نوٹو کی منسوخی کا بحران مودی کو ریاستی انتخابات میں شکست سے دوچار کر سکتا ہے ؟

نوٹو کی منسوخی کا بحران مودی کو ریاستی انتخابات میں شکست سے دوچار کر سکتا ہے ...

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

بھارت میں بڑے نوٹوں کی منسوخی کے بعد جس بحران نے جنم لیا ہے وہ اتنا گھمبیر ہے کہ گھنٹوں قطاروں میں کھڑے رہنے والے نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہو رہے ہیں جس کا ایک شرمناک مظاہرہ اس لڑکی نے کیا جو قطار میں کھڑے کھڑے تنگ آگئی تھی۔ اس نے سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں اپنے آپ کو بے لباس کرلیا تاہم ایک خاتون پولیس اہلکار فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور اس نے احتجاج کرنے والی لڑکی کو پہلے تو کپڑے پہنائے پھر اے ٹی ایم سے رقم نکلوانے میں اس کی مدد کی، لیکن جو دوسرے سینکڑوں لوگ مختلف اے ٹی ایم مشینوں سے رقم نکلوانے کیلئے قطاروں میں کھڑے تھے پولیس اہلکار ان کی مدد نہیں کرسکتے تھے البتہ ان لوگوں کی جو بپتا سامنے آ رہی ہے وہ کم از کم سننے سے تعلق ضرور رکھتی ہے۔ ایک بینک میں کیش ختم ہوگیا تو اس نے نوٹ بدلوانے والوں کو دس دس روپے کے سکے تھمانے شروع کردیئے۔ ایک صاحب کو اس کے بڑے نوٹوں کے عوض دس دس روپے والے سکوں کی بہت سی تھیلیاں تھما دی گئیں وہ پھر بھی خوش تھا کہ کچھ تو ملا۔ ان سکوں سے وہ اپنی تھوڑی بہت ضروریات آہستہ آہستہ پوری کرتا رہے گا۔ قطاروں میں لگے بوڑھوں میں بعض کی موت کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں اور ہریانہ میں تو ایک بینک کا افسر بھی زندگی کی بازی ہار گیا جو مسلسل تین دن تک بینک میں ڈیوٹی کرتا رہا کیونکہ بینک کے باہر نوٹ تبدیل کرنے والوں کی لائنیں لگی تھیں۔ خبروں کے اس ہجوم میں ایک خبر یہ بھی تھی کہ وزیراعظم نریندر مودی کی ضعیف العمر والدہ نے بھی قطار میں لگ کر بڑے نوٹ تبدیل کرائے۔ ہمارے امیر جماعت اسلامی سراج الحق کو یہ خبر اتنی پسند آئی کہ انہوں نے اس کا تذکرہ خصوصی طور پر اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں کیا اور اسے ’’میرٹ‘‘ کے ترازو میں تولا۔ ہمارا خیال ہے کہ انہوں نے اپنے ذرائع سے اس بات کی تصدیق کرلی ہوگی کہ یہ نریندرمودی کا کوئی ڈرامہ نہیں تھا جو وہ اکثر کرتے رہتے ہیں اور ایسے ڈراموں کی اوور ایکٹنگ کے دوران سارا بھانڈا پھوٹ جاتا ہے، جیسا پچھلے دنوں کنٹرول لائن پر ایک ڈرامہ سرجیکل سٹرائیک کی صورت میں سٹیج کیا گیا۔ چونکہ اڑی حملے کے بعد بھارتی نیتا بڑھ بڑھ کر یہ دعوے کر رہے تھے کہ وہ پاکستان کو سبق سکھا دیں گے۔ بھارتی میڈیا بھی حملے کے مشورے دے رہا تھا لیکن اسی دوران بھارتی فوجی قیادت کے یہ بیانات بھی سامنے آئے کہ بھارت کے پاس پاکستان سے لڑنے کی صلاحیت نہیں۔ ایئر چیف نے کہا کہ ایئر فورس کے طیاروں کے بیڑے پرانے ہیں، اس پس منظر میں مودی نے سرجیکل سٹرائیک کا ڈرامہ رچانے کا فیصلہ کیا اور اس کا اچانک ’’انکشاف‘‘ کردیا گیا جس کے جواب میں آئی ایس پی آر نے وضاحت کردی کہ کوئی سرجیکل سٹرائیک نہیں ہوئی اگر ہوتی تو ایسا کرنے والے لوٹ کر نہ جاتے۔ پھر آئی ایس پی آر نے عالمی میڈیا کو کنٹرول لائن کا دورہ کرایا اور انہیں دکھایا کہ جس جگہ سرجیکل سٹرائیک کا دعویٰ کیا جا رہا ہے وہاں کوئی آثار تو ہونے چاہئیں لیکن جس جگہ گھاس تک مسلی نہیں گئی تھی وہاں سرجیکل سٹرائیک کا یقین کیسے آتا؟ نتیجہ یہ ہوا کہ بھارتی سیاستدانوں کو جب حکومت نے بریفنگ دی اور انہوں نے سوال کرنے چاہے تو انہیں اس سلسلے سے روک دیاگیا پھر بھارتی مسلح افواج کی قیادت سے بریفنگ کرائی گئی تو اس نے بھی کسی سوال کا جواب نہ دیا۔ اب یہ سارا بھانڈا یوں پھوٹا ہے کہ گوا میں ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں بھارتی حکومت وہاں کے ووٹروں کو گمراہ کرنے کیلئے یہ نعرہ لگا رہی ہے کہ اس نے پاکستان کے خلاف سرجیکل سٹرائیک کی۔ وزیر دفاع منوہر پاریکر نے اپنے ایک انتخابی جلسے میں یہ دعویٰ دہرایا کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف سرجیکل سٹرائیک کی تھی۔ بھارت نے ایک مفروضہ کامیابی کو الیکشن میں کیش کرانے کا فیصلہ کیا ہے تو اس کیلئے مودی کی والدہ کو خفیہ پروٹوکول کے تحت کسی بنک کی برانچ کے باہر قطار میں کھڑا کرنا کیا مشکل ہے؟ تاکہ ان کروڑوں مشتعل افراد کے غصے کو ٹھنڈا کیا جاسکے جو کئی کئی گھنٹے قطاروں میں کھڑے ہوکر بھی بے نیل و مرام واپس لوٹ جاتے ہیں اور بعض کو ہزاروں کے بدلے میں دس، دس روپے کے سکوں کی تھیلیاں ملتی ہیں لیکن آفرین ہے ہماری جماعت اسلامی کے امیر پر جنہوں نے ہزاروں ایسی خبروں کے ہجوم میں سے ایک ایسی خبر تلاش کرلی جس سے مودی کی ’’میرٹ پسندی‘‘ نمایاں ہوتی تھی اور پھر اس کا خصوصی طور پر ذکر اپنے ٹی وی انٹرویو میں بھی کردیا، باریک بینی ہو تو ایسی لیکن جو لوگ نوجوان لڑکی کے برہنہ احتجاج کی خبر پڑھ چکے انہیں مودی کی والدہ کا واقعہ زیادہ متاثر نہیں کرسکتا۔ معلوم نہیں بھارت میں نیا جاری ہونے والا وہ دو ہزار کا نوٹ کہاں چلا گیا جو 500 اور 1000 کے نوٹ منسوخ کرنے کے بعد جاری کیا گیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ اس نوٹ کا سائز اے ٹی ایم مشینوں میں ایڈجسٹ کرنے کیلئے مشینوں کے سسٹم میں تبدیلی کی ضرورت ہے اور اس کیلئے وقت درکار ہے۔ مشینوں کی یہ ایڈجسٹمنٹ مرحلہ وار ہی ہوسکتی ہے جس پر کافی وقت صرف ہوسکتاہے۔ گوا کا انتخاب اگر ’’سرجیکل سٹرائیک‘‘ کے پردے میں جیتنے کی کوشش کی جا رہی ہے تو نوٹوں کی منسوخی سے پیدا ہونے والے بحران کی وجہ سے مودی آنے والے ریاستی انتخابات ہار بھی سکتے ہیں۔

ریاستی انتخابات

مزید : تجزیہ