ملک بھر میں شہدائے کربلا کا چہلم آج منا یا جا رہا ہے ،سیکیورٹی کے بھر پور انتظامات

ملک بھر میں شہدائے کربلا کا چہلم آج منا یا جا رہا ہے ،سیکیورٹی کے بھر پور ...
ملک بھر میں شہدائے کربلا کا چہلم آج منا یا جا رہا ہے ،سیکیورٹی کے بھر پور انتظامات

  


لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) ملک بھر میں شہدائے کربلا کا چہلم آج منایا جائے گا۔انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی۔ کراچی اور کوئٹہ میں ڈبل سواری پر پابندی ہو گی جبکہ لاہور میں جلوس کے شرکا کی بائیو میٹرک تصدیق بھی کی جائے گی۔تفصیل کے مطابق کراچی، لاہور، راولپنڈی، ملتان اور پشاور سمیت تمام چھوٹے بڑے شہروں میں جلوس نکالے جائیں گے, شرکا کی بائیو میٹرک تصدیق بھی کی جائے گی جس کیلئے نادرا اہلکار بھی موجود ہوں گے۔

شہدائے کربلا کے چہلم کے موقع پر سندھ بھر میں موبائل فون سروس آج 12بجے سے رات 10 بجے تک بند رہے گی۔ گلگت بلتستان، پشاور، کوہاٹ، ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک میں بھی موبائل فون سروس دن 12 بجے سے بند کردی جائے گی۔ سندھ میں تمام تعلیمی ادارے بند کردیئے گئے، لیاری ایکسپریس وے شام سے بند کر دی جائےگی۔کراچی میں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی ہے،سی ویو پر خلاف ورزی کرنے والے 100 افراد کوگرفتار کرلیا گیا،پولیس نے 50 موٹرسائیکلیں بھی تحویل میں لے لیں،جیکسن کے علاقے سے 23 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔لاہور میں چہلم شہدائے کربلا کا مرکزی جلوس حویلی آصف شاہ اندرون موچی گیٹ سے برآمد ہونے جا رہا ہے۔

لاہورمیں چہلم حضرت امام حسین اور عرس داتا صاحب کا آخری روز ہے جس کی وجہ سے سیکورٹی کے سخت انتظامات ہیں،6 ہزار پولیس اہلکار تعینات کرنے کے ساتھ سی سی ٹی وی کیمروں سے چہلم کے جلوس کی مانٹیرنگ کی جا رہی ہے۔جلوس کے روٹس اور عرس کے راستوں پر 180 کیمرے نصب کیے گئے ہیں، ڈی سی او آفس میں قائم مانیٹرنگ سیل سے ان کی نگرانی کی جائے گی ۔سیکورٹی انتظامات کے تحت داتا دربار اور کربلا گامے شاہ کی طرف جانے والے راستوں کو ٹریفک کے لیے بند کرکے بیئریئر اور خاردار تار لگا دئیے گئے ہیں۔عرس کے دوسرے روز زائرین پیدل دربار کی جانب جا رہے ہیں،انہیں واک تھرو گیٹس سے گزار کر داتا دربار اور کر بلا گامے شاہ کی طرف جانے کی اجازت دی جا رہی ہے،اس موقع پر گورنمنٹ سنٹرل ماڈل سکول میں میڈیکل کیمپ لگا یاگیا ہے،داتا دربار اور کر بلا گامے شاہ کے اردگرد لائیٹس لگانے کے ساتھ جنریٹرز بھی لگا دئیے گئے ہیں،پیر کےروز لاہور میں مقامی تعطیل ہوگی۔

پشاور میں نواسہ رسول ﷺ اور دیگر شہدائے کربلا کے چہلم کے سلسلے میں آج دوسرے روز بھی مجالس منعقد اور ماتمی جلوس برآمد ہوں گے۔پشاور میں چہلم امام حسین رضی اللہ تعالی عنہہ اور دیگر شہدائے کربلا کے چہلم کے سلسلے میں آج مختلف امام بارگاہوں میں مجالس ہوں گی۔ علم و ذوالجناح کے جلوس بھی برآمد ہوں گے۔ امام بار گاہ علمدار میں پشتو مجلس کا انعقاد کیا گیا ہے۔ جس کے بعد علم غازی عباس کا جلوس برآمد ہو گا۔ اسی طرح امام بار گاہ اخوند آباد سےذوالجناح کا جلوس نکالا جائے گا جو روایتی راستوں سے گزر کر واپس اسی امام بار گاہ پر ختم ہو گا۔مرکزی شیعہ جامع مسجد کوچہ رسالدار سے بھی جلوس ذوالجناح برآمد کیا جائے گا۔ سہ پہر 3 بجے کے قریب یہ تینوں جلوس تاریخی قصہ خوانی بازار میں اکٹھے ہوں گے اور مشترکہ جلوس کی شکل میں روایتی راستوں سے گزرتے ہوئے اپنی اپنی امام بار گاہ پر ختم ہوں گے۔ چہلم کے موقع پر تقریبا ساڑھے 3 ہزار پولیس اہلکار سیکورٹی کے فرائض انجام دیں گے، اس دوران پشاور میں موبائل فون سروس معطل رہنے کا امکان ہے۔

ملتان میں حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے چہلم انتہائی مذہبی جوش و جزبہ سے منایا جا رہا ہے، اس موقع پر سکیورٹی کو فول پروف بنانے کے لئے سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔ملتان ضلعی بھر میں چہلم کے حوالے سے 23 مقامات پر مجالس اعزاءبرپا کی جا رہی ہیں جن میں 8 کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے جبکہ ضلع بھر میں 8 مقامات پر برآمد کئے جانے والے ماتمی جلوسوں میں 3 کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔ملتان میں پہلا مرکزی جلوس علمدار چوک سوتری وٹ سے برآمد ہو گا جو امام بارگاہ اللہ بخش اختتام پزیر ہو گا جبکہ دوسرا بڑا مرکزی جلوس امام بارگاہ جوادیہ سے برآمد کیا جائے گا جو امام بارگاہ شاہ شمس پہنچ کر اختتام پزیر ہو گا، 3 ہزار سے زائد پولیس افیسران اور اہلکار ڈیوٹیاں سر انجام دیں گے جبکہ جلوس کے راستوں کی کلوز سرکٹ کیمروں سے مانٹرنگ بھی کی جائے گی۔

کوئٹہ میں شہدا کربلا کی چہلم کے موقع پر شہر میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں،جلوس کے مقررہ راستوں پر رکاوٹیں لگا کر بند کردئیے گئے ہیں،کوئٹہ میں شہدا ئے کربلا کی چہلم کے مناسبت سے سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔چہلم کے جلوسوں کی سکیورٹی کےلئےپولیس فورس کے3ہزار500اہلکارتعینات ہیں، جبکہ مقررہ روٹ پرتمام دکانیں سیل کردی گئی ہیں اور روٹ سے منسلک تمام راستوں کو خاردار تاروں ، قناتوں اور ٹرک کھڑا کر کے بند کر دئیے گئے ہیں۔

مزید : قومی /اہم خبریں


loading...