سینما گھر میں بھٹکتی سہاگن کی روح

سینما گھر میں بھٹکتی سہاگن کی روح
سینما گھر میں بھٹکتی سہاگن کی روح

  


محمد وقاص

میں اگرچہ بھوت پریت اور مافوق الفطرت اشیاء پر یقین نہیں رکھتا تھا لیکن ان نامعلوم چیزوں کے بارے میں جاننا ضرور چاہتا تھا۔ یہاں تک کہ 2004ء کی وہ شام آگئی جب اتوار کا دن ہونے کے باوجود کراچی کے بارونق بازار بھی کسی صحرا کا منظر پیش کررہے تھے کیونکہ محکمہ موسمیات کی طرف سے بادو باران کے ساتھ شدید طوفان کی پیش گوئی کی گئی تھی اس لیے لوگوں نے اپنی ضرورت کی چیزیں جمع کرنے کے بعد خو دکو اپنے اپنے گھروں میں محصور کر رکھا تھا۔

میں اس وقت اپنی ایک دوست کے چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں قالین پر بیٹھا ہوا تھا جو کہ چوتھی منزل پر واقع تھا اور جہاں سے باہر کے مناظر صاف دیکھائی دے رہے تھے۔ اس ویرانے کو دیکھ کر مجھے بڑی بے چینی ہو رہی تھی ۔چونکہ ہم لوگ خود کو بڑے بہادر سمجھتے تھے اس لیے ہم نے ویران اور اجاڑ بازاروں میں گھومنے کا فیصلہ کیا۔

جب ہم باہر سڑک پر آئے تو تیز ہو اکے چلنے سے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے کوئی ہمارے کانوں پر تھپڑ مار رہا ہو۔ اس لیے ہم نے اپنا فیصلہ بدلا اور سینما گھر کی طرف چلنا شروع کر دیا تاکہ کوئی اچھی سی مووی دیکھ کر اس اداسی کو ختم کیا جائے۔

جب ہم سینما گھر میں پہنچے تو اس وقت ہال تقریباً خالی تھا ماسوائے ان چند بچوں کے جو بالکل آخری قطار میں بیٹھے ہوئے اس مووی سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ میں نے اپنی دوست کا ہاتھ تھامتے ہوئے اگلی سیٹوں کی طرف چلنا شروع کر دیا۔لیکن اپنی دوست کے اصرار پر مجھے مجبوراً درمیان والی سیٹوں پر ہی بیٹھنا پڑا۔

ابھی مووی کا پہلا حصہ بھی مکمل نہیں ہوا تھا کہ میری دوست نے میرے ہاتھ کو زور دیکر دبایا۔ میں نے اس کی طرف دیکھا تو وہ مجھے تھوڑی خوفزدہ دیکھائی دی ۔لیکن منہ سے کچھ نہ بولی۔ اس لیے میں پھر مووی دیکھنے میں مگن ہوگیا۔

ابھی تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ وہ اچانک اپنی سیٹ سے چیختی ہوئی کھڑی ہوگئی اور مجھے میری دائیں طرف دیکھنے کا کہا۔ مجھے اس کی اس حرکت پر بڑی حیرت ہوئی لیکن چونکہ وہ سہمی ہوئی تھی اس لیے میں نے بڑی تشویش سے اپنی دائیں طرف دیکھا پر مجھے کچھ دکھائی نہ دیا۔ میں نے اس کا وہم سمجھا اور اسے بازو سے پکڑ کر دوبارہ سیٹ پر بیٹھا دیا۔ اس نے ایک خوفناک چیخ مار کر مجھے اپنے بازؤں میں زور سیدبا لیا۔

میں نے جلدی سے پیچھے مڑ کر دیکھا وہاں تو کوئی بھی نہیں تھا لیکن میں اس وقت ڈر گیا جب میں نے اپنے پیچھے بیٹھے بچوں کو غائب پایا۔ اچانک ہمارے کپڑوں پر سرخ نشان دیکھائی دینے لگے تھے ۔ یہ دیکھ کرمیری دوست نے وہاں سے جلد نکلنے کا کہہ کر لفٹ کی طرف دوڑنا شروع کر دیا ۔میں بھی بغیر کچھ سوچے سمجھے حواس باختہ ہو کر اس کے پیچھے بھاگنے لگا۔ جب ہم لوگ لفٹ میں پہنچے تو میری دوست بری طرح کپکپا رہی اور پسینے میں بھیگی ہوئی تھی۔

میں نے پوچھا’’کیا ہواہے تمہیں؟‘‘

’’ جب ہم مووی کا پہلا کچھ حصہ دیکھ چکے تھے تو اچانک مجھے ایسا محسوس ہونے لگا جیسے کوئی میری کمر پر ہاتھ پھیر رہا ہے۔ لیکن جب میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو سیٹ پر کوئی نہیں تھا ۔اس لیے میں ڈر گئی اور تمہار ا ہاتھ دبانے لگی تھی۔ پھر میں نے اسے اپنا وہم سمجھ کر ذہن سے جھٹک دیا۔ لیکن پھر تھوڑی دیر بعد کسی نے زور سے میری کمر پر دوبارہ ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا اور میں خوف سے چیخ مار کر سیٹ سے اٹھ کھڑی ہوئی تومیں نے تمہاری دائیں طرف ایک عورت کو کھڑے دیکھا جس کا آدھا چہرہ جھلسا ہوا تھا۔ سرخ کپڑوں میں ملبوس وہ عورت تمہیں گھور رہی تھی اس لیے میں نے تمہیں دائیں طرف دیکھنے کو کہا تھا لیکن شاید تمہیں وہ عورت نظر نہیں آئی تھی اس لیے تم نے مجھے بیٹھنے کو کہا اور خود دوبارہ مووی دیکھنے لگے تھے۔‘‘ وہ کہہ رہی تھی اور میں سن رہاتھا’’لیکن جب تیسری مرتبہ میں نے ڈر کے مارے تمہیں اپنی بانہوں میں دبا لیا تب بھی وہ چیز تمہارے قریب کھڑی تھی اور ہمارے کپڑوں پر سرخ نشان بھی صاف دکھائی دے رہے تھے اس لیے میں خوف سے لفٹ کی طرف بھاگ اٹھی تھی‘‘۔

اس کی باتیں سن کرمجھے بھی ڈر لگنے لگا ۔ جب ہم سڑک پر پہنچے تو باہر تیز طوفان چل رہا تھا اس لیے ہم نے ٹیکسی لی اور گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔ اس واقعہ کے بعد ہمارے ذہن میں ہزاروں سوال پیدا ہونے لگے تھے تاہم اس حوالے سے جب بعد میں اس سینما میں جانے والے لوگوں سے دریافت کیا تو بہت سے لوگوں نے ہمیں بتایا کہ چند برس پہلے اس سینما میں آگ لگنے سے ایک نیا نویلا شادی شدہ جوڑا بری طرح آگ میں جھلس گیا تھا۔وہ سہاگ رات کوہیپہلے فلم دیکھنے چلے آئے تھے۔وہ لوگوں کو مدد کے لیے پکارتے رہے ،چونکہ ہر ایک کو اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے تھے اس لیے کوئی بھی ان کی مدد کرنے نہ آیا اور وہ جان کی بازی ہار گئے ۔یہی وجہ ہے کہ سرخ کپڑوں میں ملبوس اس سہاگن کی روح آج بھی اسی سینما گھر میں بھٹک رہی ہے۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والی تحاریر لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : مافوق الفطرت