بھارتی حکومت نے ذاکر نائیک کے ادارے کی ویب سائٹ بلاک کر دی ، سوشل میڈیا پیج بلاک کرنے کیلئے امریکا سے رابطے کا فیصلہ

بھارتی حکومت نے ذاکر نائیک کے ادارے کی ویب سائٹ بلاک کر دی ، سوشل میڈیا پیج ...
بھارتی حکومت نے ذاکر نائیک کے ادارے کی ویب سائٹ بلاک کر دی ، سوشل میڈیا پیج بلاک کرنے کیلئے امریکا سے رابطے کا فیصلہ

  


نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک ) بھارتی حکومت نے مذہبی سکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کے ادارے کی ویب سائٹ بلاک کر دی ۔

بھارتی میڈیا کے مطابق مودی حکومت نے بھارت سمیت پوری دنیا میں اسلام کا پرچار کرنے والے مذہبی سکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کے ادارے ”اسلامک ریسرچ فاﺅنڈیشن “ کی ویب سائٹ بلاک کرتے ہوئے سوشل میڈیا ویب سائٹس پر انکے پیجز کو بلاک کرانے کیلئے امریکی حکومت سے رابطے کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے ۔

ٹرمپ نے مسلمانوں کے خدشات دور کرنے کیلئے مشاورتی تنظیم بنانے کا فیصلہ کر لیا

بھارتی تحقیقاتی ادارے نے ہفتے کے روزمذاہب کے درمیان نفرت پھیلانے کے الزامات کو بنیاد بنا کر ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف ایف آئی آردرج کی تھی جس کے بعد مہاراشٹر میں انکے اسلامک ریسرچ فاﺅنڈیشن (آئی آر ایف )کے 10دفاتر پر چھاپے بھی مارے گئے تھے اور تلاشی بھی لی گئی ۔

مقدمے میں کہا گیا تھا کہ یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر نائیک اپنے ٹی وی چینل ”پیس ٹی وی “ پر تقاریر چلا کر مذاہب کے درمیان نفرت پھیلا رہے ہیں ۔ ذاکر نائیک ان دنوں سعودی عرب میں ہیں ۔

رم شیر زمان بیمار بچے کو اپنے ساتھ سندھ اسمبلی لے آئےکیونکہ۔۔

اس سے قبل اسی مہینے کے دوران بھارتی حکومت نے نئی دہلی میں کابینہ میٹنگ کے دوران مشترکہ فیصلے کے بعد نیشنل سیکیورٹی ایجنسی اور پولیس کی سفارشات پر آئی آر ایف پر 5سال کیلئے پابندی بھی عائد کی تھی ۔

یاد رہے بنگلہ دیش میں تحریب کاروں کی جانب سے 20سے زائد یرغمالیوں کو ہلاک کرنے کے کئی روز بعد بھارت اور بنگلہ دیش میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کی تقاریر پر تحقیقات کا آغاز کیا تھا اور یہ کہا تھا کہ ان کی تقاریر وں نے ڈھاکہ میں حملے کرنے والے 2ملزمان کو متاثر کیا ۔

تاہم اس افواہ کے بعد ذاکر نائیک نے اپنے بیان میں واضح کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”میں اس بات کو مسترد کر تا ہوں کہ میرے کسی بھی بیان سے متاثر ہو کر کوئی معصوم لوگوں کو قتل کر دے “۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی تھی تاہم ”اسلامی ریاست کا نام لیکر ہم اسلام کی مذمت کر رہے ہیں “۔

انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معصوم غیر ملکیوں کو قتل کر نے والوں کا تعلق عراق اور شام سے تھا مگر اسلامی ریاست کا نام اسلام دشمنوں کی طرف سے دیا گیا ہے ۔

مزید : بین الاقوامی /اہم خبریں