محفوظ پنجاب کے تصور کو عملی جامہ پہنانے کیلئے روڈسیفٹی کو یقینی بنایا جائے ، ڈاکٹر رضوان نصیر

محفوظ پنجاب کے تصور کو عملی جامہ پہنانے کیلئے روڈسیفٹی کو یقینی بنایا جائے ، ...

  



لاہور(کرائم رپورٹر) پنجاب ایمرجنسی سروس (ریسکیو 1122)نے گذشتہ روز پنجاب بھر میں روڈ ٹریفک حادثات کے متاثرین کی یاد کا عالمی دن منایا۔ اس حوالے سے ریسکیو سروس نے ٹرانسپورٹ اینڈروڈسیفٹی فاؤنڈیشن کے باہمی اشتراک سے پنجاب بھر میں متاثرین کی یادکومنانے کے حوالے سے آگاہی واک کااہتمام کیا۔ اس دن کو منانے کامقصدمعاشرتی سطح پر ٹریفک حادثات کی بڑھتی ہوئی شرح کی روک تھام کے لیے شعور اجاگر کرنا ہے۔ سکول کے طلبہ، اساتذہ ،اور ریسکیورزپر مشتمل آگاہی واک کا آغاز شمع چوک فیروزپورروڈسے ہوا جو ریسکیو 1122ہیڈ کوارٹرزپر اختتام پذیر ہوئی ۔ ڈی جی ریسکیو پنجاب ڈاکٹر رضوان نصیر نے واک کی قیادت کی جس میں ڈی جی ایمرجنسی سروسز اکیڈمی بریگیڈئر (ر)امیر حمزہ، رجسٹرار اکیڈمی ڈاکٹر محمد فرحان خالد، ٹرانسپورٹ اینڈ روڈ سیفٹی فاؤنڈیشن کے صدرکے زیڈ خوشحالی، آصف خواجہ کمیونٹی ممبرزاور سول سوسائٹی کے ارکان نے شرکت کی۔ ریسکیو ہیڈکوارٹرز میں شرکا سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر رضوان نصیر نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے روڈ سیفٹی اتھارٹی قائم کردی ہے جس کے تحت ڈرائیونگ لائنسنگ سسٹم، ٹریفک انجینئرنگ، وہیکلز فٹنس سسٹم، رجسٹریشن، ڈیٹابیس اور ٹریفک منیجمنٹ سسٹم کو موثر بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ روڈ سیفٹی کو یقینی بنائیں تاکہ ہم محفوظ پنجاب کے تصور کو عملی جامہ پہنا سکیں۔ اس موقع پر انہوں نے روڈ ٹریفک حادثات کے حوالے سے اعداد و شمارپیش کرتے ہوئے کہاکہ ضلعی ایمرجنسی سروسز نے پنجاب کے تمام 36 اضلاع میں 14لاکھ سے زائد ٹریفک حادثات کے متاثرین کو ریسکیو کیاہے۔ نہوں نے کہا کہ ریسکیو 1122 پنجاب کے تمام اضلاع میں روزانہ اوسطاً 500سے زائد ٹریفک حادثات پر ریسپانڈ کرتی ہے جس میں اوسطاً 700 افراد متاثر ہوتے ہیں،جن میں چار پانچ سوفراد شدید زخمی ہوتے ہیں جبکہ دوسو تین سو معمولی زخمی ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حادثات اموات کی نویں بڑی وجہ ہیں اور ان کی روک تھام کے حوالے سے ہنگامی اقدامات نہ کئے گئے تو 2030تک یہ پانچویں بڑی وجہ بن جائیں گے۔ انہوں نے والدین اور اساتذہ پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو موٹر بائیک دینے سے پہلے ہیلمٹ کے استعمال پر زور دیں تاکہ ملک کے مستقبل کی نسل کو محفوظ بنایا جاسکے۔ اس موقع پرڈی جی ایمرجنسی سروسز اکیڈمی بریگیڈئر امیر حمزہ کا کہنا تھا کہ اگرچہ ریسکیو 1122ہر ٹریفک حادثہ پر ریسپانڈ کرنے کیلئے تیار رہتی ہے مگر ہمیں حادثات کی روک تھام کے لئے کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کمیونٹی کو چاہیے کہ وہ آگے آئیں اور ٹریفک حادثات کی روک تھام کے لئے ہمارا ساتھ دیں جبکہ میڈیا کا کردار بھی اہم ہے جو حادثات کے حوالے سے شعور اجاگر کرسکتا ہے۔ اس موقع پر ٹراسپورٹ اینڈروڈ سیفٹی فاؤنڈیشن کے صدرکے زیڈ خوشحالی نے کہا کہ روڈ ٹریفک حادثات پاکستان میں ہرخاندان کومتاثرکررہے ہیں ، لیکن بدقسمتی سے میڈیاان حادثات کو اس طرح کوریج نہیں دیتاجس طرح دیگرایشوز کو ہائی لائٹ کیاجاتاہے، بلکہ حادثات کو انفرادی کیس سمجھ کرنظرانداز کردیاجاتاہے ۔آصف خواجہ کا کہنا تھا کہ سکول؛ کالج اور کمیونٹی کی سطح پرمختلف آگاہی پروگرام ترتیب دئے جائیں اورمیڈیاا نہیں پوری کوریج دے تاکہ لوگوں میں احساسِ ذمہ داری بیدارہواور نوجوانوں کی اموات کی سب سے بڑی وجہ کو کم سے کم کیاجاسکے۔

مزید : علاقائی