کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ جاری ، پاکستان کا بھارت کیخلاف سخت سفارتی و جنگی اقدام پر غور

کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ جاری ، پاکستان ...

  



 مظفر آباد/اسلا م آباد/چڑھوئی(مانیٹرنگ ڈیسک،آن لائن)بھارتی فورسز کا کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر بلااشتعال فائرنگ کا سلسلہ گزشتہ روز بھی جاری رہا جبکہ پاک افواج نے بھرپور جوابی کارروائی کی۔میڈیا اطلاعات کے مطابق بھارتی سکیورٹی فورسز نے لائن آف کنٹرول پر وادی نیلم کے کیل سیکٹر میں بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کی تاہم کسی جانی و مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ پاک فوج کی جانب سے بھی بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جس میں دشمن کی فوج کو بھاری جانی و مالی نقصان ہونے کی اطلاعات ہیں۔چڑھوئی آزاد کشمیر کیری سیکٹر میں ہفتہ کے روز بھارتی فائرنگ سے شہید ہونیوالے چار بچوں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی، نماز جنازہ میں اپوزیشن لیڈر آزاد کشمیر چودھری یاسین سمیت لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خرابی موسم کی وجہ سے جنازے میں شرکت نہ کر سکے۔ پاک آرمی کے نوجوانوں نے نماز جنازہ میں شرکت کی اور شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔ دوسری جانب پاکستان نے بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول اورورکنگ باؤنڈری کی مسلسل خلاف ورزی اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافے کے بعد مودی حکومت کے عزائم کوناکام بنانے کیلئے سخت ترین سفارتی و جوابی جنگی اقدام پر غور شروع کردیا۔اس اقدام کے تحت اگر بھارت نے ان خلاف ورزیوں کوختم نہ کیا تو عالمی برادری کو صورتحال سے آگاہ کرنے کے بعد اپنے دفاع کے آپشن کے طور تینوں محاذوں پرفاسٹ ٹریک جنگی حکمت عملی کے تحت بھرپور جواب دیاجائے گا۔وفاقی حکومت کے اہم ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کی جانب سے بھارت کو واضح سفارتی پیغامات بھیجنے کے بعد مودی سرکار اپنے عزائم سے باز نہیں آرہی اورعام شہریوں کو نشانہ بنارہی ہے۔ وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ بھارتی خلاف ورزیوں اورعام شہریوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافے سے متعلق ہنگامی بنیاد پراقوام متحدہ، پورپی یونین اور تمام ممالک کی حکومتوں کودوبارہ آگاہ کیا جائے گااور مطالبہ کرے گا کہ بھارت کو ان خلاف ورزیوں سے روکا جائے۔وزیراعظم نے اس سلسلے میں دفتر خارجہ کو رابطے کی ہدایت کردی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کی مداخلت کے بعد بھی اگر مودی حکومت اپنے عزائم سے باز نہیں آئی تو پھر پاکستان ہر محاذ پر بھارت کو سخت ترین جواب دے گا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اقوام متحدہ، امریکا، چین سمیت اہم ممالک نے بھارت کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ اپنی موجودہ پالیسی پر نظر ثانی کرے اور مسائل کو مذاکرات سے حل کرے۔ بھارت اس صورتحال سے باز نہ آیا توپھر عالمی سطح پر مودی حکومت کو مختلف پاپندیوں یا مشکلات کاسامنا کرنا پڑسکتا ہے۔پاکستان نے عالمی برادری پر واضح کیا ہے وہ بھارت سے کشیدگی نہیں چاہتا ہے۔مسائل مذاکرات سے حل کرنے پر یقین رکھتا ہے تاہم اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو اپنے دفاع کیلیے تمام آپشنز اختیار کریگا۔پاکستان آخری حکمت عملی کے تحت بھارت سے تعلقات ختم کرسکتا ہے۔

اسلام آباد(آن لائن )پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل محمد ذکاء اللہ نے کہا ہے کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے خطہ میں امن و استحکام کا خواہاں ہے اورکسی بھی قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائیگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان نیوی فلیٹ اور چین کی بحریہ کے ٹاسک گروپ کے درمیان جاری چوتھی مشترکہ مشق کا جائزہ لینے کے موقع پر کیا ۔پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل محمد ذکاء اللہ نے گزشتہ روز چین کی بحریہ کے جہاز ہینڈن کا دورہ کیا۔بحیرہ عرب میں منعقد ہونے والی دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ مشق 19-21نومبرتک جاری رہے گی جس میں دونوں ممالک کے بحری جہازوں، ہیلی کاپٹرز،میری ٹائم پٹرول کرافٹ کے وسیع رینج کے میری ٹائم اور نیول آپریشنز ، سپیشل فورسز کے جوائنٹ بورڈنگ آپریشنز، فضائی دفاع کی مشقوں، مواصلاتی رابطوں کی مشقوں اور جہازوں کی مشترکہ مہارتوں کا جائزہ لیا گیا۔ کمانڈر پاکستان فلیٹ سید عارف اللہ حسینی بھی نیول چیف کے ہمراہ تھے۔ نیول چیف نے مشترکہ باہمی مشق کے دوران دونوں ممالک کی نیول فورسز کے آفیسرز اور جوانوں سے گفت و شنید کیاور ان کی جانب سے کئے جانے والے پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے اعلیٰ معیار ، آپریشنل اہلیت اور جنگی مہارتوں کے مظاہرے کو سراہا۔امیرالبحر نے چین کے بحری جہاز کے دورے اور مشقوں کے انعقاد پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ؔ ؔ پاک بحریہ کے سربراہ نے کہا کہ پاک بحریہ اور چین کی بحریہ کے درمیان مضبوط اور مثالی تعلقات ہیں جو مشترکہ میری ٹائم تعاون کی طویل تاریخ کے حامل ہیں اور دونوں ممالک کی نیول فورسزکے درمیان تعاون کی مستحکم قوت ہمیشہ دونوں فورسز کے درمیان مضبوطی کا وسیلہ ثابت ہوئی ہے۔اس تناظر میں یہ باہمی مشق خطے میں میری ٹائم سیکیورٹی اور استحکام کیلئے دور رس نتائج مرتب کرے گی۔علاوہ ازیں نیول چیف نے اپنے دورے کے دوران پاک بحریہ کے فلیٹ کی دفاعی تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔ پاکستان بحریہ کے افسروں اور جوانوں سے گفت و شنید کے دوران امیرالبحر نے ان کے جذبے کو سراہا ۔انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے خطہ میں امن و استحکام کا خواہاں ہے اورکسی بھی قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائیگا۔

سربراہ پاک بحریہ

مزید : کراچی صفحہ اول