حضرت داتا گنج بخش کا عرس یوم فیض گنج بخش کے طور پر منایا گیا

حضرت داتا گنج بخش کا عرس یوم فیض گنج بخش کے طور پر منایا گیا

لاہور (نمائندہ خصوصی)انٹرنیشنل بزم قادریہ جیلانیہ کے زیر اہتمام حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ کے 973 ویں سالانہ عرس مقدس کو ملک بھر میں یوم فیض گنج بخش کے طور پر منایا گیا۔ مرکزی اجتماع آستانہ شاہِ گردیز مغلپورہ لاہور میں ہوا جس میں پیر سید شاہد حسین گردیذی، حاجی محمد قاسم شاہ گردیزی، حکیم سہیل واحد خان، مفتی دلنواز نورانی، پروفیسر احمد حسین، میاں آصف اور دیگر نے خطاب کیا۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت داتا گنج بخش کی بر صغیر میں اسلام کی اشاعت تبلیغ اور خدمت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ آپ کی تعلیم و تصانیف اور ان کا مزار مخلوق خدا کے لیے بہت بڑا ہدایت کا ذریعہ ہے۔ داتا گنج بخش رحمتہ اللہ تعالی علیہ ظاہری اور باطنی علوم میں اپنے وقت کے امام تھے جس کا اندازہ ان کی مشہور کتاب کشف المجوب سے لگایا جا سکتا ہے۔ آپ نے بر صغیر میں اسلام کی شمع روشن کی اور آپ نے تصوف کے چشم ثانی میں ابھرنے والی ہر موج کو شریعت اسلام کا پابند بنایا۔ علماء نے کہا کہ عرس کے موقع پر ڈھول ڈھمکوں ، بھنگڑوں سمیت غیر شرعی حرکات کی شریعت میں ہرگز اجازت نہیں۔

ہم ایسی تمام غیر شرعی حرکات کی پر زور مذمت کرتے ہیں ۔لہذا محکمہ اوقاف سمیت حکومت عرس کے موقع پر ڈھول، بھنگڑے سمیت غیر شرعی حرکات کو سختی سے روکے۔ فیض گنج بخش کے اجتماع میں حکومت سے مطالبہ کیاگیا کہ ایسا لٹریچر جو فرقہ واریت کو پروان چڑھائے اور بالخصوص مزارات اولیاء جو انوار و تجلیات کے مراکز ہیں ان کے بارے میں غلط پروپیگنڈا کا باعث ہے جن کو پڑھ کر نا پختہ ذہن غلط راستوں کا انتخاب کرتے ہیں ایسے ہر قسم کے لٹریچر پر پابندی لگائی جائے۔ داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ کی مشہور کتاب کشف المجوب کو نصاب تعلیم میں شامل کیا جائے۔ مزار سے ہونے والی آمدن سے لاہور میں انٹرنیشنل علی ہجویری یونیورسٹی بنائے جائے۔ مزاروں پر ہونے والے دہشتگرد حملوں کے منصوبہ سازوں کو گرفتار کر کے سزا دی جائے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4