رائزنگ پاکستان ، بی بی کا جے بی

رائزنگ پاکستان ، بی بی کا جے بی
 رائزنگ پاکستان ، بی بی کا جے بی

  



مریم اورنگزیب کے حلف اٹھانے کے بعد تک کسی نہ کسی شکل میں حکومتی، صحافتی اور عوامی حلقوں میں یہ احساس موجود تھا کہ کیا مریم اورنگزیب پرویز رشید کا متبادل بن پائیں گی کیا جس طرح پرویز رشید حکومتی مؤقف میڈیا کے سامنے رکھتے تھے مریم اورنگزیب رکھ سکیں گی پھر دیکھتے ہی دیکھتے لوگ کہنے لگے کہ مریم اورنگزیب تو پرویز رشید سے بھی بہتر انداز میں اپنی حکومت کی ترجمانی کر رہی ہیں اس کی ایک دلیل جو دی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ پرویز رشید کا ایک خاص حلقہ تھا وہ جس سے نکل کر عام صحافیوں سے ملنے جلنے سے گریزاں رہتے تھے۔ ان کا مزاج تھا یا حالات و واقعات نے ان کی زندگی میں ضرورت سے زیادہ سنجیدگی طاری کر دی تھی جو عام صحافیوں کیلئے ہضم کرنا ذرا مشکل لگتا تھا مگر مریم اورنگزیب ہر طرح کی صورتحال کو ڈیل کرنے میں مہارت رکھتی ہیں اور صحافیوں میں گھل مل جاتی ہیں گزشتہ روز مریم اورنگزیب لاہور کے دورہ پر تھیں وہ مختلف ٹی وی چینلز ، اخبارات کے دفاتر میں بھی گئیں۔ انہوں نے سینئر صحافیوں کے گھروں میں جا کر ملاقاتیں بھی کیں ، کھانے پر بھی سینئر صحافیوں کو مدعو بھی کیا۔ مجھے بھی ایک دو ایونٹس پر ان سے ملاقات کا موقع ملا وہ جہاں بھی گئیں انہوں نے کمال اعتماد کے ساتھ حکومت کے بارے صحافیوں کے تندو تیز سوالات کے جوابات دئیے ان کے جوابات میں تدبر بھی تھا ، ٹھہراؤ بھی تھا اور مدلل جواب بھی ۔ ہفتہ کی شب مقامی کلب میں سینئر صحافیوں کے اعزاز میں ڈنر کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کو آج جس قدر اندرونی اور بیرونی خطرات کا سامنا ہے ایسی صورتحال ماضی میں کبھی نہ تھی۔ آج جب پاک چین اکنامک کوریڈور جیسا گیم چینجر منصوبہ تکمیل کے باکل قریب ہے تو بیرونی سازشیں بھی اسی تیزی کے ساتھ سامنے آ رہی ہیں ۔ڈنر میں موجود سینئر صحافی امتیاز عالم نے ’’ رائٹ ٹو انفارمیشن بل ‘‘کے بارے سوال کیا جس کا مریم اورنگزیب نے انتہائی تفصیل کے ساتھ مدلل جواب دیا ،اسی طرح فتح محمد گولن کی تحریک سے تعلق رکھنے والے 400 اساتذہ کی پاکستان سے بیدخلی کے بارے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم کو ترکی کے شہریوں یا ترکی کے مفادات کے خلاف کام کرنے والوں سے زیادہ اپنے ملک اور شہریوں کی فکر کرنی چاہیے۔ یہ بات یقیناًدرست ہے کہ اگر ریاستِ پاکستان کو دوسرا برادر ملک درخواست کرتا ہے کہ فلاح فلاح لوگ ان کے ملک میں حالات خراب کر رہے ہیں تو ایسے افراد کے خلاف ایکشن لینے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے ۔ وزیر اطلاعات نے اس حوالے سے یہ بھی کہا کہ بین الاقوامی سطح پر یا دیگر ممالک سے باہمی تعلقات رومانس کی بنیاد پر نہیں ہوتے اور نہ ہی یہ ون وے ٹریفک ہوتی ہے بلکہ مختلف ممالک کے تعلقات ٹو وے ٹریفک ہوتی ہے جس میں ایک دوسرے سے تعلقات قائم رکھنے اور آگے بڑھانے کیلئے ایک دوسرے کی بات ماننی پڑتی ہے۔ یہاں یقیناًیہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ یہ تعلقات ذاتی مفادات پر نہیں ہونے چاہیے بلکہ ایسے تعلقات استوار کرتے وقت قومی مفادات کو پس پشت ڈال کر ذاتی مراسم یا رشتے مضبوط نہیں ہونے چاہئیں۔ اس کی کوئی بھی ذمہ دار ملک یا اس کا سسٹم اجازت نہیں دیتا۔ ڈنر میں سینئر صحافیوں کے علاوہ اوکاڑہ سے رکن قومی اسمبلی برادرم ندیم عباس ربیرہ اور صوبائی پارلیمانی سیکرٹری برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میاں محمد منیر ، پرنسپل انفارمیشن آفیسر راؤ تحسین ، انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے سینئر آفیسر شفقت جلیل اور اعجاز حسین نے بھی شرکت کی۔ مریم اورنگ زیب سے ڈنر کے دوران بھی ورکنگ جرنلسٹس کے ایشوز اور ویج بورڈ ایوارڈ پر بھی گپ شپ کا سلسلہ جاری رہا خاص کر سینئر صحافیوں سے گفتگو کے دوران جب انہوں نے کہا کہ پاکستان کا سافٹ امیج دنیا بھر میں اجاگر کرنے کیلئے انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ نے ہنگامی بنیادوں پر پلان ترتیب دیا جس کے تحت ملک سے باہر مختلف ممالک میں پاکستانی سفارت خانوں میں موجود پریس اتاشی حضرات کو ٹاسک دیا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ’’رائزنگ پاکستان ‘‘کے نام سے ایک کمپین دنیا بھر میں لانچ کر رہے ہیں جس کے تحت دنیا بھر کو بتایا جائے گا کہ پاکستان میں بہت سے اچھے کام بھی ہوتے ہیں اور پاکستان ایک ایسا خوبصورت ملک ہے جہاں پر وزٹ کرنے والے نا صرف محفوظ ہیں بلکہ وہ خوش بھی ہیں۔ میرے سمیت تمام صحافی مریم اورنگزیب کی گفتگو سن رہے تھے اور ہمیں خاصی حیرانگی اس لئے ہوئی کہ انفارمیشن منسٹری کے جو بنیادی کام ہیں ان میں سے سرفہرست یہ کام ہے کہ پاکستان کا بہتر اور سافٹ امیج دنیا میں پہنچایا جائے مگر کئی تجربہ کار وزیر رہے مگر یہ معاملہ اس سے قبل اولین ترجیح کیوں نہ حاصل کر سکا اور اب مریم اورنگزیب اسے کرنے میں کامیاب ہو جائیں گی؟ پتہ نہیں کیوں مجھے لگتا ہے کہ مریم اورنگزیب بہت کچھ کر سکتی ہیں کیونکہ ان کے دل و دماغ میں بہت کلیرٹی ہے ان کو پتہ ہے کہ کیا کرنا ہے کیسے کرنا ہے اس کیلئے ان کو جہاں سے جو پولیٹیکل سپورٹ چاہیے وہ بھی حاصل ہے۔ امید ہے کہ مریم اورنگزیب کے دل میں ملک و ملت کیلئے جو بہت کچھ کرنے کی تڑپ ہے وہ بہت جلد اپنی ان خواہشوں کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہونگی اور حکومتی ترجمانی کے حوالے سے میڈیا مینجمنٹ کے گھسے پٹے روایتی نظام کو تبدیل کر کے جدید خطوط پر استوار کریں گی کیونکہ بدلتے حالات کے مطابق آج کے میڈیا انقلاب میں پریس ریلیز کے روایتی سسٹم میں سے نکلنا پڑے گا۔

گزشتہ ہفتے لاہوری میڈیا کا ایک طرف مریم اورنگزیب کے دورہ لاہور پر فوکس رہا لیکن دوسری طرف معروف سیاسی کارکن اور پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما جہانگیر بدر اپنے اہل خانہ اور لاکھوں چاہنے والوں کو چھوڑ کر خالق حقیقی سے جا ملے۔ یہ لاہور اور پاکستانی میڈیا کیلئے بہت بڑی خبر تھی۔جہانگیر بدر سے میری ذاتی نیاز مندی کا زیادہ تر کریڈٹ ان کے فرزند علی بدر کو جاتا ہے جو میرے دوست ہیں اور میرے ساتھ ایک ٹی وی چینل پر بطور میزبان پروگرام کرتے رہے ہیں جہانگیر بدر کو ہارٹ اٹیک ہونے سے لیکر جنازہ اور پھر رسم قل پھر وزیراعظم میاں نواز شریف ، بلاول بھٹو زرداری اور پرویز الٰہی وغیرہ کی افسوس کیلئے ان کے گھر آمد کی لائیو کوریج دیکھتا رہا اور خبریں بھی پڑھتا رہا مگر پتہ نہیں کیوں مجھ میں اپنے دوست علی بدر کے سامنے جا کر ان سے افسوس کرنے کا حوصلہ پیدا نہیں ہو رہا تھا۔ میں جنازے میں گیا رسم قل کے روز گیا مگر علی بدر کو ملے بغیر آ گیا۔ آپ سوال کر سکتے ہیں کہ اس کی کیا وجہ ہے میرے پاس شائد اس کا ایک ہی جواب ہے کہ میں جب جہانگیر بدر کو ملتا تھا اور وہ جس محبت سے مجھے ملتے تھے وہ نقشہ میرے دل اور دماغ میں پوری طرح نقش ہے اور پھر علی بدر جس کو میں سال چھ مہینے میں ہی ملتا ہوں مگر جب بھی ملتا ہوں مجھے ایسا لگتا ہے کہ وہ میرے دل میں بستا ہے اور میں ہر روز اس کو ملتا ہوں ۔دنوں ، مہینوں اور سالوں کا فاصلہ میرے ان کے یا جہانگیر بدر مرحوم کے رشتے کے درمیان کبھی حائل نہیں ہوا ۔ اتوار کے روز میں نے فیصلہ کیا کہ آج ذرا رش کم ہو گا علی بدر کے پاس جایا جائے ان کو مل کر جہانگیر بدر مرحوم کی کچھ باتیں کی جائیں ۔ کچھ یادیں تازہ کی جائیں اپنے دوست احمد شفیق کے ساتھ ایک بار پھر بدر ہاؤس پہنچے تو وہاں اسی طرح رونق ، میڈیا کی گاڑیاں اور لوگ موجود تھے جیسے ان کی زندگی میں رونق اور چہل پہل ہوا کرتی تھی سب کچھ ویسا ہی تھا مگر وہ شخص نہیں تھا جس کی بدولت آج یہ چمن شاد آباد نظر آ رہا تھا۔ علی بدر معصوم سا چہرہ لئے اپنے والد محترم کی یادیں تازہ کر رہا تھا اپنے والد کے دوستوں سے جانے والے کے قصے سن رہا تھا اور اپنی خوبصورت یادیں ان سے شیئر کر رہا تھا۔ سب سے خوبصورت واقع معروف وکیل اعتزاز احسن نے یادیں تازہ کرتے ہوئے سنایا ۔ انہوں نے کہا کہ 90 کی دہائی میں محترمہ بینظیر بھٹو کا مینار پاکستان پر جلسہ تھا کچھ پارٹی رہنما جن میں مصطفےٰ کھر بھی شامل تھے بینظیر بھٹو کے پاس گئے اور انہوں نے بینظیر بھٹو کو کہا کہ جلسے کیلئے ہم نے انتظامات مکمل کر لئے ہیں بس دو کروڑ کا بندوبست آپ کو کرنا ہو گا جلسہ ہو جائیگا۔ بینظیر بھٹو کا یہ سننا تھا کہ وہ غصہ میں آ گئیں ۔

انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب ہے جلسہ پر اتنی رقم خرچ ہوتی ہے جہانگیر بدر (جے بی) نے میرے سینکڑوں جلسے کروائے ہیں اس نے کتنی رقم خرچ کی ہو گی ابھی (جے بی ) کو بلاؤ جے بی کو فوری طور پر بلایا گیا بینظیر نے ان سے مخاطب ہو کر کہا کہ یہ حضرات کہتے ہیں کہ جلسہ پر دو کروڑ روپیہ خرچ آئیگا جس پر جہانگیر بدر اپنے مخصوص انداز میں مسکرائے اور انہوں نے کہا کہ بی بی اگر یہ جلسہ کرینگے تو ایسے ہی ہو گا آپ پریشان مت ہوں جلسہ ہو جائے گا پھر جلسہ بھی ہوا اور رقم کہاں سے آئی کس نے خرچ کی کسی کو آج تک معلوم نہیں اسی جلسہ میں 40فٹ بلند اسٹیج سے جہانگیر بدر گر گئے تھے ان کو بہت زیادہ چوٹیں آئیں ۔ پیپلز پارٹی اور بھٹو خاندان سے وفاداری جہانگیر بدر کے خون میں شامل تھی۔ آخری وقت تک انہوں نے پارٹی کا ساتھ نبھایا ان کو ٹکٹ نہ دی گئی مرکزی قیادت کی طرف سے نظر انداز کیا گیا مگر اس شخص نے پی ٹی آئی سمیت متعدد پارٹیوں میں شامل ہونے کی اور پرکشش عہدوں کی پیشکشیں ٹھکرا دیں مگر اپنی سوچ اور مشن کو تبدیل نہیں کیا۔ جہانگیر بدر سیاسی کارکنوں کیلئے وہ خوبصورت اور کامیاب ماڈل ہے جس کو کوئی بھی پولیٹیکل ورکر فالو کر سکتا ہے اور اپنے سیاسی سفر کو کامیابی کے ساتھ آگے بڑھا سکتا ہے۔ ان کے صاحبزادے علی بدر میں وہ تمام اہلیت اور صلاحیت موجود ہے۔ امید ہے کہ وہ اپنے والد کی سیاسی و سماجی میراث کو لیکر کامیابی سے آگے بڑھیں گے۔

مزید : کالم