وفاقی حکومت کے زیر انتظام پیسکو بونیرصارفین کیلئے دردسر

وفاقی حکومت کے زیر انتظام پیسکو بونیرصارفین کیلئے دردسر

بونیر ) نمائندہ پاکستان (وفاقی حکومت کے زیر انتظام پیسکو بونیر لاکھوں صارفین کے لئے دردسر بن گیا ،سٹاف کی شدید کمی کی وجہ سے یہ محکمہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ۔سیاسی جماعتوں کے منتحب ممبران اسمبلی نے محکمہ کا ستیاناس کردیاہے ۔بونیر کے دور دراز علاقو ں میں اگرچہ بجلی کے کھمبے پہنچائے گئے ہے ۔مگر صارفین کو بجلی کے بلز بر وقت نہ ملنے کی وجہ سے وہ در بدر کی ٹوکریں کھانے پر مجبور ہے ۔ٹیکنیکل لاسسز کی وجہ سے محکمہ واپڈا شدید مالی بحران سے دوچا ر ہے ۔بونیر میں واپڈ ا خسار سے دوچار ہے ۔ضلع کے بعض دیہاتوں میں واپڈا اہلکار مہنیوں مہنیوں میٹرز چیک کرنے کے لئے جانا گوارہ نہیں کرتے اور بجلی بل اکر غریب عوام پر بوجھ بن جاتے ہے ۔ضلع کے سیاسی اور سماجی شحصیات نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ بونیر میں سٹاف کی کمی کو پر کرنے کے لئے میٹر ریڈرز ،اور دیگر عملہ کو بھرتی کیا جائے ورنہ یہ محکمہ بہت جلد دیوالیہ ہوجائے گا ۔واپڈا اہلکاروں کے پاس جو گاڑیاں ہے وہ بھی کھباڑ میں تبدیل ہوچکے ہے ۔ضلع میں قائم چار سو پچاس ماربل کارخانوں کے مالکان ہر ماہ کروڑوں روپے بجلی بل ادا کرتے ہے مگر ان کو کوئی سہولیات میسر نہیں ہے ۔تفصٰلات کے مطابق بونیر واپڈا میں اس وقت بارہ فیڈرز اور دو سب ڈویژن اور ایک ائیکسئین کا دفتر قائم ہے جس میں کل 74 ملازمین ہے جبکہ ضرورت کم از کم تین ملازمین کی ہے ۔بونیر سے ہرماہ صارفین کروڑوں روپے بجلی بل ادا کرتے ہے جبکہ سینکڑوں مابل کارخانوں کا بل اس سے الگ ہے ۔مہینہ گزر نے کے بعد جب بجلی بل اتے ہے تو صارفین تک پہنچنے کی بجائے دکانوں میں پڑے رہتے ہے ۔جس پر مقررہ تاریح گزر جاتی ہے اور صارفین کو دفاتر کے چکر لگانے پرتے ہے ۔ایک سروے کے دوران پتہ چلا کہ ضلع میں اکثر دیہات ایسے بھی ہے جہاں پر مہینوں مہینوں میٹر ریڈرز جاتے تک نہیں ۔بونیر میں واپڈ ا محکمہ خسار سے دوچار ہے ضلع میں سرکاری افسران کے علاوہ بااثر افراد کھنڈے ڈال کر بجلی چوری کرتے ہے ۔مگر اسکے خلاف ابھی تک کسی نے کو ئی ایکشن نہیں لیا ،واپڈا اہلکاروں کے ساتھ بجلی ٹھیک کرنے کے لئے جو گاڑیاں دی گئی ہے وہ بھی کھباڑ میں تبدیل ہورہی ہے ،ضلع کے سیاسی اور سماجی حلقوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ بونیر واپڈا میں جو اسامیاں خالی ہے انہیں جلد از جلد پر کیا جائے تاکہ عوام کو سہولیت میسر اسکے ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر