پاکستان سے باہر رہ کر بلاول اور دوسرے لوگوں کو موقع دیا، ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری وقت کی غلطی، چین کو قریب کرکے فٹ پرنٹ بنایا : آصف علی زرداری

پاکستان سے باہر رہ کر بلاول اور دوسرے لوگوں کو موقع دیا، ڈاکٹر عاصم کی ...
پاکستان سے باہر رہ کر بلاول اور دوسرے لوگوں کو موقع دیا، ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری وقت کی غلطی، چین کو قریب کرکے فٹ پرنٹ بنایا : آصف علی زرداری

  



دبئی (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ پاکستان سے باہر رہ کر بلاول اور دوسرے لوگوں کو سپیس دی، ہو سکتا ہے کہ میری واپسی کے بعد شرجیل میمن بھی پاکستان واپس آجائے۔ ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری وقت کی غلطی ہے جس کا انہیں ازالہ کرنا پڑے گا، ہم نے چین کو قریب کرکے فٹ پرنٹ بنایا ہے تاکہ اگر پاکستان کی معیشت کو کوئی نقصان پہنچے تو اس کے بیک اپ پر کوئی موجود ہو، عمران خان انوکھے لاڈلے ہیں جو وزارت عظمیٰ مانگ رہے ہیں۔

نجی ٹی وی جیو نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ میں جلا وطن نہیں ہوں بلکہ سیاست میں ٹائمنگ بہت ضروری ہوتی ہے تب حالات ایسے تھے جب مجھے بیک سیٹ پر رہنا پڑا ، میں یہ بھی چاہتا تھا کہ بلاول کو بھی کچھ سیکھنے کا موقع ملے۔ پاکستان سے باہر رہ کر بلاول کو بھی اور دوسروں کو بھی سپیس دے رہا تھا، آئندہ چند ہفتوں میں پاکستان واپس آ جاو¿ں گا، اویس مظفر اور شرجیل میمن سے میں نے پوچھا نہیں ہے کہ وہ میرے ساتھ پاکستان واپس جائیں گے یا نہیں ، لیکن ہو سکتا ہے کہ میری واپسی کے بعد شرجیل میمن پاکستان واپس آجائے۔

ڈاکٹر عاصم حسین کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عاصم حسین انتہائی شریف النفس اور خاندانی انسان ہے یہ وقت کی غلطی ہے جس کا ان لوگوں کو ازالہ کرنا پڑے گا، وقت خود ہی فیصلہ کرے گا کہ کس کو ازالہ کرنا پڑے گا۔ مشرف کو بھی ازالہ کرنا پڑا، کبھی وہ کہتا تھا کہ ایک لات سے اِدھر ماروں گا اور ایک لات سے اُدھر ماروں گا لیکن ایک وقت ایسا بھی آیا جب وہ اقتدار میں رہنے کیلئے منتیں کر رہا تھا لیکن ہم نے مشرف کو مکھی کی طرح دودھ سے باہر نکال دیا۔ تھوڑی سی غلط فہمیاں عروج پر آچکی تھیں جس میں ڈاکٹر عاصم سافٹ ٹارگٹ تھا جس کی وجہ سے وہ نشانہ بن گیا ، میں نے جیل دیکھی ہوئی ہے اس سے گھبراتا نہیں ہوں، جو شخص جیل سے گھبراتا ہے وہ پاکستان میں سیاست نہ کرے بلکہ کسی اور ملک چلا جائے۔ مجھ پر پہلے بھی کیس ہوئے اور سب میں وعدہ معاف گواہ بھی تھے لیکن ہم نے سب کیسز کو فیس کیا اور بری ہوئے۔

پاک چین اقتصادی راہداری اور گوادر پورٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سابق صدر کا کہنا تھا کہ میری چینی وزیر اعظم سے پہلی ملاقات لندن میں ہوئی ، میں نے انہیں کہا کہ برطانیہ میں 15 لاکھ پاکستانی رہتے ہیں ، لیکن ہمارے پڑوسی ہونے کے باوجود دونوں ملکوں میں ایک دوسرے کے کچھ اتنے لوگ نظر نہیں آتے۔ میں نے اپنے دفتر میں ایک نقشہ لگایا ہوا تھا اور جو بھی چینی وفد مجھ سے ملنے آتا تھا تو انہیں پوائنٹر کے ذریعے دکھاتا تھا کہ ان کے اور پاکستان کے پورٹس کتنے قریب ہیں۔ گوادر پورٹ کی چین کو حوالگی میں سب سے بڑی مشکل بات یہ تھی کہ افتخار چوہدری نے سٹے آرڈر دیا ہوا تھا ہم نے کچھ دوستوں کی مدد لی اور افتخار چوہدری صاحب کو یہ بات باور کرائی کہ یہ قومی مسئلہ ہے جس کے بعد انہوں نے سٹے آرڈر اٹھا لیا۔ سنگاپور کے ساتھ ہماری کوئی تجارت نہیں ہے جس کی وجہ سے ہم نے 35 ملین ڈالر میں یہ بندرگاہ چین کو دی ۔ ہم نے چین کو قریب کرکے فٹ پرنٹ بنایا ہے تاکہ اگر پاکستان کی معیشت کو کوئی نقصان پہنچے تو اس کے بیک اپ پر کوئی موجود ہو۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریت کا ارتقا پارلیمنٹ میں ہوگا، کل اگر سپریم کورٹ ایک کمیشن بنادے اور اس کا کوئی نتیجہ نہ نکلے تو اس کا کیا فائدہ ہوگا۔ عمران خان ہر بال پر چھکا مارنا چاہتے ہیں تو پھر وکٹیں اڑیں گی عمران خان انوکھے لاڈلے ہیں جو کھیلنے کو چاندنی مانگتے ہیں۔عمران خان اور اعتزاز احسن پڑوسی ہیں اس لیے ان کا پرانا تعلق ہوگا اور یہی وجہ ہوگی کہ وہ اعتزاز احسن کو اچھا سمجھتے ہوں۔ بابر اعوان پروفیشنل وکیل ہے جو بھی اسے فیس دے گا وہ اس کا کیس لڑے گا، میں اس کی روزی میں کیوں لات ماروں۔

مزید : قومی /اہم خبریں