ریکھا کے روپ میں کون تھی؟

ریکھا کے روپ میں کون تھی؟
ریکھا کے روپ میں کون تھی؟

  



راجہ دلبر(کراچی)

عرصہ پہلے کی بات ہے جب پاکستان بننے ولا تھا۔ ہندوؤں اور مسلمانوں میں پاکستان بننے پر بے شمار جھڑپیں ہوتی رہتی تھیں۔ پھر آخر کار مسلمانوں کی بے مثال قربانیوں کے صلے میں پاکستان جیسا اسلامی ملک وجود میں آگیا۔ پاکستان میں جو انڈین یعنی ہندو تھے وہ ہندوستان چلے گئے اور جو مسلمان تھے وہ پاکستان آگئے مگر راستے میں مسلمانوں کو جان و مال اور عزت کی قربانیاں دینی پڑیں!۔

جو مسلمان کامیاب سفر کرکے پاکستان پہنچے انہیں میں شاہ ویز بھی شامل تھا۔ یہاں آنے والے مسلمانوں کو سرکار نے ہندوؤں کے گھر دے دیئے، شاہ ویز بھی انہی مسلمانوں میں سے ایک تھا۔

وہ جب پاکستان پہنچا اسے گورنمنٹ نے ایک بہت بڑا مکان دیا اس مکان میں ایک چھوٹا سا مندر بھی پوجا پاٹ کے لئے تھا۔ ہندوؤں نے یقیناً اس مندر کو بڑی محنت سے بنوایا ہوگا۔

شاہ ویز اکیلا تھا راستے میں اس کے گھر والوں کو قتل کر دیا گیا تھا اور اس کی بہن کو اغوا کر لیا گیا تھا اور بعد میں بہن کی لاش جنگل میں الٹی لٹکی ہوئی ملی۔

شاہ ویز نے اس گھر میں آنے کے بعد مندر گرا دیا۔ اور اس پھر نئے سرے سے گھر تعمیر کروا لیا۔ گھر مکمل ہونے میں کچھ عرصہ لگا مگر بہرحال تعمیر ہوگیا۔ شاہ ویز نئے گھر میں سیٹ ہوگیا وہ اپنی زندگی نئے سرے سے شروع کرنا چاہتا تھا اس گھر میں اس کی پہلی ہی رات تھی کہ اسے پہلی ہی رات خوفناک آوازیں سنائی دیں ۔ آوازیں ایسی تھیں جیسے کہ سینکڑوں بدروحیں مل کر بین کر رہی ہوںَ آوازیں آدھی رات تک آتی رہیں۔

جب شاہ ویز بہت پریشان ہوگیا تو وضو کرکے اس نے قرآن پاک کی تلاش شروع کر دیا! قرآن پاک کا پڑھنا تھا کہ آوازیں آنا بند ہوگئیں پھر شاہ ویز نے سکھ کا سانس لیا اور قرآن کی تلاوت کرکے سوگیا۔

اگلے دن ! دروازے پر دستک ہوئی جب دروازہ شاہ ویز نے کھولا تو سامنے ایک خوبرو تیکھے نقوش والی عورت کھڑی تھی اس نے شوخ رنگ کی ساڑھی پہن رکھی تھی اور ساڑھی کے بارڈر پر گولڈن کڑھائی والا کام ہوا تھا ۔وہ عورت حلیہ سے کم عمر لگ رہی تھی مگر وہ اچھی خاصی عمر کی تھی ۔30سے اوپر اوپر کی۔

’’جی آپ کون؟‘‘ شاہ ویز نے ابرو اچکا کر پوچھا۔

’’میں ریکھا ہوں۔ میرا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے۔ ہندو مسلم فسادات میں میرے گھر والے لقمہ اجل بن گئے ، میں اکیلی رہ گئی ہوں۔ ہندو مسلم فسادات کی وجہ سے ہندوستان جا بھی نہیں سکتی برائے مہربانی مجھے پناہ دیں ، میں آپ کی ملازمہ بن کر رہوں گی۔ بس بابو جی دو وقت کی روٹی دینا میں آپ کو شکایت کا موقع نہیں دوں گی۔‘‘

شاہ ویز کچھ دیر سوچتا رہا اسے گھر کے کاموں کے لیے کسی نہ کسی کی ضرورت تھی اور ریکھا ہندو ہونے کے باوجود صاف اردو بول رہی تھی۔ شاہ ویز کو اس پر ترس آگیا اور ایک طرف ہو کر اسے گھر میں داخل ہونے کا راستہ دیا۔ ریکھا آگے بڑھی اور گھر میں داخل ہوگئی اسے گھر میں داخل ہونے سے پہلے شاہ ویز نے کچھ بھی نہ سوچا کہ کون ہے کہاں سے ہے؟ کہاں سے آئی ہے؟ کیا کرتی رہی ہے؟ شاہ ویز کو اگلے کچھ دنوں میں کام بھی مل گیا۔ وہ پڑھا لکھا تھا کام ملنا ان دنوں آسان تھا۔

شاہ ویز نے ریکھا سے گھر کے کام کاج کرانے شروع کر دیئے اور ریکھا اس کے سارے کام کرتی رہتی۔

جب کبھی شاہ ویز چھٹی کے دن قرآن پاک پڑھتا اور وہ اگر کسی کام سے ریکھا کو آواز دیتا تو وہ کئی آوازیں دینے کے بعد بھی نہ آتی۔

ایک دن شاہ ویز نے اس سے پوچھ لیا ’’جب میں تلاوت کر رہا ہوتا ہوں تب تم بالکل بھی میرے سامنے نہیں آتی۔ آخر وجہ کیا ہے؟‘‘

’’بابو صاحب! یہ آپ کی کتاب ہے۔ مجھے اس سے بڑا ڈر لگتا ہے ہم ہندو ذاتی ہیں میں آئندہ کبھی اس کتاب کے سامنے نہیں آؤں گی بے شک آپ مجھے سو آوازیں دیں یا ایک۔‘‘

شاہ ویز کو برا تو لگا مگر وہ کچھ بولا نہیں اس نے ریکھا کو اپنے کمرے میں بھیج دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دن پر لگا کر گزرتے رہے شاہ ویز کو ملائکہ سے پیار ہوگیا۔ ملائکہ ایک اسکول ٹیچر تھی۔ وہ بچوں کو پڑھانے کا کام کرتی تھی۔ دونوں چوک پر ٹکراتے ہوئے ملے تھے اور پھر جب دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو بس دیکھتے ہی رہ گئے۔

ملائکہ اپنے باپ کے ساتھ ہندوستان سے پاکستان آئی تھی۔ اس کے باقی سارے خاندان کو ہندوؤں نے زندہ جلا دیا تھا۔ ملائکہ اور اس کا باپ ولی محمد پچھلے دروازے سے جان بچا کر بھاگ نکلے۔ راستے میں ملائکہ نے کمال مہارت سے ہندوانہ سوانگ بھرا اور جان بچانے کی خاطر ولی محمد یار نے بھی ہندو تلک ماتھے پرٹکایا۔ وہ دونوں دہلی سے آرہے تھے مگر ہندوؤں کے روپ میں انہیں نقصان نہیں پہنچایا گیا۔ پاکستان پہنچے ولی محمد ملائکہ کی جلد سے جلد شادی کردینا چاہتے تھے۔اور ایسے میں شاہ ویز کا پرپوزل اس کے لیے شاندار تھا۔ دونوں کا نکاح سادگی سے ہوا اور یوں مہینے کے اندر اندر ملائکہ ، ملائکہ شاہ ویز بن گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ملائکہ شروع شروع میں ایک ہندو عورت کو گھر میں برداشت کرنے کے لیے بالکل بھی تیار نہ تھی مگر پھر شاہ ویز نے اسے راضی کر لیا ۔ مگر شاہ ویز ریکھا کو انسانیت کے ناطے سے رکھ رہا تھا۔ پھر گھر کے معاملات بھی ریکھا احسن طریقے سے نبھا رہی تھی اور ملائکہ نے سب سے پہلے اس کی کچن سے جان چھڑا دی۔ وہ کسی غیر مذہب عورت کا کھایا ہوا کھانا کیونکر کھاتی جب کہ گھر بھی اس کا تھا۔

وقت پر لگا کر گزرنے لگا۔ ریکھا دن بدن خوبصورت ہو رہی تھی وہزیادہ تر لان کے پودوں کے پاس ملتی یا پھر کپڑے دھو رہی ہوتی اورزیادہ سے زیادہ گھر کی صفائی ستھرائی کر دیتی ریکھا گھر میں رہ کر بھی سب سے الگ ہوگئی کیونکہ ملائکہ اسے پسند نہیں کرتی تھی اور نہ کبھی اس کے کمرے میں جاتی تھی۔

ان دنوں ملائکہ امید سے ہوگئی اس نے اپنے لئے ڈلیوری تک مسلمان ملازمہ رکھ لی مگر ریکھا کو اپنے قریب پھٹکنے تک نہیں دیا۔

کچھ ماہ بعد ملائیکہ کے تین بچے ایک ساتھ ہوگئے۔ دو رحمتیں اور ایک نعمت اس کے آنگن میں ایک ساتھ اتریں۔ یعنی دو بیٹیاں اور ایک عدد بیٹا ۔اس دن ریکھا بہت بے چینی سے ملائکہ کے کمرے میں آئی تھی اور بچوں کو گود میں اٹھا کر چوما تھا۔

ملائکہ درد سے بے حال تھی ورنہ ریکھا کی اس جرأت پر اسے گھر سے نکال دیتی۔ وہ ریکھا کی یہ جرأت دیکھ نہ سکی۔

اب اکثر ریکھا بچوں کو چوری چھپے کچھ نہ کچھ کھلاتی پلاتی رہتی تھی ۔بچے تین تھے اور ملائکہ اکیلی جان۔ تین بچوں کو کہاں سنبھال سکتی۔

ریکھا کامیابی سے اپنا کھیل شروع کر چکی تھی اور شاہ ویز اور ملائکہ کو بھنک تک نہیں لگی تھی کہ اس کے بچے حرام چیزیں کھا رہے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ملائکہ نے بچیوں کے نام حوریہ، حیا رکھ دیئے جبکہ بیٹے کا نام جہان رکھ دیا۔ شاہ ویز کام میں مصروف ہوتا تھا ملائکہ بیمار تھی بچوں کی دیکھ بھال مسلم ملازمہ رحیمہ بی بی کر رہی تھی اور کچن کی ذمہ داری بھی رحیمہ سنبھال رہی تھی ایسے میں ریکھا کو آسانی سے موقع مل جاتا۔ وہ بچوں کو کبھی کبھی اپنے کمرے میں بھی لے جاتی اور بالکل اپنے بچوں کی سی خیال رکھتی۔

شاہ ویز اور ملائکہ ریکھا کے کمرے میں نہیں جاتے تھے۔ ریکھا کو گھرمیں کونے والا کمرہ دیا گیا تھا جو سب کمروں سے بڑا اور ہوا دار بھی تھا بچے رفتہ رفتہ ریکھا سے مانوس ہو رہے تھے۔

شاہ ویز کر اتنا پتہ تھا کہ ریکھا ہندو ہے اس کے کمرے میں ایک بت بھی موجود ہے اور ریکھا اس بت کے سامنے اپنی عبادت کرتی رہتی ہے۔

ملائکہ جب سنبھلی تو اس نے شاہ ویز پر زور دینا شروع کر دیا ’’ ریکھا چونکہ ہندو ہے اور اس کو برے وقت میں آپ نے پناہ دی آپ اب ریکھا کو ہندوستان بھجوا دیں۔ ورنہ دوسری صورت میں مجھے ریکھا کو گھر سے نکال دینا ہوگا۔‘‘ شاہ ویز نے ریکھا سے بات کی تو وہ ہتھے سے اکھڑ گئی۔

’’مجھے ہندوستان نہیں جانا۔ آپ کا دل اتنا چھوٹا ہے بس دو وقت کی روٹی ہی مانگی تھی آپ سے وہ بھی کھلا نہیں سکتے اس سے اچھا ہے کہ آپ مجھے مار دیں مگر میں اس گھر میں نہیں جاؤں گی۔ مجھے پتہ ہے ملائکہ بی بی کو میرا ہندو ہونا پسند نہیں ہے آئندہ میں اپنے کمرے سے بالکل بھی نہیں نکلوں گی اور اگر میں ملائکہ بی بی کی پسند کو مد نظر رکھ کر مسلمان بھی ہو جاؤں توبھی وہ مجھے پچھلی زندگی کا طعنہ دینا نہ بھولیں گی۔‘‘

شاہ ویز نرم دل انسان تھا۔ مان گیا اور اس نے ملائکہ کو بھی سمجھا دیا۔

وقت پر لگا کر ایک بار پھر گزرنے لگا وقت کا پہیہ گھومتا ہوا آگے بڑھ گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے دو سال گزر گئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ملائکہ نے پھر سے اسکول جوائن کر لیا تھا ۔شاہ ویز کی اپنی دفتری مصروفیات زیادہ تھیں اتنے سال میں بچے ریکھا سے گھل مل چکے تھے۔ وہ ملائکہ کی موجودگی میں کمرے میں بند ہو جاتی اور ملائکہ کو مہینوں اپنی صورت نہیں دکھاتی۔

شاہ ویز دفتری مصروفیات سے اکثر شہر سے باہر جاتا تھا۔ وہ رات کو کافی دیر سے گھر لوٹتا تھا۔

جب رات کا اندھیرا چھا جاتاتھا تب ریکھا کمرے سے باہر نکل کر بچوں کے کمرے میں آجاتی تھی۔ منتر پڑھنا شروع کر دیتی۔ وہ ہندی الفاظ کا استعمال کرتی۔ اس کے ہاتھ میں بڑی سی موم بتی ہوتی تھی۔ وہ فجرکی اذانوں سے پہلے اپنا عمل مکمل کرتی اور عمل کرنے کے بعد بچوں پر پھونکیں مار کر چلی جاتی۔ بچے نیند میں ہوتے بچوں کو پتہ تک نہیں چلتا۔

شاہ ویز کی ترقی ہوگئی اوروہ کام کی وجہ سے اکثر دوسرے شہروں میں آنے جانے لگا۔ کبھی کبھی رات بھی باہر گزار لیتا۔ ایک رات شاہ ویز شہر سے باہر تھا جب وہ منحوس واقعہ ہوا۔

اگلے دن شاہ ویز کو اطلاع ملی کہ اس کے بیوی ملائکہ کو کسی نے بے دردی سے قتل کر دیا ہے ۔شاہ ویز کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ لاش دیکھنے کے بعد اسکی ہمت جواب دے گئی۔

ملائکہ کا سردھڑ سے الگ تھا۔ پیٹ اورسینہ چاک۔ آنکھیں غائب تھیں ۔باقی دھڑکئی ٹکڑوں میں بٹ چکا تھا ۔ملائکہ کو اتنے برے حال میں دیکھ کر وہ چیخنے چلانے لگا ۔ریکھا پہلے ہی خوف سے تھر تھر کانپ رہی تھی۔لاش کی حالت بہت خراب تھی جیسے تیسے کرکے اسے کفن دفن کیا گیا۔

ریکھا کا بیان بڑا خوفناک تھا ۔اس نے سب کو یہی بیان دیا کہ رات کو ہولناک آوازیں آرہی تھیں جیسے بہت ساری بدروحیں مل کربین کر رہی ہوں ۔آوازیں آدھی رات تک آتی رہیں ۔پھر کچھ سائے مجھے دکھائی دئیے۔ وہ سب سائے ملائکہ بی بی کے کمرے میں چلے گئے۔ اور پھر ملائکہ بی بی کی درد ناک چیخیں رات گئے تک گونجتی رہیں۔ میں اتنا ڈر چکی تھی کہ کمرے میں نہ جا سکی۔

شاہ ویز کو ریکھا کی بات کا یقین کرنا پڑا۔ کیونکہ اس کوبھی اس گھر کی شروع کی راتوں کا علم تھا ۔آدھی رات میں ایسی بھیانک آوازیں سنائی دیتی تھیں۔

ملائکہ کی موت نے شاہ ویز کی حالت دیوانوں سی کر دی تھی اسے اردگرد کاکوئی ہوش نہیں تھا وہ اسی طرح دیوانہ بنا رہتا اگر اگلا واقعہ رونما نہ ہوتا۔

ملائکہ کے حادثے کو بمشکل چند ہفتے گزرے ہوں گے کہ ایک صبح شاہ ویز کی آنکھ کھلی تو اسے غیر معمولی سا احساس ہوا۔

لان میں دو لاشیں اس کی منتظر تھیں ۔حیا اور حوریہ کے سر دھڑ سے الگ تھے ۔ان کے پیٹ چاک کئے گئے اور دل نکالا گیا تھا ۔ان کا بھی وہی حال تھا جو ملائکہ کا ہوا تھا ۔اپنے پھول جیسے بچوں کو خون میں لت پت دیکھ کر شاہ ویز کے دل پر جیسے چھریاں چل گئیں۔

وہ کبھی حیا کو گود میں اٹھاتا اور کبھی حوریہ کو۔ ان کے معصوم وجود کو آنکھوں سے لگا کر چوم لیتا۔ اسے حیا اور حوریہ کی موت کا دکھ ملائکہ سے بڑھ کر تھا۔ ان معصوموں نے کسی کا کیا بگاڑا تھا۔

ایک بار پھر ریکھا کا وہی بیان تھا۔ شاہ ویز کو اس کے بیان سے کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ اس کے بیان سے حیا اور حوریہ واپس نہیں آسکتی تھیں۔

جہان ان بھیانک اموات سے بہت ڈر چکا تھا اور ہر وقت گم صم رہنے لگا تھا پھر ریکھا کے پاس پایا جانے گا۔

شاہ ویز کا دل ہر چیز سے اچاٹ ہوگیا تھا اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔ کہ اس کے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ آخر کیوں؟ اس نے کسی کا کیا بگاڑا ہے مگر اس کیوں کا جواب اسے عنقریب ملنے والا تھا۔

شاہ ویز بہت پریشان تھا۔ اسے بمشکل نیند آتی ۔وہ بھی قلیل وقت کے لئے ۔ایک آدھی رات میں اسکی آنکھ کھلی تو اسے کسی عورت کی کچھ پڑھنے کی آواز سنائی دی۔ وہ اٹھ بیٹھا۔ اسے آواز کی سمجھ نہیں آرہی تھی وہ عورت تیز آواز میں کچھ پڑھ رہی تھی۔ شاہ ویز آواز کے تعاقب میں چلتا ہوا ریکھا کے کمرے تک جا پہنچا ۔کمرہ اندر سے بند تھا۔ شاہ ویز نے کی ہول سے اندر جھانکا تو اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔

ریکھا نے سر کے بال کھلے چھوڑ رکھے تھے اور دوپٹہ کمر پر کس کر باندھا ہوا تھا ۔وہ جنون کی حالت میں ایک مورتی کے سامنے ناچ رہی اور بلند آواز میں کوئی منتر بھی پڑھ رہی تھی جو شاہ ویز کی سمجھ سے بالاتر تھا ۔مورتی کے سامنے اس نے آگ جلائی ہوئی تھی ۔کچھ دیر تک ریکھا مورتی کے سامنے ناچتی رہی پھر وہ مورتی کے سامنے ہاتھ جوڑ کر ساکت کھڑی ہوگئی اب وہ منترپڑھ نہیں رہی تھی۔

چند لمحے گزرنے کے بعد ریکھا نے مورتی کے سامنے پڑا ہوا تیز خنجر اٹھایا ۔خنجرکی نوک اس نے اپنی زبان سے لگائی۔

پھر جھک کر مورتی کے قدموں سے کسی بچے کو اٹھالیا۔ بچے کو دیکھ کر شاہ ویز کو ہزار والٹ کا کرنٹ ضرور لگا وہ کوئی اور نہیں اس کا بیٹا جہان تھا۔

جہان کو دیکھ کر وہ چیخنا چاہتا تھا مگر وہ چیخ نہ سکا اس کی زبان تالو سے چپک کر رہ گئی ۔وہ بہت کچھ کرنا چاہتا تھا مگر کچھ نہ کر سکا۔ وہ ساکت ہوگیا ۔ جیسے کہ پتھر کا ہوگیا۔ وہ صرف دیکھ سکتا تھا اور کچھ کر نہیں سکتا تھا۔ وہ باوجود کوشش کے کچھ نہ کر سکا وہ صرف دیکھتا رہا۔

ریکھا نے تیز دھار خنجر سے جہان کی گردن کاٹ دی ۔جہان بھی جیسے جادو کے زیر اثر تھا۔ خون کا فوراہ اٹھا اور مورتی پر پڑنے لگا ۔پھر خون میں کمی واقع ہوئی۔ ریکھا نے خنجر پھینکا اور خون پر بھوکی شیرنی کی طرح جھپٹ پڑی ۔وہ معصوم بچے کا خون کسی جوس کی طرح پی رہی تھی۔

شاہ ویز بے بسی سے سب کچھ دیکھتا رہا۔ خون پینے کے بعد ریکھا اٹھی اور خنجر سے جہان کا سینہ چاک کر ڈالا۔ جہان کے سینے سے دل نکال کر وہ چبانے لگی۔ پھر خنجر سے اس کے جسم کے کئی ٹکڑے کر دیئے۔

پھر اٹھ کر مورتی کے سامنے کھڑی ہوگئی اور وہی منترپڑھنے لگی۔ شاہ ویز کے ساکت وجودمیں حرکت پیدا ہوگئی ۔دروازہ اسنے دھکیلا تو اب وہ کھل گیا۔

شاہ ویز نے جلدی سے وہی خون آلود خنجر اٹھایا اور ریکھا کی جانب بڑا اس سے پہلے کہ وہ ریکھا پر وار کرتا۔

ریکھا پلٹی اور چیخی۔’’رک جاؤ شاہ ویز۔‘‘

’’کتیا کمینی میں تجھ کو زندہ نہیں چھوڑوں گا۔ تو نے میرے سارے گھر والوں کو مارڈالا، میں نے تجھے پناہ دی اور تو نے مجھے یہ صلہ دیا۔‘‘

’’تم میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے! بلکہ میں چاہوں تو ابھی تمہارے جسم کے سو ٹکڑے کر سکتی ہوں مگر نہیں تمہیں میرا ایک کام کرنا ہے وہ تم پر میرا قرض ہے۔‘‘

پھر ریکھا نے ایک منتر پڑھ کر شاہ ویز پر پھونکا تو خنجر شاہ ویز کے ہاتھ سے غائب ہوگیا اور فضا میں لہراتا ہوا اس کی شہ رگ پرنمودار ہوا۔

’’ہاہاہا۔۔۔میں تمہارے جسم کو ریزہ ریزہ کر سکتی ہوں مگر تمہیں میراکام کرناہے اور وہ کرنے کے بعد تمہاری زندگی کا فیصلہ کیا جائے گا۔‘‘

’’کون ساکام؟‘‘ شاہ ویز منمناتے ہوئے بولا۔اس وقت وہ ریکھا کے زیر اثرتھا۔

’’شاہ ویز تم نے اس گھر میں موجود جو مندر گرایا تھا وہ ہماری دیوی کا تھا اور مندر گرنے پر دیوی ہم سے ناراض ہوگئی ہے۔ دیوی کو صدمہ ہے کہ ملیچھ انسان نے اس کا گھر گرا کر اپنا گھر تعمیر کرلیا ہے۔ اب دیوی صرف ایک صورت میں راضی ہو سکتی ہے۔ دیوی کو تم نے ناراض کیا تھا اب تم ہی اسے راضی کرو گے تم اپنا یہ گھر گرا دو اور دوبارہ یہاں مندر تعمیر کروا دو۔دیوی خوش ہو جائے گی اور پھر شاید میں تمہاری جان بخش دوں ورنہ تمہاری زندگی عذاب بنا دوں گی۔‘‘

’’نہیں، ہرگز نہیں بے شک تو میری زندگی عذاب بنا دے بے شک مجھے بھیانک موت مار دے مگر میرا ایمان اتنا کمزور نہیں ہے کہ میں اپنا یہ گھر گراکر دیوی کا مندر تعمیر کروا دوں ۔ میں تو مر جاؤں گا مگر تیری دیوی کا مندر کبھی بھی تعمیر نہیں کراؤں گا۔‘‘

’’شاہ ویز یہ تمہیں کرنا ہی ہوگا تم نے مجھے گھرمیں پناہ دے کر بہت برا کیا تھا۔ میں چار سال سے انتظار کر رہی تھی کہ تمہیں ایک چھوٹا سا سبق ضرور سکھاؤں ۔سبق سیکھنے کے بعد تم میری بات پر غور کرو گے اور گھر گرا کر دوبارہ مندر تعمیر کراؤ گے۔ ورنہ میں بہت شکستی شالی ہوں اور تمہارے ساتھ کچھ بھی کر سکتی ہوں۔ میں دو دن بعد آؤں گی اور واپس آنے کے بعد میں یہاں تمہارا گھر نہ دیکھوں!‘‘

اور چشم زدن میں ریکھا شاہ ویز کے سامنے سے غائب ہوگئی۔

شاہ ویز کو بہت غصہ تھا۔ اسے رہ رہ کر اس وقت غصہ آرہا تھا جب اس نے اس پلید وجودکو گھر میں پناہ دی تھی۔’’ کتیا حرام زادی میں تجھے نہیں چھوڑوں گا۔ میں تجھ سے انتقام لے کر رہوں گا۔‘‘

شاہ ویز جہان کی لاش سے صبح تک لپٹ لپٹ کر روتا رہا اور پھر اگلے دن اسکو دفن کر دیا گیا۔

ریکھا دو دن کے بعد بھی نہیں آئی۔ شاہ ویز دو دن تک بخارمیں مبتلا رہا شام کی اذان جب اس نے سنی تب مسجد چلا گیا اس نے خشوع و خضوع سے نماز پڑھی۔ سب لوگ مسجد سے چلے گئے مگر وہ مسجد میں بیٹھا رہا۔ حتیٰ کہ عشاء ہوگئی ۔وہ اللہ کی یاد میں گم تھا۔ عشاء کی نماز بھی با جماعت ادا کی۔ اس کے بعد بھی اپنی جگہ پر بیٹھا رہا۔ مسجد کے امام صاحب اس کے پاس آئے سلام دعاکرنے کے بعد امام صاحب نے اسے گھر نہ جانے کی وجہ پوچھی تو شاہ ویز رونے لگا اور پھر شاہ ویز نے کھل کر امام صاحب کو ساری حقیقت بتا دی۔ امام صاحب نے اس کی ساری باتیں سنی پھر تحمل بولے۔

’’میں تمہیں ایک سورۃ بتاتا ہوں اسے یاد کر لو ۔یہ چھوٹی سی سورت ہے ۔اس میں اللہ سے آسانی اور شیطان سے بچاؤ مانگی گئی ہے۔ مصیبتیں مشکلات اللہ کی طر ف سے نازل ہوتی ہیں اور شیطان ان مشکلات کا سبب بنتا ہے۔شاہ ویز تم پر یہ جان لیوا مصیبت اس وجہ سے نازل ہوگئی کہ تم سیدھی راہ سے بھٹک گئے تھے ۔تم نے احکام الٰہی سے منہ موڑ لیا تھا اور ایک شیطان کے چیلے کو گھر میں پناہ دی تھی۔ تم نے نماز چھوڑ دی تھی اور قرآن کی تلاوت ترک کر دیا تھا تم نماز ادا کرو تلاوت کو روزمرہ کا حصہ بناؤ۔ یہ شیطانی بلائیں بھاگ جائیں گی۔تم یہ سورت ذہن نشین کر لو۔ جب وہ شیطانی عورت سو جائے تب تم نے یہی سورتاکیس مرتبہ پڑھنی ہیں اور اس عورت پر پھونک مارنی ہے۔ یہ عمل تم نے تین دن تک کرنا ہوگا اور باقاعدگی کے ساتھ نماز ادا کرنا اور دن میں قرآن کی تلاوت کرنا۔ گھر میں بھی جب صبح کے وقت فارغ ہو اسی سورۃ کا ورد کرتے رہنا۔ تین دن بعد اس عورت کی ساری طاقتیں ختم ہو جائیں گی اور پھر بغیر شیطانی طاقت کے وہ ایک عام عورت بن جائے گی ۔تب تم اس پر مٹی کا تیل چھڑک کر اسے عبرت کا نشان بنا دینا۔ جب وہ جل کر خاک ہو جائے تب اس کی راکھ دریا میں بہا دینا اور اس کمرے میں موجود مورتی کو توڑ کر ریزہ ریزہ کر دینا اور جہاں وہ غلیظ عورت رہتی رہی ہے اس کمرے کو دھو لینا ۔بعد میں بچوں سے ختم القرآن کرانا۔‘‘

امام صاحب سے باتیں کرکے شاہ ویز کے دل کا بوجھ ہلکا ہوگیا اسے اندھیرے میں روشنی کی کرن نظر آنے لگی اور وہ سورۃ کو ذہن نشین کرکے گھر چلا گیا۔ اب اسے ریکھا کا انتظار تھا۔

اور پھر آدھی رات کے وقت ریکھا آگئی۔ وہ بہت غیض و غضب میں لگ رہی تھی۔ ’’شاہ ویز میں نے تم سے کیا کہا تھا۔‘‘

’’ریکھا میں تمہاری بات ماننے کو تیار ہوں۔مگر میرے پاس اتنا سرمایہ نہیں کہ میں اتنا بڑا مندر تعمیر کر سکوں۔۔۔!‘‘ شاہ ویز کو اب جوش کے بجائے ہوش سے کام لینا تھا۔

’’ہوں یہ بات تمہاری صحیح ہے میں تمہیں سرمایہ فراہم کر دوں گی۔ ‘‘ ریکھا شاہ ویز کی بات پر خوش ہوگئی تھی۔

’’مگر ایک مسئلہ اور بھی ہے۔‘‘ شاہ ویز بولا۔

’’کیسا مسئلہ؟‘‘ ریکھا چیخی!

’’یہ ملک مسلمانوں کا ہے اگرمیں یہاں مندر تعمیر کراؤں گا تو پورے شہر اور محلے کی مخالفت کا سامنا مجھے کرنا ہوگا۔ میں چاہتا ہوں کہ میں کچھ ایسا حل نکالوں جو کسی کی مخالفت سے واسطہ نہ پڑے اور تم سے اپنی زندگی بھی بخشوالوں! مجھے ایک ہفتے کی مہلت درکار ہے۔‘‘

’’ایک ہفتے کے اندر اندر تم کون سا تیر مار سکو گے۔‘‘ ریکھا فکر مند ہو کر بولی۔

’’اگر کوئی حل نہ نکال سکا تو میں ایک ہفتے کے بعد اپنا مذہب تبدیل کر دوں گا ۔یہ میرا وعدہ ہے کہ میں کوئی نہ کوئی حل نکال لوں گا زندگی بچانے کی خاطر مجھے یہ کڑوا گھونٹ تو پینا ہی پڑے گا۔‘‘ شاہ ویز بولا۔

’’اب تم نے پتے کی بات کی۔ چلو ٹھیک ہے میں آرام کرنے جا رہی ہوں میں اپنی شکتی سے تمہیں سرمایہ فراہم کر دوں گی ایک ہفتے کے بعد تم نے گھر گرا کر مندر کی تعمیر تو شروع کروانی ہے۔‘‘ اور یہ بول کر وہ اپنے کمرے میں چلی گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسی رات شاہ ویز نے قرآنی سورۃ پڑھنی شروع کر دی اور اکیس مرتبہ پڑھ کر ریکھا پر پھونک ماری۔ صبح کی نماز پڑھی ۔پھر سارا دن وہی سورۃ پڑھتا رہا۔ سورۃ پڑھنے کی برکت سے ریکھا کا دھیان اس سے ہٹا دیا۔

تین دن گزرنے یک بعد ریکھا کی ساری خفیہ شیطانی طاقتیں ختم ہو چکی تھیں اور وہ ایک عام سی عورت بن چکی تھی۔

اس کی طاقتیں ختم ہونے کے بعد اس کا چہرہ جھریوں سے بھر چکا تھا اور آنکھوں کے نیچے بڑے بڑے حلقے نمودار ہو گئے تھے۔

صبح جب ریکھا اٹھی تو شاہ ویز کو اپنے سرپر کھڑا پایا۔ شاہ ویز کے ہاتھ میں مٹی کے تیل کا بھرا ہوا گیلن دیکھ کر اچنبھے کی حالت میں شاہ ویز کو دیکھنے لگی۔

’’کیوں میرے سر پر کھڑے ہو۔‘‘ وہ بولی۔

تجھے آئینہ دکھانے کے لیے !‘‘ شاہ ویز کے دوسرے ہاتھ میں ایک آئینہ تھا اور اس نے جھٹ آئینہ ریکھا کے چہرے کے سامنے کر دیا تو اپنی کریہہ صورت آئینے میں دیکھ کر ریکھا شدت سے چیخی۔

’’تت۔۔۔تم میرے ساتھ ایسا نہیں کرسکتے۔‘‘

’’جب تو میرے ساتھ اتنا کچھ کر سکتی ہے تو میں کیوں تیرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتا لعنتی عورت۔ تیری موت پر تیرا ساتھی شیطان بھی جشن منائے گا آج میں تجھے جہنم واصل کر دوں گا۔‘‘ اور پھر شاہ ویز نے پبلک جھپکتے تیل چھڑکنا شروع کر دیا۔

’’شاہ ویز مجھے چھوڑ دو۔ مجھے معاف کر دو میں نیک بن جاؤں گی میں کبھی کسی کو تکلیف نہیں دوں گی جیسا تم کہو گے ویسا کروں گا۔‘‘ وہ گھگھیانے لگی۔

’’اب دیر ہو چکی ہے، عادت تو بدل جاتی ہے مگر فطرت کبھی نہیں بدلتی ۔معافی اور توبہ کے دروازے بندہوچکے ہیں۔ توبہ کا دروازہ اب تیرے لئے بند ہو چکا ہے۔‘‘

شاہ ویز کو اس پر رحم آتا بھی تو کیسے ؟وہ اس کے عزیز از جان بیوی اور اس کے گلشن کے تین پھول جیسے بچوں کو بد ذات عورت نے اپنی خواہش نا تمام کے بھینٹ چھڑا دیئے تھے۔

شاہ ویز نے ا سے آگ لگا دی۔ وہ جلتی رہی۔ چیختی چلاتی رہی اسے جلتا دیکھ کر شاہ ویز کے دل میں سکون کی لہریں اتر گئیں۔ اس کے جلنے کے بعد شاہ ویز نے اس کی راکھ ایک پوٹلی میں باندھ لی اور ساتھ ہی کمرے میں موجود مورتی کو توڑ ڈالا اور پھر اس کے بعد اس عورت کی ایک ایک چیز جلا کر خاکستر کر دی اور اس کی راکھ دریا میں ڈال دی۔

اس کے بعد تین سال تک شاہ ویز نے دین کی خدمت کی پھر امام صاحب کے کہنے پر اس نے دوسری شادی ثمرین نامی لڑکی سے کی جو حافظ القرآن اور بہت بڑی معلمہ تھی ۔وہ اگرچہ غریب تھی مگر صوم و صلوۃ کی پابند تھی اور شاہ ویز کی زندگی میں بہار بن کر آگئی تھی ۔ایک سال بعد اللہ نے شاہ ویز کو چاند جیسا بیٹے سے نوازدیا۔ ثمرین نے اس کا نام سکندر رکھا۔

اب شاہ ویز کی زندگی میں ٹھہراؤ تھا سکون تھا مگر وہ اپنی پچھلی زندگی کو کبھی فراموش نہیں کر سکا اس کا اندازہ ثمرین کو اس صورت میں ہوا کہ شاہ ویز اپنے بیٹے سکندر کو کبھی کبھی بے خیالی میں جہان۔۔۔جہان کے نام سے پکار تا ور اسے چومتا رہتا۔ ثمرین یہ دیکھتے ہوئے بہت خوش ہوتی کیونکہ وہ اپنے شوہر کی خوشی میں خوش تھی۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والی تحاریر لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : مافوق الفطرت