وزیر مملکت برائے اطلاعات سے ملاقات

وزیر مملکت برائے اطلاعات سے ملاقات
 وزیر مملکت برائے اطلاعات سے ملاقات

  



وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگ زیب سے ملاقات میرے لئے حیران کن رہی، حیرانی کی وجہ یہ تھی کہ میں پرویز رشید جیسے منجھے ہوئے سیاسی کارکن کے بعد ایک نوجوان خاتون سے اس ذمہ داری کے کامیابی سے نبھانے بارے کافی حد تک شکوک کا شکار تھا، پر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے زیادہ سوشل میڈیا کے اس شتر بے مہار دور میں مسلم لیگ نون کی حکومت کی ترجمانی کسی طور کوئی آسان کام نہیں ،یہ رائل پام میں لاہور کے سینئر صحافیوں، کالم نگاروں اور مدیروں کے ساتھ ڈنر تھا جس میں لاہور کے چند وہ گھاگ صحافی بھی شامل تھے جوہر رو ز یہ ثابت کرتے رہے ہیں کہ جی کا جانا ٹھہر گیا ہے صبح گیا یا شام گیا، یہاں ہر کوئی عقل کل ہے ، ہر کسی کے پاس مصدقہ اطلاع اور حتمی تجزیہ ہے تو ان کے مقابلے میں مریم اورنگ زیب کے ناک آوٹ ہونے کے امکانات زیادہ تھے۔

پہلا سوال یہی تھا کہ کیا آپ کو پرویز رشید جیسے تجربہ کار سیاستدان کے بعد یہ اہم ترین ذمہ داری سنبھالنے پرمشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو اس کا دوٹوک انداز میں جواب تھا، نہیں۔ کہتے ہیں خداجب حسن دیتا ہے تو نزاکت آ ہی جاتی ہے اور خدا جب عہدہ دیتا ہے تو اعتماد آہی جاتا ہے، مجھے ان کے جوابوں میں جو چیز سب سے زیادہ نظر آ رہی تھی وہ دوسروں کے لئے عزت اور احترام کے ساتھ ساتھ یہی اعتماد تھا۔ مریم اورنگ زیب نے کہا، انہوں نے ذمہ داری ا س وقت سنبھالی ہے جب احتجاجی تحریک اور دھرنے ختم ہو چکے، مسلم لیگ نون کی حکومت پاکستان کی تاریخ کی واحد حکومت ہے جس کے ساتھ باقاعدہ میٹرو اور موٹر ویز جیسے بہت سارے برینڈز منسلک ہوچکے،دہشت گردی پر بہت حد تک قابو پایا جا چکا کہ وہ چودھری نثار علی خان کے ساتھ وزارت داخلہ میں ذمہ داریاں سرانجام دیتی رہی ہیں لہٰذا وہ کوششوں اور کامیابیوں سے بے خبر نہیں، نیشنل ایکشن پروگرام میں نیکٹا کو زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے مگر نیکٹا ہی کے پلیٹ فارم سے وفاق اور تمام صوبوں کی ایجنسیوں کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ ہوئی ہے، کراچی میں امن کے لئے کوششیں بار آور ہو چکیں،وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے لوڈ شیڈنگ میں نمایاں کمی کی جا چکی، سی پیک سے تجارتی قافلے کو روانہ کیا جا چکا اور یہی وہ بنیادی ہیں کہ پاکستان میں شمالی علاقہ جات میں سڑکیں اور ہوٹل گذشتہ برس بھی سیاحوں کا بوجھ برداشت کرنے میں ناکام رہے، یہ بڑی کامیابیاں لہٰذا وہ خود کو بہت آرام دہ محسوس کر رہی ہیں۔ اس موقف کوبھلا ہمارے سینئر صحافی کہاں معاف کرتے تھے، ترنت حملہ ہوا، ایک طرف ملکی تاریخ کا سب سے اہم مقدمہ سپریم کورٹ میں ہو اور دوسری طرف حکومت کو’ سیکورٹی بریچ ‘جیسے الزامات کا سامنا ہو تو وہ کس طرح آرام دہ محسوس کر سکتی ہیں،جوا ب تھا،سپریم کورٹ میں ان چار بنیادی سوالوں کے جواب دئیے جا چکے جو پوچھے گئے تھے لہٰذا اب فکر کی کوئی بات نہیں، مقدمہ آگے بڑھے گا تو سب واضح ہو جائے گا، اب تک تمام ’لیگل گُروز‘ حکومت کے حق میں رائے دے رہے ہیں اور جہاں تک ڈان لیکس کا سوال ہے تو حکومت اس پر اگر کمفرٹ ایبل ہوتی تو کمیٹی قائم نہ کی جاتی، اب چونکہ ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی اپنا کام شروع کر رہی ہے لہٰذا وہ اس پر رائے نہیں دینا چاہتیں۔ یار دوستوں نے اگلا باؤنسر وزیراعظم کے داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے بارے انگریزی اخبار کی ایک اور سٹوری کو لے کر پھینکا، پوچھا گیا، وزیراعظم کے داماد کیپٹن صفدر کا وزیراعظم کے سیکرٹری فواد حسن فواد کے ساتھ جھگڑا ہوا اور انہوں نے بیوروکریٹوں کی اعلیٰ گریڈز میں ترقی کے حوالے سے وزیراعظم کے سیکرٹری پر سوال اٹھائے، وزیر مملکت کا جواب تھا کہ وزیراعظم کے داماد رکن قومی اسمبلی بھی ہیں اور ایک رکن قومی اسمبلی کو پالیسی امور پرتحفظات بھی لاحق ہو سکتے ہیں لہٰذا اس بارے ان کی بجائے کیپٹن صفدر سے ہی پوچھا جائے تو بہتر ہے۔مجھے اس وقت بھی معاملہ بہت دلچسپ لگا جب پاکستان کے سینئرترین صحافی، پاکستان کی خارجہ پالیسی اور ریاستی مفادات کی بجائے کچھ ترک شہریوں کے مفادات کی ترجمانی کرنے لگے اور اتنی شدت سے کرنے لگے کہ غصے میں بھی لگے مگر اس کا جواب یہ تھا کہ بیشتر ملازمین کے کنٹریکٹ مکمل ہو چکے ، پاک ترک سکولوں میں ترک اساتذہ کی تعداد صرف بارہ فیصد ہے لہٰذا یہ کہنا درست نہیں کہ ان کے واپس جانے سے وہاں پڑھنے والے طلباو طالبات کی تعلیم رک جائے گی اور ریاستی مفادات بہرحال سب سے اہم ہیں۔ ان سے پوچھا گیا کہ سی پیک پر چھوٹے صوبوں سے اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں کیا وہ اس پر بھی کمفرٹ ایبل ہیں، جواب تھا کہ سی پیک پر اپوزیشن ہی کی ایک سینیٹر کی سربراہی میں پارلیمانی کمیٹی قائم ہے، جس کو جو بھی اعتراض ہے وہ پارلیمانی پارٹی میں پیش کرے، یقینی طور پرحل وہاں سے ہی نکلے گا کہ ہر کام کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے۔

مریم اورنگ زیب کی کامیابی یہ تھی کہ ان کے سامنے اتنے تجربہ کار صحافی موجود تھے جو اپنی دانش دوسروں کے دماغ اور اپنے الفاظ دوسروں کے منہ میں ڈالنے کے ماہرہیں مگر وہ بھرپور اعتماد اور چابکدستی کے ساتھ نہ صرف ان کے باؤنسرز کا مقابلہ کر رہی تھیں بلکہ جوابی شاٹس بھی لگا رہی تھیں،خوشگوار حیرانی یہ رہی کہ مسلم لیگ نون کے پاس میڈیامیں پارٹی اور حکومت کو بھرپور کمٹ منٹ کے ساتھ دفاع کرنے والوں کی اتنی شدید کمی رہی ہے اور کچھ پرویز مشرف کے وفاداروں میں سے مستعار لینے پڑے ہیں۔ یہاں میرے صحافی دوست غالباًمیری طرح ان کی تصویروں میں نظر آنے والی شخصیت سے دھوکے کا شکار ہوئے ۔ انہوں نے نہ صرف ہر کسی کو احترام سے مخاطب کیا بلکہ مطمئن کرنے کی بھی کوشش کی، امتیاز عالم رائیٹ ٹو انفارمیشن بل پر ان کے موقف سے اختلاف کر رہے تھے۔ مریم اورنگ زیب لاہور میں محترم مجیب الرحمان شامی صاحب کی رہائش گاہ پر بھی گئیں، خوشی ہوئی کہ وہ سینئرصحافیوں کو واجب عزت اور احترام دے رہی ہیں۔ ہو سکتا ہے یہ بات آ ف دی ریکارڈ ہو مگر سابق وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید سے میں نے جب اس تقرری بارے پوچھا تھا تو ان کے مطابق جب وہ وزیر اطلاعات تھے اور وزیراعظم کام کے بوجھ کے حوالے سے کسی منسٹر آف سٹیٹ کی تقرری کی بات کرتے تھے تو وہ مریم اورنگ زیب کا نام ہی تجویز کرتے تھے۔میرا تجزیہ ہے کہ پرویز رشید کی وزارت اطلاعات میں بھرپورطریقے سے واپسی ہو گی اور حکومت کی ترجمانی اور دفاع کے لئے ان کے ساتھ ایک بہترین ٹیم بنے گی۔

وزیر مملکت برائے اطلاعات نے کہا کہ حکومت پاکستان جنوری میں ’ رائزنگ پاکستان‘ کا نعرہ دینے جا رہی ہے، اس کی مہم اسی طرح ہو گی جس طرح بھارت میں شائننگ انڈیا کی بات کی گئی، صحافی دوست کہاں چوکتے تھے، انہوں نے کہا کہ جس بھارتی وزیراعظم نے یہ نعرہ دیا تھا وہ الیکشن بھی ہار گیا تھا، مریم اورنگ زیب نے فوراً حساب چکتا کہ کہ وہ الیکشن اس لئے ہار گیا تھا کہ وہ ایک Passive Prime Minister تھا مگر ہمارے وزیراعظم ایسے نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے سافٹ امیج کو ابھارنے کے لئے قومی سطح پر کلچر ل ایوارڈز کا سلسلہ ایک مرتبہ پھر شروع کیا جا رہا ہے،نیشنل آرٹسٹ کونسل کے تحت فنکاروں کی امداد کا پروگرام تیار کیا جا رہا ہے، جرنلسٹس کی سیفٹی اینڈ سیکیورٹی کا ایکٹ تیار ہے، اسے مشاورت کے لئے پریس کلبوں کے صدور اور دیگر سٹیک ہولڈروں کو بھیجا جا رہا ہے، کوشش ہے کہ اسے ایک ماہ میں منظور کروا لیاجائے، وزیراعظم کے ہیلتھ پروگرام میں رپورٹروں اور کیمرہ مینوں کو بھی شامل کیا جا رہا ہے کیونکہ کہا جاتا ہے کسی بھی ہنگامے میں کیمرہ تو انشورڈ ہوتا ہے مگرکیمرہ مین نہیں۔

بات چیت اس وقت ختم ہوئی جب ہمارے پاکستان کے دانشور پاکستان کی بجائے ترک اساتذہ کے مفادات کے لئے ڈٹ گئے ، وہ ترکی کی حکومت پر ایک کاروباری ادارے کے ترک ملازمین کو ترجیح دے رہے تھے اور پھرڈنرکے ساتھ ساتھ فوٹو سیشن شروع ہو گئے، بہت ساروں نے سیلفیاں بنانی شروع کر دیں لہذا اگر آپ سوشل میڈیا پر ایکٹو ہیں تو آپ کو لاہور کے بہت سارے صحافیوں کی وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگ زیب کے ساتھ بنائی گئی سیلفیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں، ظاہر ہے اعتراضات اہم سہی مگر تصویریں اپنی جگہ اہم ہیں۔ مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ اس نوجوان خاتون نے اپنی مدلل گفتگو سے واقعی حیران کیا کیونکہ مجھے پوری دیانتداری کے ساتھ توقع تھی کہ وہ اس بھاری پتھر کو نہیں اٹھا سکیں گی ، گرا دیں گی۔

مزید : کالم