدسیلاب کی تباہ کاریوں کی نوید سنائی جا رہی ہے ، بعض علاقوں میں سیلابی پانی سے کھڑی فصلیں تباہ ہو چکی ہیں جبکہ آئندہ دنوں میں مزید مشکل حالات کا اشارا دیا جا رہا ہے لیکن کیا ارباب اختیار پاکستان کی معیشت کو ان سیلابی ریلوں اور ان قدرتی آفات سے پہنچنے والے ناقابل تلافی نقصان سے بچانے کے لئے کوئی حکمت عملی مرتب کئے ہوئے ہیں یا رواں سال بھی پاکستان کا کسان اور غریب دیہاتی ایک بار پھر لٹنے کے لئے تیار رہے کیوں کہ پاکستان میں سیاست کے نام پر ڈیموں کے لئے آواز اٹھانا ایک جرم بن چکا ہے اور ڈیم نہ ہونے کے باعث پاکستان کو سالانہ اربوں ڈالر کے نقصان کا سامنا ہے اور رہے گا۔

مزید : ایڈیشن 2