گندم کاشت کے لئے شرح بیج کی اہمیت کا خیال رکھا جائے

گندم کاشت کے لئے شرح بیج کی اہمیت کا خیال رکھا جائے

گندم کی فی ایکڑ زیادہ پیداوار میں اچھا بیج بڑی اہمیت رکھتا ہے اور پنجابی کی مشہور کہاوت ہے کہ چنگا بیج پائیے بھانویں چین تو منگائیے۔ماہرین کے مطابق فصلوں کی اچھی اور بہتر پیداوار کے عوامل کی درجہ بندی میں منظور شدہ قسم کے خالص، صاف ستھرے ، صحتمند اور بیماریوں سے پاک بیج کا درجہ پہلے نمبرپر ہے۔محکمہ زراعت نے پنجاب کے آبپاش اور بارانی علاقوں کے لئے گندم کی اقسام بوائی کے لئے منظور کی ہیں۔ انہی اقسام کو سفارش کردہ وقت کے مطابق اور سفارش کردہ بیج کی مقدار استعمال کی جائے تو فی ایکڑ زیادہ پیداوار حاصل ہوتی ہے ۔ بیج کے اگاؤ کی شرح 85فیصد سے کم نہ ہو، بصورت دیگر شرح بیج میں مناسب اضافہ کر لیا جائے۔ شرح بیج پر اثر انداز ہونے والے عوامل میں زمینی و آب و ہوا کا فرق، زمینی وتر ، وقت اورطریقہ کاشت،زمینی تیاری ، اقسام ،فصلی ترتیب اور بیج کا معیار زیادہ اہمیت کے حامل ہیں ۔ گذشتہ ادوار میں محکمہ زراعت پنجاب کی طرف سے بیشتر حالات میں گندم کی تمام اقسام کا 50 کلو گرام فی ایکڑ بیج استعمال کرنے کی سفارش کی جاتی رہی ہے۔جدید تحقیق کے مطابق 50 کلو گرام شرح بیج کی سفارش ہر قسم کے حالات کے لئے درست ثابت نہیں ہوئی ہے۔گندم کی بعض اقسام کے بیج موٹے ہوتے ہیں اور بعض کے باریک ۔شمالی اور جنوبی پنجاب میں نہ صرف زمینی ساخت وصحت فرق پایاجاتاہے بلکہ آب وہوا اور طریقہ کاشت بھی مختلف ہیں۔ شرح بیج پر اثر انداز ہونے والے عوامل اوربہتر پیداوار کے حصول کے لئے معیاری بیج کے کردار کی اہمیت کے علاوہ رقبہ کی زرخیزی اور دیگر مخصوص حالات کے تناظر میں مختلف شرح بیج استعمال کیا جاسکتا ہے۔

(i زمینی فرق: قدرتی طور پرزیادہ زرخیز اور بھاری زمینوں میں کم بیج کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ ریتلی،ہلکی میرااورکم زرخیز زمینوں میں زیادہ بیج ڈالنے کی ضرورت ہوتی ہے۔اس کی ایک وجہ یہ ہوتی ہے کہ بھاری میرا اورزرخیز زمینوں میں گندم کے پودے زیادہ شگوفے بناتے ہیں جبکہ ریتلی اور کمزور زمینوں میں شگوفے بنانے کی صلاحیت کم ہوتی ہے۔زمینی ساخت کی مطابقت سے شرح بیج میں کمی یا بیشی کرلی جائے مثلاً ریتلی زمینوں میں55 تا 60کلوگرام ،میرا زمینوں میں 50کلوگرام اور بھاری میرا وصحت مندزرخیز زمینوں میں 45تا50 کلوگرام بیج استعمال کیا جائے۔ کلراٹھی زمینوں میں بیج کا اگاؤ کم ہوتاہے اس لئے کلراٹھی زمینوں میں شرح بیج 55 کلوگرام فی ایکڑ سے کم نہ رکھی جائے۔ زمینی حالات کی مطابقت سے شرح بیج کی سفارشات مرتب کرنے کے لئے ضلع کی سطح پرمربوط تحقیقی جدو جہد،اشاعتی سرگرمیوں اورتوسیعی کوششوں کی از حد ضرورت ہے۔

(iiآب وہوا کا فرق: عرض بلدکے تغیرات اورسطح سمندر سے زمینی بلندی کے فرق کی وجہ سے شمالی وجنوبی پنجاب کی آب وہوا میں بھی فرق ہے۔اس فرق کی وجہ سے جس طرح دیگر کئی فصلوں کے شرح بیج کی سفارش کردہ مقدار میں پنجاب کے مختلف اضلاع میں فرق پایا جاتا ہے، اسی طرح اگیتی اور پچھیتی کاشتہ گندم کی شرح بیج میں بھی فرق پایا جاتا ہے۔شمال مغربی پنجاب کے کم بارش والے بارانی علاقوں میں50 کلو گرام سے کم جبکہ زیادہ بارش والے بارانی علاقوں میں 50کلوگرام یازیادہ بیج ڈالنے کی سفارش کی جاتی ہے۔تھل ایریا کی ریتلی میرا زمینوں میں55کلو گرام یا زیادہ، جنوبی بہاولپور، فورٹ عباس اورچولستان کی ٹیوب ویل سے سیراب ہونے والی خشک اور کلراٹھی زمینوں میں بھی 55 تا 60 کلو گرام ڈالاجائے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ نہ صرف گندم کے لئے بلکہ دیگر مختلف فصلوں کے لئے بھی ضلع اور تحصیل کی سطح پر تغیرپزیر سفارشات مرتب کی جائیں۔

(iii طریقہ کاشت کا فرق: طریقہ کاشت کی تبدیلی بھی شرح بیج کے تعین پر اثر اندازہوتی ہے مثلاً چھٹہ کے ذریعے بر وقت کاشتہ گندم کے لئے50کلوگرام ، لیٹ کاشتہ کے لئے55تا 60 کلوگرام زیادہ پیداوار دیتاہے ۔ اگر زیروٹلیج ڈرل کے ذریعے کاشت کریں تو زمینی ساخت ووتر کی عدم یکسانیت کے پیش نظرشرح بیج 55 تا 60کلوگرام فی ایکڑ رکھی جائے۔ڈاکٹر عاقل خاں سابق ناظم شعبہ گندم نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ اگر50کلوگرام بیج6انچ کی قطاروں والی ڈرل کی مددسے کاشت کیا جائے تو9انچ کے فاصلے پر ربیع ڈرل سے کاشتہ گندم کے مقابلے میں 13 سے 26 فیصد زیادہ پیداوار ملتی ہے۔ اگر ڈرل کی لائنوں کا فاصلہ9 انچ کی بجائے 6 انچ کر لیا جائے تو55 تا60کلو گرام بیج استعمال کیا جائے۔ اگر کھڑی کپاس میں چھٹہ کرنے کا ارادہ ہو تو60کلوگرام فی ایکڑ استعمال کیا جائے۔لیہ، بھکراور کلور کوٹ کی ہلکی میرا زمینوں میں گپ چھٹ کے طریقے سے کاشت کی صورت میں55کلو گرام یا اس سے زیادہ بیج استعمال کیاجائے۔

(iv وقت کاشت کا فرق: اگیتی اور بر وقت کاشتہ گندم کے لئے شرح بیج درمیانی جبکہ لیٹ کاشت کی صورت میں زیادہ استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے مثلاً20نومبر سے پہلے کاشتہ گندم کے لئے عموماً45 سے 50کلو گرام فی ایکڑ بیج استعمال کرنے کی سفارش کی جاتی ہے جبکہ لیٹ کاشتہ کے لئے55 سے 60 کلوگرام زیادہ پیداوار دیتاہے ۔بڑے قد والی اقسام مثلاً گیلیکسی 2013اورآس2011جیسی اقسام جو اگیتی کاشت کی صورت میں گرسکتی ہیں۔ اگرنومبر کے پہلے ہفتے کے دوران کاشت کی جائیں تو ان اقسام کا 40کلو گرام فی ایکڑ سے زیادہ بیج استعمال نہ کیا جائے۔یہی اقسام اگر دسمبر میں کاشت کی جائیں توپھر50کلو گرام استعمال کیا جائے ۔

(v زمینی تیاری کا فرق: بہترین طریقے سے تیار کردہ صحت مند زمین کے لئے گندم کی موٹے دانوں والی اقسام کاگریڈ شدہ50 کلوگرام اور باریک دانوں والی اقسام کا40 تا45کلوگرام بیج ڈرل کیا جائے۔ اگر زمین اچھی طرح تیار نہ کی گئی ہو یا دھان کے بعد چھٹہ سے کاشت کرنی ہویا دسمبر میں کاشت کی جارہی ہوتو پھر 55تا60کلوگرام بیج فی ایکڑ استعمال کیا جائے۔ اگر بوقت کاشت وتر کم ہو تو بھی شرح بیج زیادہ رکھنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ زمینی تیاری کے ساتھ زمینی صحت اور وقت کاشت کی مطابقت سے شرح بیج میں تبدیلی کر لی جائے۔

(vi علاقہ ،فضائی نمی اور وتر کافرق: آبپاش علاقوں میں اگر بوقت کاشت وتر کم ہو تو گندم کی شرح بیج50کلوگرام سے زیادہ جبکہ پورے وتر کی صورت میں شرح بیج 50کلوگرام یا کم رکھنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ بارانی گندم کے کھیتوں میں اکثر وتر کم ہوتا ہے لہذا وہاں شرح بیج زیادہ سفارش کی جاتی ہے۔

(vii اقسام کا فرق: موٹے بیجوں والی اقسام کی شرح بیج زیادہ جبکہ باریک بیجوں والی اقسام کی شرح بیج کم استعمال کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔مثال کے طورپرحالیہ اقسام میں بروقت کاشت کی صورت میں آری2011،بارس 2009اور لاثانی 2008کا بیج 35تا40کلوگرام فی ایکڑ سے زیادہ استعمال نہ کیاجائے۔لیکن پچھیتی کاشت کی صورت میں ان اقسام کا40تا45کلوگرام استعمال کیاجائے۔موٹے دانوں والی اقسام پنجاب2011 اورگلیکسی کاگریڈ شدہ بیج اگیتی کاشت کی صورت میں40تا45کلوگرام اور پچھیتی کاشت کی صورت میں50تا 55کلوگرام فی ایکڑ استعمال کیاجائے۔

(viii فصلی ترتیب کا فرق: چاول کے بعدخوب سینچی ہوئی یاٹھنڈی زمینوں میں اگیتی کاشت کی صورت میں موٹے دانوں والی اقسام کا40تا45کلوگرام اورپچھیتی کاشت کی صورت میں50تا55کلوگرام ،کپاس کی حالیہ اقسام نومبر میں زمین کو خالی کر دیتی ہیں وہاں 50کلو گرام بیج استعمال کیا جائے۔ مکئی کے بعد 50 تا 55 کلوگرام ،سورج مکھی ،تل،باجرہ اور چارہ جات چونکہ زمین میں موجود خوراکی اجزاء کو چٹ کر جاتے ہیں اس لئے ان فصلوں کے بعد کاشت کی صورت میں55تا60کلوگرام بیج ڈالنے سے زیادہ پیداوار حاصل ہوتی ہے۔دسمبر میں آلو کے بعد کاشتہ گندم کا رقبہ اگرچہ کافی کم ہوتاہے لیکن زمینی زرخیزی وتیاری بہتر ہوتی ہے اس لئے لیٹ کاشت کے باوجود45تا50کلوگرام بیج ڈالنے کی سفارش کی جاتی ہے۔

(ix بیج کے معیار کافرق: گندم کا بہترین (90فیصد سے زیادہ)اگاؤ والا اور گریڈر سے صاف شدہ، کیڑوں کے حملے سے محفوظ اورسالم بیج جوجڑی بوٹیوں کے بیجوں سے بھی پاک ہو 50کلوگرام استعمال کیا جائے جبکہ 85فیصد سے کم اگاؤ والا، کیڑوں کے حملہ سے متاثرہ، ٹوٹا ہوا یا خراب شدہ،باریک بیج 55 سے 60 کلوگرام فی ایکڑ سے کم استعمال نہ کیا جائے۔اسی طرح اور بھی کئی مقامی امورشرح بیج پر اثر انداز ہوتے ہیں اس لئے کاشتکاروں کو چاہئے کہ محکمانہ سفارشات پر اندھا دھند عمل کرنے کی بجائے مزکورہ بالا عوامل کی روشنی میں اپنے مخصوص حالات کے تناظر میں گندم کے شرح بیج میں ردو بدل کرکے فصل کی کاشت کریں۔

ب۔ بہتر پیداوار میں معیاری بیج کا کردار: بیج کی کل ضروریات کا25فیصدسے کم سیڈ کارپوریشن اور بعض پرائیویٹ کمپنیاں مہیا کرتی ہیں لیکن کاشتکاروں کی اکثریت اپنے گھر میں ذخیرہ شدہ بیج استعمال کرتی ہے۔

(i قسم کا انتخاب: علاقے اور آب وہوا کی مناسبت سے اچھی پیداوار دینے والی گند م کی منظور شدہ اقسام منتخب کی جائیں ۔قسم کے انتخاب میں اسکی دیگر خصوصیات میں گرنے اوربیماری کے خلاف قوت مدافعت کے علاوہ ضرررساں کیڑوں کے خلاف قدرے سخت جان ہواور پانی کی کمی کی صورت میں بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ہو۔ عام طور پر کاشتکار پہلے سے منظورشدہ مرو جہ اقسام ہی کا شت کرتے چلے آرہے ہیں ۔ اگرچہ گندم مختلف اور متغیر قسم کی(Diversified) آب وہوا میں ہو جاتی ہے مگر کسی بھی قسم سے بہتر پیداوار حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کو علاقہ بندی کے مطابق متعلقہ علاقے میں ہی لگایا جائے ۔بعض اقسام کی پیداواری صلاحیت بہت زیادہ ہوتی ہے مگر اس میں کیڑوں اوربیماریوں کے خلاف قوت مدافعت کم اور گرنے کا امکان بہت زیادہ ہو تا ہے۔ موسمی حالا ت کا مقا بلہ کرنے والی اقسام کا انتخا ب کیا جائے تو گندم کی فی ایکر زیادہ پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ 10ایکڑسے زیادہ کا شت کی صورت میں ایک سے زیادہ اقسام کاشت کی جائیں تا کہ کاشتی امور یا موسمی حالات کی وجہ سے کسی ایک قسم کے متاثر ہونے پر فارم کی آمدن پر برا اثر نہ پڑے۔

(iiبیج کو زہر آلود کرنا: پھپھوند کش زہروں،بائیو فرٹیلائزر، اگاؤ میں اضافہ اور ابتدائی بڑھوتری کو تیز کرنے والے گروتھ ہارمونز پرمبنی مرکبات سے گندم کے بیج کو آلودہ کرکے کاشت کیاجائے تواس کی پیداوار میں 5سے15فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔ بیشترکاشتکار اپنا تیار کردہ جو بیج استعمال کر تے ہیں اس میں ممنی ، اکھیڑا، کنگی، کانگیاری اور بنٹ جیسی مختلف بیماریوں کے جراثیم موجود ہوتے ہیں۔ ان بیماریوں کی وجہ سے آبپاش علاقوں کے مقابلہ میں بارانی علاقوں میں زیادہ نقصان ہوتاہے۔ مو ٹے اور صحت مند بیج سے اگنے والے پودے اپنے اندر موجود زیادہ قوت مدافعت کی بدولت بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں مگر کمزور بیجوں سے اگنے والے پودوں میں بیماریوں سے متاثرہونے کا رجحان زیادہ پایا جاتا ہے۔

گندم پیدا کرنے والے بیشتر ممالک میں نہ صرف تمام بیجوں کو پھپھوند کش زہروں سے آلود کرکے کاشت کیا جاتا ہے بلکہ بیج کے لئے رکھی ہوئی گندم کی خصوصی حفاظت کی جا تی ہے اور زہر آلود بیج کو بطور خوراک استعمال نہیں کیا جاتا ۔ پاکستان میں یہ رواج ابھی تک فروغ نہیں پا سکا ۔ پرائیویٹ کمپنیوں اورسیڈ کارپورشن کے تیار کردہ زہر آلود بیج کی مقدار کل در کار بیج کا بمشکل 18تا 20فیصد ہوتی ہے باقی سارا بیج کاشتکار اپنا یا ایک دوسرے سے مانگ کر استعمال کر تے ہیں۔جب بیج کو مختلف زہروں سے زہر آلود کیا جاتا ہے تو نہ صرف بیج کے ساتھ چمٹے ہو ئے جراثیم مر جاتے ہیں بلکہ اگاؤ کے بعد بھی ایک خاص سٹیج تک پودا بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔زرعی سائنسدانوں کی طرف سے گندم کے کاشتکاروں کو بیج زہر آلود کرنے کے لئے ٹیبوکونا زول پلس امیڈا کلوپرڈاستعمال کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔یہ زہر20ملی لٹرفی کلو گرام بیج کو لگاکر کاشت کیا جائے تو گندم کی فصل نہ صرف ابتدائی مرحلہ پر بیماریوں سے محفوظ رہتی ہے بلکہ اس فصل پر گندم کے تیلے کا حملہ بھی کم ہوتاہے۔

(iii جڑی بوٹیوں سے پاک بیج: اگرجڑی بوٹیوں کی آمیزش سے پاک بیج استعمال کیا جائے تو نہ صرف موجودہ فصل کی پیداوار بہتر رہتی ہے بلکہ آئندہ کے لئے بھی کھیت میں جڑی بوٹیاں کم ہو تی ہیں۔ جڑی بو ٹیوں خصوصا لہلی، جنگلی جئی، جنگلی مٹر،ریواڑی اور دمبی سٹی کے بیجوں سے ملاوٹ شدہ گندم کا بیج کا شت کر نے سے یہ جڑی بوٹیاں نئے کھیتوں میں پہنچ جاتی ہیں۔ گندم کے ساتھ ہی ان کا اگاؤہوتا ہے اور فصل کی پیداوار کو نقصان پہنچاتی ہیں۔جڑی بوٹیوں کی آمیزش سے پاک بیج بنانے کے لئے کھیت میں موجودہ فصل کو جڑی بوٹیوں سے مبرا کیا جائے ۔ کا شتی امور کے مقابلے میں جڑی بو ٹی مار زہریں سپرے کر کے کھیت کو جڑی بوٹیوں سے پاک کیا جائے۔ اگر بیج غیر سپرے شدہ کھیت کا ہو تو کاشت سے قبل اس کو سیڈ گریڈر سے اچھی طرح صاف کرنا ضروری ہے۔ بعض اوقات انتہا ئی خطر ناک (Noxious) جڑی بوٹیوں کے بیج گندم کے بیج سے ملے ہوتے ہیں ۔مثلاً دمبی سٹی کا بیج 1960 کے عشرہ میں میکسیکو سے درآمد کردہ گندم کے بیج کے سا تھ ملکر پاکستان میں پہنچا تھا۔ آج کل دمبی سٹی ھما ری گندم کے لئے انتہائی نقصان دہ جڑی بوٹی کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ جڑی بوٹیوں کے بیجوں والی گندم کی قیمت نہ صرف اندرون ملک کم ہوتی ہے بلکہ ایسی گندم کی برآمد میں بھی مشکلات پیدا ہو جا تی ہیں ۔ اس طرح جڑی بوٹیاں بڑے قومی نقصان کا باعث بنتی ہیں۔ چنانچہ گندم کا بیج ہمیشہ صاف ستھرا استعمال کیا جائے جڑی بوٹیوں کے بیجوں کو مکمل طور پر بیج سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔لیہلی اور دیگر جڑی بوٹیوں کے 0.1سے 0.2 فیصدتک موجود گندم کے لئے قا بل قبول سمجھی جاتی ہیں۔

(ivبہتر اگاؤ کی صلا حیت: گندم کی زیادہ پیداوار حاصل کر نے کے لئے بہتر اگاؤ والے صحت مند بیج کی ضرورت ہوتی ہے۔گندم کے بیج کا 90فیصد سے زیادہ اگاؤہونا ضروری ہے۔ بوائی سے ایک ہفتہ قبل اس کا اگاؤ معلوم کر لیا جا ئے۔ اگر بیج بظا ہر صحت مند ہو اور باوثوق ماخذسے حاصل کیا گیا ہو تو اگاؤ کاٹیسٹ کرانے کی ضرورت نہیں ہوتی اس لئے سفارش کردہ شرح بیج ہی استعمال کیا جائے۔گندم کے بیج کوگوداموں کے خطرناک کیڑے سسر ی کے حملہ سے بچانا ازحد ضروری ہے۔ سسری جب ذخیرہ شدہ گندم پر حملہ آور ہوتی ہے تو اگاؤ دینے والے حصے (Embryo) کو پہلے کھاتی ہے اور خوراکی حصے(اینڈوسپرم)کو بعد میں کھاتی ہے ۔ کیڑے سے متاثرہ بیج میں اگنے کی صلا حیت کم ہو جاتی ہے۔ اگر باامر مجبوری گودام کے کیڑوں سے متاثرہ بیج استعمال کرنا پڑے تو شرح بیج اسی حساب سے زیادہ رکھی جائے۔ اس کے علاوہ بیج والی گندم کو اچھی طرح خشک کر کے ہوا دار سٹور میں محفوظ رکھا جا ئے کیو نکہ گہائی کے فورا بعد بیج کو بڑے بھڑولوں (Containers)میں ڈال دیا جا ئے تو بیج گرم ہوجاتا ہے اور اس کی اگاؤ کی صلاحیت میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔

(v گریڈ شدہ بیج کا استعمال: گندم کی منتخب کردہ اقسام کے بیج میں موٹے اور باریک دانے موجود ہوتے ہیں۔مو ٹے دانوں والے بیج کا اگاؤ زیادہ ہو تا ہے ۔سیڈگریڈر کی مددسے باریک بیجوں کوالگ کر نے کی سفارش کی جاتی ہے۔سیڈ گریڈر کے استعمال سے نقصان دہ کیڑوں سے متاثرہ، ٹوٹے ہوئے ،جڑی بوٹیوں کے بیجوں اور بیکار مواد(Innert matter)کو الگ کیا جاتا ہے۔چنانچہ کاشت سے قبل بیج کو سیڈگریڈر میں سے گزارا جائے اور کمزور بیجوں کو الگ کیا جائے۔گندم کی بہتر پیداوار کے لئے سیڈ گریڈر کے استعمال سے حاصل شدہ بیج کا بہتر اگاؤ بنیادی اہمیت کا حا مل ہے ۔ اس لئے کا شتکا روں کو موٹے ، صحت مند اور سالم بیج کی وافر مقدار کا بندوبست کرنا چاہئے ۔ عام سیڈ گریڈر ایک گھنٹے میں8من بیج صاف کرسکتا ہے۔ بہتر ماحول میں تیارشدہ گندم کی موٹے دانوں والی اقسام مثلاًگیلیکسی 2013،پنجاب2011کا ایک من بیج گریڈر سے گزاراجائے تواوسطاً2کلوگرام باریک بیج الگ ہوجاتاہے۔اسی سائز کے گریڈر سے باریک دانوں والی مثلاً آری2011، لاثانی2008 جیسی اقسام کے ایک من بیج سے3تا 4کلوگرام باریک بیج الگ ہوجاتاہے۔اگر خشک سالی،کم پانی یا کسی اور وجہ سے دانہ سکڑچکاہوتو 10 کلو گرام تک باریک بیج الگ ہوسکتاہے۔

مزید : ایڈیشن 2