طلاق‘ گھریلو حالات‘ اولاد نہ ہونے کا رنج‘ 3عورتوں کی خودکشی

طلاق‘ گھریلو حالات‘ اولاد نہ ہونے کا رنج‘ 3عورتوں کی خودکشی

لودھراں، گگو منڈی، کوٹ ادو، دائرہ دین پناہ (نمائندگان) گھریلو حالات سے دلبرداشتہ 3 خواتین نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا لودھراں سے نمائندہ پاکستان کیمطابق موضع سمرا ء کی رہائشی عائشہ مائی جسکے دو بچے بھی تھے اس نے گھریلو حالات سے دلبرداشتہ ہوکر زہریلی گولیاں کھا لیں جسے فوری طور پر DHQہسپتال لایا گیا جہاں اسے تشویشناک حالت کے پیش نظر BVH ہسپتال بہاولپور ریفر کر دیا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہو سکی اور جاں بحق ہو گئی ۔گگو منڈی سے نامہ نگارکے مطابق چک نمبر195۔ای۔ بی کا رہائشی فاروق ڈوگر تقریباً چھ ۔سات سال قبل بسلسلہ روز(بقیہ نمبر34صفحہ12پر )

روز گار سپین میں مقیم ہے اس کی شادی رخسانہ سکنہ چک نمبر 9رسالہ میاں چنوں سے ہوئی تھی اور ان کے ہاں کوئی اولاد نہ تھی خاوند کی عدم موجودگی میں رخسانہ اپنے والدین کے پاس میاں چنوں میں رہائش پذیر تھی بتایا گیا ہے کہ گزشتہ روز فاروق نے اپنی بیوی رخسانہ کو بذریعہ ڈاک طلاق بھجوا دی جس پر وہ فوری طور پر اپنے سسرال کے ہاں پہنچی اور اپنے سسر محمد دین کی منت سماجت کی کہ فاروق سے کہو کہ مجھے طلاق نہ دے وہ بے شک دوسری شادی کر لے میں نے اسی گھر میں رہنا ہے لیکن اس کے سسر نے رخسانہ کو گھر رکھنے سے انکار کر دیا جس پر مبینہ طور پر رخسانہ نے زہریلی دوائی پی لی اور ہلاک ہو گئی دائرہ دین پناہ سے نامہ نگار کیمطابق ہیڈتونسہ بیراج گیٹ نمبر3پرمحلہ جتاں والاتونسہ شریف کے رہائشی پولیس کانسٹیبل محمدعمران قیصرانی کی28سالہ اہلیہ فرزانہ بی بی نے ساس کے رویہ سے تنگ آکردریائے سندھ میں چھلانگ لگادی جسے پٹرولنگ پولیس کے اہلکاروں نے زندہ نکال لیاتاہم خاتون2گھنٹے بعدتحصیل ہیڈکوارٹرہسپتال کوٹ ادومیں زندگی کی بازی ہارگئی پولیس تھانہ دائرہ دین پناہ نے ضروری کاروائی اورپوسٹ مارٹم کے بعدنعش ورثاء کے حوالہ کردی۔

خودکشی

مزید : ملتان صفحہ آخر