سی پیک سے آنے والی نسلوں کو فائدہ پہنچے گا

سی پیک سے آنے والی نسلوں کو فائدہ پہنچے گا

  



انٹرویو: نعیم الدین ، غلام مرتضی

تصاویر: عمران گیلانی

تعارف : پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں صارفین کی اکثریت اپنے حقوق کے حوالے سے آگاہی نہیں رکھتی ہے ۔حکومتی سطح پر اس ضمن میں کوئی ایسا ادارہ موجود نہیں جو صارفین کی مشکلات کا ازالہ کرسکے ۔صارفین کو ان کے حقوق دلانے کے لیے کراچی کی معروف سماجی شخصیت کوکب اقبال نے سال 2000میں کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان(کیپ) کی بنیاد رکھی ۔اپنے قیام سے لے کر اب تک کوکب اقبال کی سربراہی میں کیپ نے ملک بھر کے صارفین کے لیے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں اور ان کی آواز کو اعلیٰ ایوانوں تک پہنچایا ہے ۔کیپ کے مقاصد میں صارفین کو معیاری اشیاء کی فراہمی اور مناسب داموں میں حصول شامل ہے ۔ملک میں کنزیو کورٹس کے قیام کے حوالے سے بھی کیپ نے ایک طویل جدوجہد کی ہے اور اس کے ثمرات اب پہنچنا شروع ہوگئے ہی ۔روزنامہ پاکستان نے کنزیومر ایسوسی ایشن کی سرگرمیوں کے حوالے سے چیئرمین کیپ کوکب اقبال سے خصوصی گفتگو کی جو قارئین کی نذر ہے ۔

بزنس پاکستان: ملک میں مہنگائی کی موجودہ صورتحال کیا ہے اور اسکے آئندہ آنے والے دنوں میں کیا اثرات ہونگے ؟

کوکب اقبال : مہنگائی کے خاتمے کیلئے ایک کمیٹی قائم کی گئی جو کہ کریانہ اور دیگر شعبوں میں کام کررہی ہے۔ وہ مختلف آئٹمز کی فہرستیں تیار کرتی ہے، کچھ چیزوں میں ردو بدل ہوتا رہتا ہے۔ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کیلئے دراصل ہماری پلاننگ کے شعبے کو ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جس سے مہنگائی کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔ فوڈ سیکورٹی کونسل کو چاہیے کہ جو فصل آتی ہے اس کو چیک کرے کہ کس قیمت پر وہ چھڑائی گئی ہے اور اس کی طلب کتنی ہے ؟ کاشتکاروں کو گائیڈ کیا جائے تاکہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں مدد مل سکے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت خصوصی توجہ دے

بزنس پاکستان: پوری دنیا میں مہنگائی مصنوعی نہیں ہوتی سوائے پاکستان کے اس کی کیا وجہ ہے؟

کوکب اقبال : کہا جاتا ہے کہ ذخیرہ اندوز وقت کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ رمضان کے مبارک مہینے میں فروٹ کی ذخیرہ اندوزی عام ہوتی ہے حکومت بھی کوشش کرتی ہے کہ گوداموں میں جا کر چیک کرے لیکن کسی حد تک اس میں کسی حد تک کامیابی ہوتی ہے ، حالانکہ دیگر ممالک میں رمضان یا انکے اپنے کسی تہوار کے موقع پر عوام کی سہولت کیلئے خصوصی سیل لگائی جاتی ہے تاکہ عوام کو براہ راست فائدہ پہنچ سکے۔

بزنس پاکستان: آپ کی ایسوسی ایشن کیا اس حوالے سے دکانداروں کو ترغیب دینے میں کوئی کردار ادا کررہی ہے ؟

کوکب اقبال : جی ہم اس سلسلے میں کوشش کرتے ہیں عوام کو بھی چاہیے یہ کہ جو اشیاء مہنگی ہوں ان کا استعمال کم کردیں اس سے بھی مہنگائی کو کم کرنے میں مدد ملے گی ۔ کمشنر کراچی کی خصوصی ہدایت پر کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں جو کہ کام کررہی ہیں ۔ بازار سے بھی قیمتوں کی فہرستیں منگوائی جاتی ہیں تاکہ حکومت بھی باخبر رہے اور تاجروں کو ہدایت بھی جاری کرتی ہے میں حکومت سے مطالبہ کروں گا کہ مہنگائی کم کرنے کیلئے کوئی لائحہ عمل تیار کرے تاکہ عوام کو فائدہ ہو۔ ہماری توجہ کھانے پینے کی اشیاء کے علاوہ روز مرہ استعمال کی دیگر اشیاء بھی رہتی ہے مثلاً پیٹرول کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود عوام کو زیادہ فائدہ نہیں ہوسکا ۔ جبکہ اس کے ثمرات عوام کو ملنے چاہئیں ۔

بزنس پاکستان: محکمہ بیورو سپلائی کا اس وقت کیا کردار ہے ؟

کوکب اقبال : وہ مکمل طور پر کنٹرول کرنے میں اسلئے ناکام ہیں کیونکہ ان کے لوگ میٹنگ میں کوئی ایسی بات طے نہیں کرپاتے کہ جس سے کوئی مؤثر میکانزم مرتب کیا جاسکے۔ جتنے بھی مینوفیکچرز ہیں چاہے وہ گھی بناتے ہوں یا دیگر اشیاء تیار کرتے ہوں، لاگت کا تعین کرنے کیلئے کوئی ادارہ ایسا نہیں ہے جس سے پوچھا جا سکے کہ کونسی اشیاء کی کیا قیمت رکھی گئی ہے اور اس کا منافع کیا ہے ؟ حکومت نے مہنگائی کی روک تھام کیلئے لاتعداد کمیٹیاں قائم کی ہیں ، حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر کنزیومر کیلئے ایک خصوصی وزارت قائم کردی جاتی تو میرے خیال بھی بہت احسن اقدام تصور کیا جاتا۔ ون ونڈو آپریشن کے ذریعے صارف کو فائدہ ہوگا۔ کنزیومر پروڈکشن ایکٹ قائم ہوچکا ہے ، پنجاب میں کنزیومر کورٹس قائم ہیں ، وہاں پنجاب فوڈ اتھارٹی بھی موجود ہے۔ اسی طرز پر سندھ میں کنزیومر کورٹس بنائی جانی چاہیءں ، سندھ فوڈ اتھارٹی کا قیام بھی ضروری ہے۔ مجھے امید ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اس پر خصوصی توجہ دیں گے

بزنس پاکستان: ملک میں کوالٹی کنٹرول کیلئے کیا اقدامات کیے جارہے ہیں ؟

کوکب اقبال : 18ویں ترمیم کے بعد یہ رول صوبائی حکومتوں کو دیدیا گیا ہے ، پہلے یہ کام کوالٹی کنٹرول اتھارٹی انجام دیتی تھی، لیکن ہمیں ابھی تک صوبائی سطح پر ایسا کوئی محکمہ نظر نہیں آیا جو یہ کام کرے۔

بزنس پاکستان: صوبہ کے پی کے اور بلوچستان میں بھی آپ کی تنظیم کام کررہی ہے ؟

کوکب اقبال : جی کے پی کے میں ہم زونل دفاتر کھولنا چاہتے ہیں ۔ پنجاب میں بھی عارف انصاری کام کررہے ہیں جبکہ صوبہ بلوچستان نیازی آفس کی ، سندھ میں فاران انیس کام کررہے ہیں۔

میں بھی اپ

بزنس پاکستان: کیا مہنگائی صرف شہروں میں ہے یا دیہی علاقوں میں یہ مسائل درپیش ہیں ؟

کوکب اقبال : دیہی علاقوں میں بھی مہنگائی ہوتی ہے ۔ دیہی میں غیرمعیاری اشیاء کی بھرمار ہے ، ہم کنزیومر ایسوسی ایشن کے تحت نویں فوڈ سیفٹی کانفرنس منعقد کی ہے ۔ کراچی میں جس میں صوبائی وزیر خوراک نثار کھوڑو ، ایس ایم منیر ، وزیر قانون بریسٹر وہاب ، سینیٹر ڈاکٹر سومرو اور دیگر فوڈ ٹیکنالوجسٹ نے شرکت کی جبکہ ملائیشیا سے وفد آیا تھا جو فوڈ ایکسپرٹس پر مشتمل تھا۔ انہوں نے تمام نکات پر تبادلہ خیال کیا ۔

بزنس پاکستان: کیا رکشہ ٹیکسی میں میٹر ہونا ضروری ہیں ؟

کوکب اقبال : بالکل ہم اس سلسلے میں صوبائی وزیرٹرانسپورٹ ناصر حسین شاہ سے بھی ملاقات کریں گے ۔

بزنس پاکستان: بعض موبائل فون کمپنیاں عوام سے زائد بلز وصول کررہی ہیں ، اس حوالے سے آپ کی ایسوسی ایشن نے کوئی اقدام اٹھایا ہے ؟

کوکب اقبال : ہم نے اس سلسلے میں آئی ٹی کی وزارت کے ساتھ بات چیت کی تھی اور یہ موقف اختیار کیا کہ نائٹ پیکجز ختم کیے جائیں کیونکہ اس سے نوجوانوں کے اخلاقیات پر بُرے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

بزنس پاکستان: پام آئل کی قیمتوں پر ڈالر کی دام بڑھنے سے کیا اثرات ہوئے ہیں ؟

کوکب اقبال : پام آئل کی قیمتیں بہت نچلی سطح پر رہی ہیں ، ملائیشیا اور انڈونیشیا سے بھی پام آئل آرہا ہے ان کا آپس میں بھی مقابلہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے قیمتیں کم رہی ہیں ۔

بزنس پاکستان : امریکہ میں ہونے والے الیکشن کی وجہ سے پاکستان کی معیشت پر اسکے کیا اثرات ہونگے ؟

کوکب اقبال : پوری دنیا کا اس پر فوکس رہا ہے مگر میں امید کرتا ہوں کہ پاکستان کے ساتھ وہ اپنی تجارتی پالیسی کو بہتر رکھے گا ۔ نئے منتخب صدر USA ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارکباد پیش کرتاہوں۔ امید ہے کہ وہ جنوبی ایشیاء کے حالات کو بہتر بنائیں گے اور پوری دنیا کی معاشی صورتحال کو بہتر کرنے کیلئے اقدامات کریں۔ آج کل ہم جو چائنا کے ساتھ سی پیک منصوبہ بنارہے ہیں اس کے آئندہ آنے والی نسلوں کو فائدہ پہنچے گا۔ وزیراعظم میاں نواز شریف کی سربراہی میں کام ہورہا ہے وہ بھی مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ہماری آنے والی نسلوں پر احسان کیا ہے۔ چین ہمارا بہترین دوست ہے ، ہماری معیشت پر اس کے اچھے اثرات مرتب ہونگے۔ افغانستان اور ایران سے بھی اپنی تجارت اچھی کرنا ہوگی

مزید : ایڈیشن 2