سپریم کورٹ کے حکم باوجود اُردو کو قومی زبان کا درجہ حاصل نہ ہوسکا

سپریم کورٹ کے حکم باوجود اُردو کو قومی زبان کا درجہ حاصل نہ ہوسکا

  



 لاہور(عامر بٹ سے)قیام پاکستان سے آج تک 69سال گزر جانے کے باوجود بھی اردو کو قومی زبان کا درجہ حاصل نہ ہو سکا،پاکستان کی 80فیصد آبادی انگریزی زبان سے نا بلد ہو نے کی وجہ سے سرکاری احکامات،فیصلہ جات ،درخواستیں ،انکوائریز کا حقیقی متن سمجھنے سے قاصر،بیورو کریسی اور افسران کی کثیر تعداد بھی اردو زبان میں مکمل د سترس نہ ہونے کی وجہ سے انگریزی زبان کے پیچھے خود کو محفوظ سمجھنے لگی ،1956،1962اور 1973کے آئین کی رو سے اردو کو سرکاری زبان قرار دینے کی شقوں پر بھی عمل درآمد نہ ہو سکا،تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں اگلے پندرہ سال تک اردو کو سرکار ی زبان کا درجہ حاصل ہو جائے گا یہ فیصلہ 7ستمبر2015 کو سنایا گیا ،جس کے مطابق تمام سرکاری محکمہ جات میں فیصلہ جات،انکوائریاں ،رپورٹس ،قوانین وغیرہ کو اردو میں تراجم کے ذریعے تبدیل کر دیا جائے گا ،حیرت کی بات یہ ہے کہ آئین کے آرٹیکل 251کے تحت اردو کو سرکار ی زبان کا درجہ قرارد یا گیا ہے لیکن اگر پاکستان میں آئین سازی کے ارتقاء پر نظر ڈالی جائے تو قرار مقاصد 1949کے بعد 1956،1962اور 1973کے آئین میں بھی اردو کو سرکار ی زبان کا قرار دیا گیا لیکن کئی دہائیاں گزر جانے کے بعد اردو کو آئین کے تحت یہ درجہ نہ مل سکا اور یہ شق صرف تاریخ اور مطالعہ کے طالب علموں کے پڑھنے کے لئے رہ گئی ہے ،جس طرح اسلام سرکا ری مذہب ہے لیکن عملی طور پر اسلام کا وجود کہیں نظر نہیں آرہا ہے اسی طرح اردو کو بھی صرف آئین کی رو سے سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے لیکن عملی طورپر سرکاری طور پر ہر کام میں انگریزی لکھنے اور پڑھنے کو فوقیت حاصل ہے ،پاکستان کے تعلیمی اداروں کے سلیبس میں ،بول چال،لکھنے اور پڑھنے میں ،عدلیہ،پولیس اسٹیشن،ہسپتال،پارک ،یوٹیلیٹی بلز کا تما م مواد،پاسپورٹ آفس،ڈرائیونگ لائسنس اور دوسرے ڈاکومینٹس،آڈیٹر جنرل آفس ،اکائنٹ جنرل آف پاکستان ،ریونیو اور الیکشن کمیشن کا تمام مواد بھی انگریزی میں ہے جس کو ایک اسٹیٹس کا درجہ بھی حاصل ہے انگریزی زبان میں پیش کردہ اس مواد کو پاکستان کی 80فیصد سے زیادہ آبادی پڑھنے سے قاصر ہے ،اگر یہ تمام مواد اور فیصلہ جات اردو میں فراہم کئے جائیں تو عام آدمی ان کو پڑھ کر باخبر ہونے کے ساتھ قوانین سے بھی آگاہ ہو سکتا ہے ،ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ملک کے تمام اداروں کو 15ستمبر تک سپریم کورٹ کے فیصلہ پر من و عن عمل درآمد کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں لیکن ابھی تک اس پر عمل درآمد نہ ہو سکا ہے ،پاکستان میں بیوروکریسی کی ایک مخصوص لابی بھی اردو کے مقابلے میں اپنی کمزریوں کو چھپانے کے لئے انگریزی کو ترجیح دیتی ہے تاکہ عام آدمی گوں مگوں کی کیفیت میں مبتلاء رہے ،عوام کی کثیر تعداد نے سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کو احسن اقدام قرار دے کر اس کو پاکستان کے لئے خوش آئند قرار دیا ہے ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1