رویش خان کے قتل سے ہمارے خاندان کا کوئی تعلق نہیں،فضل منان

رویش خان کے قتل سے ہمارے خاندان کا کوئی تعلق نہیں،فضل منان

  



مہمند ایجنسی ( نمائندہ پاکستان ( مہمند ایجنسی، گزشتہ روز پشاور میں درویش خان کے قتل سے ہمارے خاندان کا کوئی تعلق نہیں۔ ان کے سوتیلے بھائیوں سے دشمنی ہے جس نے ہمارے بھائی کو بھی قتل کیا ہے۔ مقتول کے ساتھ ہمارا راضی نامہ اور اچھے تعلقات تھے۔ وہ اپنے سوتیلے بھائیوں سے ہمارے بھائی کی قتل پر بھی نا خوش تھا۔ درویش خان کے ایف آئی آر میں نامزد افراد وقوعہ کے وقت تحصیل خویزئی میں پولیٹیکل انتظامیہ کے ہدایت پر اجتماعی ذمہ داری کے تحت ہسپتال میں ڈاکٹروں کی خدمت پر مامور اور موجود تھے۔ قتل سے ہمارا کوئی تعلق نہیں پولیس کو غلط بیانی سے بہکایا جا رہا ہے۔ اعلیٰ حکام تحقیقات کریں۔ ان خیالات کا اظہار تحصیل خویزئی قوم طوطا خیل خان بیگ کے رہائشی ملک فضل منان نے ہفتہ کے روز مہمند پریس کلب میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطا ب کرتے ہوئے کیا انہوں کہا کہ اپنے علاقے میں ان کے خاندان کا نثار، نور خان اور جمال ولد رحیم جان کے ساتھ دشمنی ہے۔ چند ماہ قبل اپنے بھائیوں کی ایماء پر جمال نے ہمارے بڑے بھائی محمد رفیق کو آٹا بازار میں قتل کرکے راضی نامے کی خلاف ورزی کی۔ جبکہ گزشتہ روز پخہ غلام پشاور میں قتل ہونے والے ان کے سوتیلے بھائی درویش خان کے ساتھ ہمارا راضی نامہ برقرار تھا اور اپنے سوتیلے بھائیوں کے ساتھ ناچاقی کی بناء پر ان کا ہمارے ساتھ اچھے تعلقات تھے۔ اور نہ ہمارا درویش خان پر اپنے بھائی محمد رفیق کی قتل کی دعویداری تھی کیونکہ ہمارا مدعی معلوم ہے۔ اس لئے ہمارا اس قتل سے کوئی تعلق نہیں اور وقوعہ کے روز اور وقت ہم اپنے گاؤں میں سرکاری احکامات کی بجاوری اور خسرے سے بچاؤ کے لئے آنے والے ڈاکٹرز کی معاونت کے لئے اپنے والد ملک لعل حبیب کے ساتھ سول و سرکاری اہلکاروں کی موجودگی میں حاضر تھے۔ اس لئے ایف آئی آر میں جھوٹے بیان دے کر ہمیں پھنسانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس لئے اعلیٰ حکام تحقیقات کرے۔ کیونکہ رحیم جان خاندان میں پہلے بھی کئی آندھے قتل کے واقعات رونما ہو چکے ہیں ۔ جس کا بعد میں پتہ بھی نہیں چل سکا۔ ہوسکتا ہے درویش خان کی قتل بھی منصوبہ بندی سے ہوئی ہو۔ جس کی وجہ ذاتی عناد اور مفادات ہوسکتے ہیں مگر ہمارا اس قتل سے کوئی تعلق نہیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر