حرمین کی طرف اٹھنے والی ہر آنکھ پھوڑ ڈالیں گے، تحفظ حرمین شریفین کانفرنس

حرمین کی طرف اٹھنے والی ہر آنکھ پھوڑ ڈالیں گے، تحفظ حرمین شریفین کانفرنس

لاہور( خصوصی رپورٹ )مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین نے جماعۃالدعوۃ کی تحفظ حرمین شریفین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ قرآن پاک کی بے حرمتی اور شان رسالت ﷺ میں گستاخیاں کرنے والے بیت اللہ پر میزائل حملہ کرنیوالوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔حوثی باغیوں کو میزائل دینے والوں کے چہروں سے نقاب اترنا چاہیے۔حرمین کی طرف اٹھنے والی ہر آنکھ پھوڑ ڈالیں گے اور سروں پر کفن باندھ کر مکہ اور مدینہ کا تحفظ کریں گے۔ ایران واضح اعلان کرے کہ مکہ مکرمہ پر حملہ کرنے والے حوثی باغیوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ اس سے مسلمانوں کے سینے ٹھنڈے ہوں گے اور صلیبی و یہودی سازشیں ناکام ہوں گی۔ حرمین کے تحفظ کیلئے امت کو متحد کرنااور نفاق کو واضح کرنابہت ضروری ہے۔تحفظ حرمین شریفین کیلئے بڑے پیمانے پر ملک گیر تحریک اور شہر شہر جلسوں و کانفرنسوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ داعش جیسی تنظیمیں کھڑی کر کے مسلم ملکوں میں دہشت گردی کو پروان چڑھایا جارہا ہے۔ حرمین کے تحفظ کیلئے عالم اسلام کی سطح پر اتحاد کی ضرورت ہے۔اس سلسلہ میں ملکوں کے سفیروں سے ملاقاتیں کی جائیں گی۔ حرمین کی حفاظت کے لئے امت مسلمہ پر جہاد فرض ہو چکا ہے۔آئی ایٹ مرکز اسلام آبا دکے وسیع و عریض گراؤنڈ میں منعقدہ کانفرنس سے امیر جماعۃالدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید،چیئرمین دفاع پاکستان کونسل مولانا سمیع الحق،محمد اجمل خان وزیر، پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی،مولانا فضل الرحمان خلیل، حافظ عبدالسلام بن محمد،عبداللہ گل،مولانا امیر حمزہ، حافظ عبدالغفار روپڑی،پیر محفوظ حسین مشہدی، میاں محمد اسلم،سید ضیا ء اللہ شاہ بخاری،علامہ زبیر احمد ظہیر،سردار محمد خان لغاری،قاری محمد یعقوب شیخ، مولانا عبدالعزیز علوی، مولانا سیف اللہ خالد،علی عمران شاہین ودیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ ہزاروں شرکاء کو مکمل جامہ تلاشی کے بعد پنڈال میں جانے کی اجازت دی گئی۔ مقررین کے خطابات کے دوران مکہ مکرمہ پر حوثی باغیوں کے میزائل داغنے کے تذکرہ پر زبردست جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔ ہزاروں شرکاء کی طرف سے حرمین کی حرمت پر جان بھی قربان ہے‘ کے فلک شگاف نعرے لگائے جاتے رہے۔ امیر جماعۃالدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہاکہ ہم اس وقت بہت مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔ یہ معمولی نہیں غیر معمولی حالات ہیں‘دنیا میں نئی صف بندی ہو رہی ہے۔ امریکہ میں ٹرمپ کا آنا اور اسی ہفتہ اسرائیل کے صدر کا دہلی پہنچنا خطرات کی گھنٹیاں ہیں۔ ان باتوں پر ہمیں غور کرنا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کا اس وقت چاروں اطراف سے گھیراؤ کیا جارہا ہے۔ یہ دونوں ملک اسلام کی پہچان ہیں یہی وجہ ہے کہ اسلام دشمن انہیں نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان حالات میں چاہیے کہ تمام عالم اسلام متحد ہوجائے ۔ افغانستان میں مار کھانے والا امریکہ، اسرائیل اور بھارت ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔اصل مسئلہ اندر سے پیدا ہونے والا نفاق ہے اور مسلمانوں میں پیدا کی جانے والی منافرت ہے۔ خلیج میں اس وقت جو صورتحال پیدا کی جارہی ہے۔ یہ بہت بڑی سازش ہے۔ انہوں نے کہاکہ جب جنگ کے حالات ہوں، عالم کفر اکٹھا ہو اور اسلام و مسلمانوں کو نشانہ بنا یا جارہا ہو تو اس وقت اللہ تعالیٰ باہمی اختلافات چھوڑ کر مسلمانوں کے ایک ہونے کا پیغام دیتا ہے۔ حرمین شریفین اور سعودی عرب کا دفاع پورے عالم اسلام کا فرض ہے۔

مزید : صفحہ آخر